۔،۔ قوم انتہائی موذی وبا کی لپیٹ اور ذخیرہ اندوز۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔


ہمارا دین دنیا کا سب سے عظیم دین ہے ہم اس نبی اکرم ﷺ کی امت میں سے ہیں جو سب سے اشرف،سب سے اعلیٰ سب سے معتبر جس پر فخر کرتے ہوئے کئی انبیاء کرام نے بھی فرمایا کاش یہ امت ان کی ہوتی،ایک بار نبی مکرم ﷺ ایک محفل میں تشریف فرما تھے کہ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جب اللہ پاک کے پاس اس کی عبادت کے لئے کروڑوں کی تعداد میں فرشتے ہیں،خدا تعالیٰ کسی کی عبادت کے محتاج نہیں تو پھر آپ ﷺ کی بعثت مبارک کی اصل وجہ کیا تھی،جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا میں صرف اور صرف دنیا میں اخلاق سکھانے،بتانے اور اس کا عملی نمونہ لے کر آیا ہوں یہی میری بعثت کا اصل مقصد ہے،ذرہ غور کیا جائے تو اخلق میں بہت کچھ آ جاتا ہے،بھائی چارہ،جھوٹ سے لاتعلقی،کسی سے دھوکہ فریب کا نہ ہونا،بعض اور چغلی کا نہ ہونا،نہ ناپ تول میں کمی،نہ ذخیرہ اندوزی،ایسی ہزاروں مثالیں ہیں وجہ تخلیق کائنات ﷺ کے آنے کے سامنے آئیں،ہم بھی ایک اس اسلامی ریاست کے باسی ہیں جس کا وجود میں آنا ہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر ہے،ہم نمازیں بھی پڑھتے ہیں،روزے بھی رکھتے ہیں،سخاوت بھی کرتے ہیں،لوگوں کے دکھ درد میں بھی شریک ہوتے ہیں، دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہمارے آقا دو جہاں ﷺ سے متعلق کوئی بات ہو تو ہم سب سے زیادہ جوشیلے اور جان قربان کرنے والے نظر آتے ہیں،مگر ہم وہی مسلمان اور کلمہ گو ہیں جو سال کے مقدس ترین ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی شیطان کی طرح آزاد ہو جاتے ہیں (یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ ہر تحریر صرف اور صرف ذخیرہ اندوز نما لعنتیوں کے لئے ہے جو بظاہر ناصح نظر آتے ہیں مگر سب سے زیادہ فاسق وہی ہوتے ہیں) نہ جانے ہم کس تہذیب کا شکار ہیں؟ ہم کن اسلام ی روایات پر عمل پیرا ہیں؟ ہماری دکانوں،گوداموں میں دو نمبر مصنوعات کی بھرمار ہے حتیٰ کہ انسانی جان بچانے والی ادویات تک،لوگ بھیک مانگ کر گذارتا کرتے ہیں،عید کے موقع پر فطرانہ کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں مگر یہ منافع خور یہ ذخیرہ اندوزجو مجموعی طور پر باریش،ہاتھ میں تسبیاں،ماتھے پر محراب،روزانہ کی بنیاد پر افطاریاں اور پتہ نہیں کیا کچھ مگر عوام کا اصل خون چوسنے والے خبیث بھی انہی میں سے ہوتے ہیں جو بندہ روزہ رکھ کر سارا دن جھوٹ بولتا ہے اس سے مزید کسی بھی بہتری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے،کرونا وائرس نے پڑوسی اور دوست ملک چین سے سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اسلامی دنیامیں پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے جہاں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے،حکومت اس حوالے سے ہمہ اقسام کے اقدامات کر رہی ہے،سارا ملک لاک ڈاؤن کیا جا چکا ہے،پاک افواج اپنی اصل ذمہ داریاں چھوڑ کر قوم کے ساتھ آن کھڑی ہوئی ہے،مگر حیرت ہے کہ یہاں کیسے لوگ بستے ہیں؟ان کی سوچ کیسی ہے؟بیماری کے آنے سے قبل آٹا اور چینی کے مصنوعی بحران پیدا کر کے عوام کے خون پسینے کی کمائی کے اربوں روپے ڈکار گئے یہ لعنت زدہ طبقہ اتنا طاقتور ہے کہ اس ملک کا چیف ایگزیکٹو ایسے کرداروں کے خلاف کاروائی کا اعلان کرنے کے باوجود بے بس ہے،جس وقت چین میں یہ وباء عام ہوئی تب ایک دوست نے پوسٹ شیئر کی کہ یہ قوم کتنتی تکلیف میں،کتنی اموات کے باوجود بھی اخلاقی اقدار کو تھامے ہوئے ہے اگر یہی صوتحال ہمارے ہوتی توسب سے پہلے یہ اس چیز کو مہنگا کریں گے جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی،اور ایسا ہی ہوا،WHOنے اسے عالمی وباء قرار دیا اور پاکستان میں اس کے کیسسز سامنے آنے لگے تو ہمارے اندر ہی شامل خبیث طبقے نے لنگر لنگوٹ کس لئے،ہر اس چیز کو غائب کر دیا گیا جو ہماری بنیادی ضروت تھی،آج ہی کی بات ہے میرے گھر کے سامنے ضلعی انتظامیہ نے آٹے کا ٹرک بھیجا حالانکہ لاک ڈاؤن کی پوزیشن ہے ایک شخص سے دوسرے شخص کو بیماری کا اندیشہ ہے،اس کے باوجود لوگ قطار در قطار آٹے کے حصول کے لئے ذلیل ہوتے رہے بعد میں مجھے ایک دوست نے بتایا کہ نئی گندم کی آمد قریب قریب ہے اس کے باوجود یہ بات عوام تک پھیلا دی گئی ہے کہ دو روز بعد آٹے کی قیمت دوگنا ہو جائے بلکہ شاید یہ دستیاب بھی نہ ہو،دنیا کی تاریخ میں کئی سال بعد آنے والی اس بد ترین وباء پر ہمیں بطور مسلمان انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا،کئی افراد غریب افراد کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہوئے بہت کچھ عطیہ کر رہے ہیں مگر ان کا غریبوں کو کیا گیا،در حقیقت ان عطیات جات کے اصل کے حق دار تو یہ ذخیرہ اندوز اور غریبوں کی زندگی کو مزید عذاب بنانے والے بد بو کردار ہیں جن کی سوچ ہی انتہائی تعفن زدہ ہے،وہ اسی تعفن سے پورے معاشرے کے لئے کرونا جیسے ناسور کی شکل اختیار کر چکے ہیں،خدا ہماری عوام کو کرونا سے تو بچائے مگر ان سے کون بچائے گا؟ہمارے قوانین ہی اتنے فرسودہ اور کسی مذاق سے کم نہیں کہ اگر کوئی کیمیکل ملا دودھ،مردہ جانوروں کا گوشت،ملاوٹ کرنے ولا،گراں فروش یا کوئی ذخیرہ اندوز قانون کی گرفت میں آتا ہے تو اس کے لئے دفعات ہی ایسی ہیں کہ وہی خبیث دوسرے روز ضمانت کر ا کر پھر اسی مکروہ دھندہ میں مصروف ہو جاتا ہے،مزید شرم ناک بات تو یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد شرفاء سب سے زیادہ انہی کے سفارشی ہوتے ہیں،باقی بات رہی ضلعی انتظامیہ کی تو وہاں منتھلیاں زندہ باد،عوام جائیں بھاڑ میں،وہ اپنے دفاتر سے نکلنا تک پسند نہیں کرتے،ہم انتی خرافات کا شکار ہو چکے ہیں جن کی تعداد لاتعداد ہے،ہماری انتظامیہ،ہماری پولیس مجموعی طور پر ہمیشہ کچھ مخصوص عناصر کے نرغے میں رہتی ہے،چند ماہ قبل ایک سابق اسسٹنٹ کمشنر جہاں بھی سرکاری دورے پر جاتے وہ بیٹھتے پرائیویٹ گاڑی میں اور ان کی خالی گاڑی پیچھے پیچھے ہوتی جب ماحول ہی ایسا بن جائے تب بہتری کی بھلا توقع کی جا سکتی ہے،اس وقت عوام بہت پریشان ہے ایک کرونا وائرس سے اور دوسراکرونا وائرس کے ان بھائی مندوں سے،خدارا ایسے عناصر کے خلاف سخت ترین کاروائی اور وہ بھی ہنگامی بنیادوں پر کی جائے،یہ حرام خور طبقہ پہلے سے ہی مجبور و مقہور طبقہ کو مزید دلدل میں دھکیلنے میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے اور اب اس سے بھی زیادہ،ان کو لگام ڈالنے کیلئے بھی کاش فوج کو ہی اختیارات مل جائیں کم از کم ایمرجنسی کے دنوں میں ہی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے