۔،۔ آسمانی بلاوُں اور وبائی امراض سے صرف خُدا کی ذات بچا سکتی ہے۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ زندگی ایسی نعمت ہے جو صرف ایک بار ملتی ہے اس کے بعد آپ کی روح میدان حشر سے پہلے دوبارہ جسم میں لوٹ کر نہیں آتی،اللہ تعالی کی طرف سے ہر جاندار کو ایک متعین زندگی ملی ہے غیر مسلم یہ بھی کہہ دیتے ہیں یہ ایک حادثاتی موت ہے اگر نہ ہوتی تو میں اور بھی زندہ رہتا، اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے مسلمانوں کو بتایا کہ جس وقت تم مرتے ہو تمہیں لگتا ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ ہے مگر حقیقت میں تمہیں اُسی وقت مرنا تھا اس سے ایک سیکنڈ پہلے یا بعد میں نہیں، یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک شخص نے کسی کا قتل کر دیا تو مقتول کو اسی وقت مرنا تھا اس کی تو زندگی ہی اتنی لکھی ہوئی تھی قاتل نے وہی کام کیا جو پہلے سے لکھا ہوا تھا،کیا قاتل کو پتہ تھا کہ اس نے اسے قتل کرنا ہے یا نہیں جس کا مجاز نہیں تھا،چلتا پھرتا ہنستا کھیلتا انسان جو دیکھنے سے پتہ چلتا تھا کہ اس نے مزید زندہ رہنا ہے جوانی اس کے بعد بڑھاپا تب جا کر اس کی موت واقع ہونی تھی،قاتل نے کیا کیا ہنستے کھیلتے انسان کی زندگی چھین لی تقدیر اللہ کے علم کا نام ہے،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب بچے میں روح پڑتی ہے تو ایک فرشتہ لکھ دیتا ہے کتنے گھنٹے،کتنے دن کتنے سال اس نے جینا ہے،کہتے ہیں حضرت سلیمانؑ کے دور میں موت کا فرشتہ حاضر ہوا وہاں کھڑے ایک شخص کو گھور گھور کر دیکھنے لگا پھر چلا گیا اُس شخص نے حضرت سلیمانؑ سے پوچھا یہ کون ہے انہوں نے جواب دیا یہ موت کا فرشتہ ہے تجھے دیکھ رہا تھا اس نے فوراََ سوچا یہ میری روح نکالنے آیا تھا ابھی پھر آ جائے گا اور میری روح نکال لے گا اس نے فوراََ حضرت سلیمانؑ سے عرض کی آپ ہواوُں کو حکم دیں کہ وہ مجھے ہندوستان پہنچا دے حضرت سلییمان نے ہوا کو حکم دیا ہوا اسے اُٹھا کر لے گئی تھوڑی دیر کے بعد حضرت کو اطلاع ملی اس شخص کا ہندوستان میں انتقال ہو چکا ہے حضرس سلیمان نے موت کے فرشتے سے پوچھا تو اسے گھور گھور کر کیوں دیکھ رہا تھا موت کے فرشتے نے کہا اللہ نے مجھے حکم دیا تھا فلاں مقام پر اتنے بجے اس بندے کی روح قبض کرنی ہے میں دیکھ رہا تھا کہ یہ یہاں کیا کر رہا ہے اس کو تو کچھ وقت میں وہاں ہندوستان ہونا چاہیئے میں سوچ رہا تھا خواہ وہ کتنے ہی تیز رفتار گھوڑے پر سفر کرے اس وقت تک تو یہ وہاں نہیں پہنچ سکتا،بعض دفعہ آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں کیوں کہ موت اسی کے ہاتھ ہونی تھی کیا ڈاکٹر کے پاس آپ مرنے کے لئے جاتے ہیں تم کہیں بھی چلے جاوُ موت تم کو ڈھونڈ لے گی،پکڑ لے گی،اگر ہم موت سے بھاگیں گے تو موت ہی کی طرف بھاگیں گے متعین وقت پر مرنا ہے اور یہ حقیقت ہے،یقیناََہمارے مرنے تک ہماری حفاظت موت ہی کرتی ہے۔ حکومت وقت نے جو تدابیر وبائی مرض سے بچنے کے لئے بتائی ہیں ان پر عمل کریں احتیاط برتیں اپنے اور اپنے گھر اور دوسروں کا خیال رکھیں اللہ تعالی آپ کو اپنی امان میں رکھے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے