۔،۔کرونا یا عذاب قدرت۔اے آر اشرف۔،۔

یہ ایک حققت ہے کہ دنیا ظُلم و بربریت کی ایسی دلدل میں پھنس چکی ہے جہاں انسانوں کا اس بے دردی اور سفاکی سے خون بہایا جا رہا ہے کہ مجبور،بے بس اور ظُلم و بربریت کی چکی میں پسنے والے طبقات کی آہوں اور سسکیوں نے اس قادر مطلق کے غضب کوآخر کارمجبور کر ہی دیا کہ وہ اپنے مظلوم اورمجبور بندوں پر ہونے والی ناانصافیوں کا اُسی طرح انتقام لے جیسے اس نے بنی اسرائیل پر ہونے والے ظُلم کا فرعون مصر سے حساب لیا تھا۔دنیاوی خداؤں نے اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطرپسماندہ قوموں کے مُنہ سے نوالہ تک چھین لیا ہے اور اب اُنہیں پراکسی جنگوں کا ایندھن بنا کر خود اپنے مہلک ہتھیاروں کی فروخت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں بدقسمتی سے عراق،شام،یمن،لبنان، افغانستان کے علاوہ بہت ساری دوسری پسماندہ اقوام بھی ان دنیاوی خداؤں کے لگائے زخموں سے مضروب ہوئی ہیں مگر حرف شکائت مُنہ پر لانے سے بعض وجوہات کی بنا پرمجبور نظر آتی ہیں ورنہ تو ایسا معلوم ہونے لگاتھا کہ اقوام عالم دوبارہ پتھر کے دور میں منتقل ہو رہی ہے ویسے یہ رب العزت کی سُنت رہی ہے کہ جب جب بھی ظُلم اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو قدرت کی بے آواز لاٹھی حرکت میں آ کر وقت کے فرعونوں، نمرودوں،شدادوں اور یزیدوں کا دماغ درست کر دیتی ہے۔قانون قدرت میں ظُلم کرنے والا اور ظُلم کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے والے بھی یکساں مجرم تصور کئے جاتے ہیں۔کرونا وائرس کا عذاب اُن ہی مظالم کی سزا ہے ان دنیاوی خداؤں نے اپنی اس شیطانی جبلت کے تحت نہ صرف انسانوں کو غلامی کی زنجیروں میں جھکڑنے کی تدبیروں میں مصروف ہیں بلکہ انسانیت کے خاتمے کیلئے مہلک ہتھیاروں کی تیاری میں کھربوں ڈالڑ خرچ کر رہے ہیں اور دنیا کے سُلگتے مسائل کے معاملے میں اپنی دائمی بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہم ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ جرمنی کے نازیوں کی طرح اسرائیل اور بھارت نے بھی اس وقت کے ڈکٹیٹر ہٹلرکی روش اپناتے ہوئے اسرائیل نے فلسطین میں، بھارت نے کشمیراور اندرون بھارت میں اقلیتوں پر حصوصاََ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اُنکی بہو بیٹیوں اور ماؤں بہنوں کی اُنکی آنکھوں کے سامنے عزتیں پامال کی جاتی ہیں اُنہیں زبردستی تشددکر کے ملک چھوڑنے یا ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میں اُنکا خون انتہائی بے دردی اور بے رحمی سے بہا دیاجاتا ہے جسے دیکھ کر اجل بھی آنسو بہائے بنا نہیں رہ سکتی۔دنیا پر حکمرانی کے جنون اورسُپرطاقت بننے اوردنیا کو محکوم بنانے کے شوق میں ملوث قومیں کھربوں ڈالڑہر سا ل ایٹم بموں اور ہائیڈروجن بموں اور ان جیسے مزید مہلک ہتھیارتیار کرکے دنیا کی تباہی کا موجب بن رہی ہیں اور پھر امریکہ نے توجاپان کے شہروں۔ہیرو شیما اورناگا ساکی پر ایٹم بم برسا کر اپنی برتری کا عملی ثبوت بھی مہیا کر دیا تھا اسی طرح بہت ساری امریکہ جیسی دوسری اقوام جو بڑی طاقت بننے کے جنوں میں پُرامن دنیا کو جہنم بنانے پرتلی بیٹھی ہیں۔گزشتہ تین دہائیوں کااگر غیر جانبداری سے جائزہ لیاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان نام نہاد سُپرطاقتوں نے ظُلم و بربریت کی ایسی ایسی داستانیں رقم کی ہیں جسے تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرے گی اور پھرنائن الیون اوردہشت گردی کی جنگ نے توہزاروں نہیں لاکھوں معصوم اور بیکس انسانوں کو ناکردہ گناہوں کے جُرم میں موت کی نییدسلا دیا تھا۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتااو ر پھرسُپر طاقتوں کے سینوں میں تودل کی جگہ ایٹم اور ہائیدروجن بم نصب ہوچکے ہیں اور وہ ا پنے مفادات کے حصول کیلئے گدھے کو بھی باپ مان لیتے ہیں جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تواسکی طوفانی کفیت کو روکنے کیلئے ان ہی بڑی طاقتوں نے عراق کے سابق صدرمرحوم صدام حسین کوایران سے جنگ کرنے پر آمادہ کرلیا پھر وہاں لاکھوں انسانوں کا خون بہا نے کے بعداُسی صدام کواُنہی طاقتوں نے اُسے نشان عبرت بھی بنا ڈالا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کی سفاکی کو دیکھ کرہلاکو اور چنگیز خان جیسے جابروں کی روحیں بھی قبروں میں کانپ اُٹھی ہونگی مگر اقوام عالم کی مجرمانہ خاموشی اور بے حسی اور بے رخی کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری اقوام عالم بھی اس گھناونے کھیل میں برابر کی شریک ہیں۔ اقوام متحدہ جس کی تشکیل ہی دنیا کے متنازعہ مسائل کے حل کیلئے کی گئی تھی اُسکی کارکردگی انتہائی مایوس کُن رہی بلکہ یہ ادارہ بڑی طاقتوں کی رکھیل بن چکا ہے اس میں اتنی سکت نہیں کہ بڑی طاقتوں کو نکیل ڈال سکے اگر اس ادارے کو اپنی ذمہ داری کا ذرا بھی احساس ہوتا تو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضہ،ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں پر ہونے والے ظُلم و ستم کا فوری حساب لینے کیلئے کوئی عملی اقدام کر چکی ہوتی۔کرونا وائرس خداِ عزت برتر کی طرف سے ایک عذاب بن کر نازل ہوا ہے جس نے محمود و آیاز کو ایک صف میں کھڑا کر کے اپنے گھروں تک محدود کر دیا ہے اور دنیاوی خداؤں کووارنگ دے رہی ہے کہ وہ کمزور اور مظلوم انسانوں کا استحصال کرنا چھوڑ کر عدل وانصاف کی راہ اختیا ر کریں ورنہ فرعون کی طرح غرق ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے