۔،۔ دنیا کورونا اور ویکسین کا پیچھا کر رہی ہے ایک مخمصے کے سامنے کھڑی ہے۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی۔ دنیا ایک کرونا ویکسینCorona-Impfstoff – کی تلاش میں ہے جو فوری طور پر سب کے لئے دستیاب ہونا چاہیئے بالکل ایسے ہی جیسے روائیتی ویکسی نیشن جس کے بہت سے محققین امیدوار ہیں،یہ عالمی وبائی بیماری اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ دو تہائی آبادی نئے کورونا وائرس سے محفوظ نہیں ہو جاتی، ایسا کرنے کے صرف دو طریقے ہیں انفیکشن یا ٹیکے اگائیں (ضرب المثل) بائیو ٹیک کمپنیاں اور تحقیقی ادارے زورو شور اور پوری لگن سے تجرباتی عمل پر کام کر رہے ہیں،تیار ہونے والی ویکسین پر پورا اعتماد اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے اور جلد از جلد بھاری مقدار میں بنانا ہو گا۔فیڈرل انسٹی ٹیوٹ برائے ویکسین اینڈ بائیو میڈیکل ڈرگس Federal Institute for Drugs and Medical Devicesکے صدر اور پاول ایرلچ انسٹیٹیوٹ Paul-Ehrlich-Instituts کے صدر کلاوز چچچوٹک Klaus Cichutekکا کہنا ہے کہ غیر فعال ویکسین تیار کرنے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہے اسی سلسلہ میں پوری دنیا میں پراجیکٹس کام کررہے ہیں۔ کیا جرمنی میں کورونا وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے، (۱) جرمنی اچھی طرح تیار ہے (۲)نہیں کورونا بہت پھیل جائے گا۔ Ribonukleinsäure شاید ویسینیشن کا سب سے زیادہ مبہم تصور ہے۔ وہ جسم کے خلیوں میں وائرس کے جینیٹک بلیو پرنٹسgenetic blueprints متعارف کرواتے ہیں اور اس طرح انفیکشن کا انکشاف کرتے ہیں اس روائیتی ٹیکے لگانے سے بڑا فائدہ ہو سکتا ہے اور یہ بہت آسانی سے بڑے پیمانے پر تیار بھی کیا جا سکتا ہے۔ TübingenCureVac AG۔ اور ہائیڈلبرگ کی فرم BioNTech تجرباتی طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔بے چین اور شدید پریشان ہوں مگر مجھے یقین ہے کہ کورونا ویسین کا بحران جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ rabies۔ پاگل کتے اور بھیڑیئے کے کاٹنے پیدا ہونے والی انفیکشن کا علاج بھی TübingenCureVac AG کا دریافت کردہ تھا، Dietmar Hoppان کا کہنا ہے کہ عنقریب(موسم خزاں میں یہ ویکسین دستیاب ہو سکتی ہے) کورونا بحران کا مقابلہ ممکن ہے۔

Dietmar Hopp

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے