۔،۔ کرونا وائرس۔ہنگامی اقدامات،ملک بھر میں فوج طلب۔ ( پہلو۔ صابر مغل ) ۔،۔

پاکستان بھر میں حکومت کی جانب سے 24مار چ کی صبح9 بجے سے 6اپریل کی صبح 9بجے تک پاک فوج کو بلا کر ملک کو جزوی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے یہ فیصلہ ملک میں کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی صورتحال کی بنا پر کیا گیاپڑوسی ملک ایران جہاں اس وقت ہلاکتوں کی تعداد1685تک پہنچ چکی ہے بھی ہمارے لئے بے حد تشویشناک ہے اور پاکستان اس وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والا دوسرا اسلامی ملک بن چکا ہے،پاک فوج کو آئین کے آرٹیکل 245کے تحت سول حکومت نے طلب کیا ہے جس پر ڈی جی ISPRبابر افتخار نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ہنگامی حالات سے نبٹنے کے لئے فوج کو بلایا گیا ہے،پاک فوج تمام اقدامات کر رہی ہے تمام وسائل کو بروئے کار لائے جائیں گے،کور کمناڈرز کانفرنس میں بھی سول اداروں کی مدد کا بغور جائزہ لیا گیا،ڈی جی کے مطابق فوج کے طبی عملے پر بھی پہنچ رہا ہے حکومتی اقدامات کے مطابق ملک بھر میں مجموعی نقل و حمل بند رہے گی،انسولیشن سے زیادہ ضروری تعاون اور علیحدگی جو بہترین دفاع،خود اور پیاروں کو دوسروں سے دور رکھیں،مشکل اور سخت فیصلوں کی اشد اور فوری ضرورت ہے ہم ایسے حالات میں بھی ریاستی دہشت گردی کا شکار کشمیریوں کو یاد رکھیں گے،فوج عوام کے ساتھ اور شانہ بشانہ کھڑی ہے ملک بھر میں قرنطیہ مراکز میں حفاظتی اقدامات کویقینی بنایا جائے گا،اب تک ملک بھر میں 10لاکھ افراد کی سکریننگ ہو چکی ہے عوام سے گذارش ہے کہ ذمہ دار شہری بن کر ہدایات پر عمل کریں،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاافواج قوم کے ساتھ ہیں پاکستان کے لئے قومی جذبے کی ضرورت ہے آرمی چیف نے ایک ماہ کی تنخواہ بھی عطیہ کر دی،پاک فوج پہلی بار پہلی بار سول حکومت کے کہنے پر ملک بھر مین نہیں آئی بلکہ فوج نے ہمیشہ کسی بھی ناگہانی آفت پر قوم کو اکیلے نہیں چھوڑا،فوج کا بنیادی کردار ملک کی حفاظت اور ضروت کے تحت جنگ میں حصہ لینا ہوتا ہے مگر اس بار فوج پہلی بار ایک اور ہی نوعیت کی مختلف مہم میں طلب کیا گیاہے،فوجی اہلکاروں کو طلب کرنے کا رجحان ایسا ہے جو عرصہ دراز سے جاری ہے اور جاری رہے گا،فوج سے منسلک روایتی فرائض بڑی حد تک روکے جا چکے ہیں،برطانیہ میں تو فوج میں نئی بھرتی پر پابندی تک لگ چکی ہے،ں یٹو کی ڈیفینڈر یورپ نامی بین الاقوامی فوجی مشقیں محدود تر کر دی گئیں،سیلاب ہوزلزلہ ہو یا کوئی اورقدرتی آفت ہو بری،فجائی اور بحری فوج کا عملہ عام لوگوں کے ساتھ ہی نظر آیا،اس سے حاصل ہونے والے ضروری فوائد ہیں جیسے فوج میں ایسے سر گرم اور تربیت یافتہ مرد وخواتین ہوتے ہیں جن میں نظم و ضبط،ائیر بیس اور کینٹ جیسی سہولیات ہوتی ہیں جنہیں ایسے کاموں میں بر وقت استعمال کیا جا سکتا ہے،فوج کے پاس تربیت یافتہ طبی عملہ ہوتا ہے جو بہترین کردار ادا کر سکتا ہے،فوج کی مدد سے ضروری سامان کی نہ صرف نقل و حمل آسان ہو جاتی ہے بلکہ غیر ضروری نقل و حمل کو روکا بھی جا سکتا ہے،فوج میں بہت بڑا لاجسٹک سسٹم ہوتا ہے،قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیس کی تعداد محدود ہوتی ہے جن پر عمل کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے اس لئے فوج داخلی سیکیورٹی اور امن و امان کی بحالی اور دیگر تمام کاموں کی مؤثر نگارانی کر سکے گی،فوج کی تعیناتی سے عوام کے درمیان بھی اچھا تاثر جاتا ہے کہ حکومت ان کی سہولت کے لئے بہتر سے بہتر اقدامات کرتے ہوئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے،17مارچ کو وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں ایسے ہی مشکل فیصلوں کا اعلان کرنا تھا مگر کچھ مہربانوں کی وجہ سے تقریر تک کو بدل دیا گیا مشورہ یہ تھا کہ عوام پہلے ہی غربت اور خوف کا شکار ہے لہٰذا ایسے اعلان آپ نہ کریں بلکہ یہ کام صوبوں اور دیگر متعلقہ حکام پر چھوڑ دیں یہ بات بہت غلط تھی ایک وزیر اعظم حالات کا بہتر ادراک کرنے میں تاخیر کر گئے یا تو اب بھی فوج نہ بلائی جاتی نہ لاک ڈاؤن کیا جاتا اگر اسی وقت یہ سب ہو جاتا تو آج ہم شاید متاثرہ اسلامی ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر نہ ہوتے،اب وزیر اعظم نے معاشی ٹیم کے ساتھ اجلاس میں عوام کے لئے معاشی ریلیف کی منظوری دی جس کے تحت ملک بھر میں 70لاکھ دیہاڑی دار مزدوروں کو ماہانہ3ہزار روپے دیئے جائیں گے،برآمد کنندگان کے لئے 200ارب روپے کا ریلیف منظور،جلد تعمیراتی شعبے کو بھی ریلیف منظور،ملک بھر میں اشیائے خوردونوش کی وافر مقدار پر اظہار اطمینان،عمران خان نے کہا کہ ملک کو لاک ڈاؤن کا فیصلہ اس لئے نہیں کیا تھاکہ ہماری25فیصد عوام غربت کا شکار ہے معیشت کی تباہی سمیت مزید مسائل سامنے آنے کا خوف اور ہمارے پاس انتی صلاحیت نہیں کہ ہر گھر کھانا پہنچا سکیں،اب ہمیں بحیثیت قوم اس موذی وائرس سے نبٹنا ہو گاامید ہے ہم اس مشکل سے ضرور باہر آئیں گے،وائرس کے خطرے سے بچنے کے لئے فوج کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں موابئل فونز ٹریکنگ نظام کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے،یہ نظام وائرس کے مصدقہ مریضوں کی گذشتہ14روز کے دوران لوکیشنزکی شناختکرنے کا کام کرتا ہے اور میسیج کے ذریعیمتعلقہ حکام اور اس سے ملنے والے افراد کو الرٹ جاری کرتا ہے،موبائل ٹریکنگ سسٹم اس وقت سنگا پور او رتائیوان وغیرہ استعمال کر رہے ہیں،حکو تنے پہلے ہی انٹرنیشنل پروازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اب میٹرو بسیں،انٹر سٹی بسیں،بین الاضلاعی اور بین الصوبائی بسیں،ٹرینیں،تمام تعلیمی ادارے،غیر ضروری سرکاری ادارے بند اور ڈبل سواری پر پابندی،صرف مخصوص حالات میں گھر سے نکلنے کی اجازت،سودا سف خریدنے کے لئے صرف ایک فرد جا سکتا ہے،نجی گاڑی پر صرف ایک شخص کو سفر کی اجازت،سرکاری ملازمین کو دفتر جانے کا اجازت نامہ رکھنا لازم،ایک میرض کے ساتھ دو تیماردار،سودا سلف کی خریداری اپنے علاقہ میں،ضروری مذہبی رسومات جیسے نماز،نماز جنازہ،تدفین کے لئے محدود تعداد میں اجازت مگر اس پر مقامی پولیس کو آگاہ کرنا ضروری،معذور افراد کو ساتھ ڈرائیور رکھنے کی اجازت،ریسٹورنٹ سے ہوم ڈیلیوری،گراسری اسٹورز،کریانہ،بیکریاں،آٹا چکیاں،میدیکل سٹور،دودھ دہی،کریانہ،سبزی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی دکانیں،تندور،آٹو ورکشاپس،ہسپتل،کلینکس،لیبارٹریز،پٹرول پمپس،واسا،میونسپل کارپوریشنز،این ٹی ڈی سی،سوئی گیس،نجی تٰلی کمپنیوں کے دفاتر کھلے مگر ان کی فرنچائز بند،دفاعی پیداوار،پبلک سیکٹرز،ڈرائی پورٹس،کصم سروسز،ادویات بنانے والی فیکٹریاں،فلاحی ادارے،زرعی ادویات،مفت دستر خوان کھلے رہیں گیبینک سیکٹر کھلا رہے گا مگر ملک بھر میں تمام بینکوں کو مرکزی بینک کی جانب سے نئے نوٹ فراہم کر دیئے گئے ہیں جبکہ پرانے نوٹوں کو فراثیم سے پاک کرنے کا کام شروع کیا جا چکا ہے،ملک بھر میں ڈاکٹرز کی آن لائن سہولت متعارف کر دی گئی،ملک بھر کی تمام 114جیلوں میں مجموعی طور پر77ہزار275افراد قید ہیں جن میں صرف55742افرادرکھنے کی گنجائش ہے جن میں سے2192قیدی شدید جبکہ مجموعی بیمار قیدیوں کی تعداد5206ہے،اسی لئے اب تک کئی معمولی جرائم میں قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے،سزاؤں میں کمی کی گئی،آج ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے 408قیدیوں کی ضمانت منظور کی ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا14روز لاک ڈاؤن کا فیصلہ عوام کو کرونا وائرس سے بچانے اور حفاظتی اقدامات کے تحت کیا گیا،مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا،کرونا وائرس سے بچاؤ پر عوام کا تعوان حوسلہ افزا ہے امید ہے وہ ایسا طرز عمل جاری رکھیں گے یہ کوئی ہمارا ذاتی کام نہیں بلکہ عوام کی حفاظت کے لئے ہی ہے،گھر میں رہتے ہوئے اس وائرس سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے جس سے نہ صرف خود بلکہ اپنی بوری برادری کو محفوظ رکھ سکتے ہیں،اب14دن میں فوج اور سول ادارے ان تمام احکامات کو یقینی بنائیں گے،وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خورک خسرو پرویز نے بتایا کہ حکومت نے معیشت کے مختلف شعبہ جات کو کرونا وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے تیار کردہ ریسکیو پیکج کا تخمینہ 11کھرب 80ارب روپے جو ملک کی مجموعی پیداوارکا27فیصد ہے،اس پیکیج میں برآمدات،تحفظ خوراک،سماجی تحفظ کے نیٹ ورک،مالایتی مارکیٹ،چھوٹے اور متوسط کاروبار،ادویات،ضروری اشیاء،بجلی،گیس اور پٹرولیم مصنوعات شامل ہیں،ریلیف پیکج میں 2کھرب برآمد کنندگان،2کھرب یومیہ اجرت کے ملازمین،ایک کھرب چھوٹے کاروبار،2کھرب اور80ارب روپے گندم کی خریداری،80ارب کسانوں،50ارب یوٹیلٹی سٹورز،ایک کھرب20ارب غریب خاندانوں،50ارب روپے طبی عملے اور سرکاری ملازمین،50ارب پٹرولیم مصنوعات،13ارب مالیاتی مارکیٹوں،13ارب روپے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور75ارب روپے اشیائے خوردنوش کے لئے مختص کئے گئے ہیں،FBRکوخوراک اور شعبہ طب سے متعلق61اشیا پر ٹیکس میں چھوٹ کی ہدایت،گندم،دالیں وافر موجود ہیں،کل سے سندھ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نئی گندم کی خریداری کا آغاز کر دیا ہے،تیل کی قیمتوں میں 40روپے تک کمی لائی جا رہی ہے،ھکومت کی طرف سے کرونا وائرس سے متاثرہ کسی شخص کی میت کو تابوت میں دفنانے کی ہدایت کی گئی ہے،میت کو پلاسٹک میں بند کرتے ہوئے تابوت میں بند کیا جائے،غسل کے دوران استعمال ہونے والی تما م اشیا کو فوری تلف کیا جائے،غسل اور تدفین کے وقت ماسک اور دستانے بھی لازم قرار،اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزراء اعلی اور ان کی ٹیم انتہائی متحرک ہے،اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے لاک ڈاؤن کو تاخیر سے کرنے پر تنقید کی اور حکومت کو متعدد مثبت تجاویز دیں جس پر عمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،کل ہی ملتان سے29بسوں کے قافلے کو واپس بلوچستان بھیجا گیا یہ لوگ زائرین اور ایران سے پاکستان پہنچے تھے ان بسوں کے کچھ عملہ کے بھی ٹیسٹ پازیٹیو آئے،اب ہزاروں افراد قرنطیہ میں موجود ہیں قرنطیہ اطالوی زبان کے الفاظ Quoranta Giorhiکا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے 40دن تک ہر چیز سے علیحدگی،ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی میں قائم قرنطیہ میں زائرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے عالمی بینک نے 35کروڑ اور ایشیائی بینک نے23کروڑ80لاکھ ڈالرز بطور امداد دئے ہیں،سندھ بدستور سب سے زیادہ متاثر ہ صوبہ ہے،پاکستان میں اس وقت تک مجموعی مریضوں کی تعداد892ہے، دنیا بھر میں اس موذی وائرس سے لاک ہونے والوں کی تعداد6ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مریضوں کی تعدادساڑے 3لاکھ سے زائد ہو چکی ہے،سوشل میڈیا پر جاری کئے گئے ٹوٹکوں لہسن کا استعمال،زیادہ پانی پینا،گھروں میں بنائے کئے جراثیم کش محلول اور معزاٹی معدنیات سے پرہیز کیا جائے،خد کریم اس آفت ناگہانی سے محفوظ فرمائے آمین۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے