۔،۔”عراق میں چھ ماہ بعدنئے وزیراعظم کاتقرر“۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی۔،۔
کم و بیش پانچ یاچھ ماہ بعد نئے عراقی وزیراعظم کاتقررہوگیا۔اکتوبر2019مین ملک بھرمیں وسیع پیمانے پر مظاہروں کے نتیجے میں اس وقت کے عراقی وزیراعظم عادل عبد المہدی نے 29نومبر 2019کواستیفی دے دیاتھااور یکم دسمبر2019کو عراقی قانون ساز داروں نے ان کااستیفی باقائدہ طورپر منظورکرلیا۔عادل عبدالمہدی عراق کے طاقتورشیعہ گروہ ”سپریم اسلامی عراقی کونسل“کے سرگرم رکن تھے۔ان کے مستعفی ہونے کے بعد سے مملکت عراق کایہ اہم ترین منصب خالی تھا۔عراقی قانون ساز ادارے نے جمعرات 14مئی 2020ء کواکثریت کے ساتھ جناب مصطفی الکاظمی کوریاست کا نیا وزیراعظم مقررکیاہے۔9اپریل 2020ء کو عراقی صدر ”برہم احمد صالح“نے مصطفی الکاظمی کانام برائے وزیراعظم تجویز کیاتھا۔ان کے مقابلے میں گزشتہ پارلیمان کے دو اراکین،محمدتوفیق علاوی اورعدنان الزرفی تھے لیکن صدر کے حمایت یافتہ مصطفی الکاظمی ہی اکثریت کااعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے جس کاعراق کے حکومتی ٹیلی ویژن نے اعلان کردیا۔عراقی قانون ساز ادارے میں ایرانی حمایت یافتہ گروہ ”ائتلاف الفتح“نے بھی مصطفی الکاظمی کی حمایت کی۔جبکہ اس انتخاب سے ایک ماہ قبل ”کتائب حزب اللہ“جو شیعہ ملیشیہ ہے اورایران سے قریب تر ہے اس کی طرف سے ایک بیان میں کہاگیاتھا کہ مصطفی الکاظمی کے ہاتھ حزب اللہ کے راہنما ”ابومہدی المہندس“ اور ایرانی جرنیل ”قاسم سلیمانی“کے خون سے رنگین ہیں۔اپنے انتخاب سے قبل پارلیمان میں تقریرکرتے ہوئے مصطفی الکاظمی نے کہاکہ وہ مسائل کو حل کرناچاہتے ہیں انہیں طول نہیں دیناچاہتے،انہوں نے برسراقتدارآکر جلد نئے انتخابات کابھی وعدہ کیااور یہ بھی کہاکہ وہ سرزمین عراق کو دوسرے ملکوں کے درمیان میدان جنگ بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔مصطفی الکاظمی کے ساتھ ان کی کابینہ کے وزیرداخلہ،وزیردفاع،وزیرخزانہ اوروزیربرقیات کا تقرر بھی اکثریت کی بنیادپر ہو چکاہے۔جب کہ وزیرخارجہ اور وزیر تیل کی تقرریاں بھی تاخیرکاشکارہیں اور پارلیمان نے مصطفی الکاظمی کے تجویزکردہ وزیرتجارت،وزیرانصاف اور وزیر زراعت کے نام مسترد کر دیے ہیں۔اس طرح مجموعی طورپر 22میں سے پندرہ وزرا مملکت کے نام طے ہو چکے،دو ابھی زیرغورہیں اور باقیوں کے نام مسترد ہو گئے۔نئے وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے اپنے پہلے بیان میں کہاہے کہ عراق کادفاع اور استحکام ان کی اولین ترجیحات ہیں۔نئے حکومتی سربراہ اس سے قبل عراقی خفیہ ادارے کے سربراہ تھے اور انہوں نے بطور صحافی بھی انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ دن گزارے۔انہوں نے یہ منصب ان حالات میں سنبھالاہے کہ جہاں ملکی حالات دگرگوں ہیں وہاں خود حکومت بھی مکمل طورپر اپناوجود نہیں رکھتی۔کابینہ کی متعدد نشستیں خالی ہیں اور گزشتہ وزرااور نئے امیدواروں میں سے بھی متعدد کو انکار کردیاگیاہے۔عراقی ذمہ داران نے اس بات کااظہارکیاہے کہ مصطفی الکاظمی کی شخصیت ایران اورامریکہ دونوں کے لیے قابل قبول ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق امریکی وزیر (Mike Pompeo)مایک پومپیونے نئے عراقی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اوران کی حکومت کے لیے نیک خواہشات کااظہارکیاہے۔امریکی وزیر نے نئے عراقی وزیراعظم کے لیے 120دنوں تک ایران سے تجارت کی پابندی بھی اٹھانے کاکہاہے تاکہ عراقی نئی حکومت کو کچھ استحکام میسر آسکے۔ترپن سالہ ”مصطفی الکاظمی“1967ء میں عراق کے دارالحکومت بغدادمیں پیداہوئے۔انہوں نے عراق کے مشہور تعلیمی ادارے ”کلیۃ التراث الجامعہ“سے اپنی قانون کی تعلیم مکمل کی۔یہ بغدادکی ایک نجی جامعہ ہے جو پہلے کالج کادرجہ رکھتی تھی لیکن بعد اسے یونیورسٹی کامقام مل گیا۔عراق میں یہ صدر صدام حسین کازمانہ تھا اور مصطفی الکاظمی آمریت اور آمرانہ نظام حکومت کے سخت خلاف تھے۔خاص طورپر صدر صدام حسین کی انہوں ڈٹ کر مخالفت کی۔اس مخالفت کے ساتھ چونکہ عراق میں رہناممکن نہیں تھا،کیونکہ جملہ اسلامی ممالک کی یہ آمریت عالمی کفروشرک اور ظلم و استبدادکوتو بخوشی قبول کرتی ہے لیکن کسی ہم وطن کی تنقید برداشت نہیں کرتی۔بلاشبہ امت مسلمہ پرطاغوت کے مسلط کردہ جابروآمرحکمرانوں نے آج مسلمانوں کوبدحالی کے اس درجہ تک پہنچادیاہے۔پس 1985ء سے مصطفی الکاظمی کو ہجرت کرنی پڑی اور وہ پہلے ایران پھرجرمنی اور پھر برطانیہ میں کافی عرصہ تک خود ساختہ جلاوطنی کاٹتے رہے اوربرطانیہ کی شہریت بھی حاصل کرلی۔اس دوران انہوں نے عراق کی کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیارنہیں کی۔2003ء میں عراق کے اندر امریکی فوجی کاروائی کے دوران وہ عراق واپس آئے اور ”عراقی میڈیا نیٹ ورک“کے نام سے اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھیں۔2003اور2010کے دوران وہ ایک ایسی تنظیم کے سرکردہ رکن اورپھرسربراہ رہے جس نے صدام حسین حکومت کے جرائم،مظالم اور بدعنوانیوں سے متعلق دستاویزات اور فلمیں بھی حاصل کیں۔اس مقصد کے لیے انہوں نے اس تنظیم کے اراکین کو عراق سمیت پوری دنیامیں بھیجاتاکہ مستند معلومات حاصل کی جاسکیں۔وہ چونکہ صحافی تھے اور بطورمدیر بھی متعدد مجلوں میں کام کرتے رہے اس لیے انہوں نے یہ معلومات اپنے کالموں میں کتابوں میں شائع بھی کردیں۔بطورصحافی انہوں نے اپنا قلمی نام ”الکاظمی“رکھاتھا۔2010ء سے 2013ء تک مصطفی الکاظمی ”عراق نیوزویک میگزین“کے مدیراعلی بھی رہے۔عالمی امور میں دلچسپی کے باعث انہیں جون 2016ء میں عراقی حکومت کے خفیہ ادارے ”جھازالمخابرات الوطنی العراقی (INIS)“میں لے لیاگیا۔اس ادارے میں انہوں نے نئی اصلاحات کیں اور اس ادارے کی معلومات کو وقیع اور معتبر بنانے کے لیے عصری خطورپر استوار کیا۔خارجہ اور داخلہ دونوں سطحوں پر ان کے ادارے میں اپنے وطن کے لیے خاطر خواہ خدمات پیش کیں۔خاص طور پر داعش کے خلاف ان کے اس خفیہ ادارے کی خدمات کو عالمی طورپر بھی سراہاگیا۔مصطفی الکاظمی سے قبل پانچ ماہ تک ریاست عراق کا یہ اہم ترین منصب خالی رہا اور ڈھیلی ڈھالی کابینہ صدر مملکت کے ساتھ مل کر حکومتی امور سرانجام دیتی رہی۔2003ء میں امریکی فوجی اقدام کے بعد عراق اس حد تک مفلوج ہو گیا کہ اس کے پاس قیادت ہی باقی نہ رہی۔اس سے قبل صدام حسین کی بدترین آمریت نے ملک کے اندر حبس قائم کررکھاتھااورکسی بھی متبادل قیادت کاراستہ روکے رکھا۔بدترین آمریت اور امریکی فوجی مداخلت کے بعد عوام نے اپنے ملک کو تباہ و برباد ہوتے اور اپنی ہی قوم کے نوجوانوں کو خاک اور خون میں لت پت ہوتے دیکھا۔ان حالات میں اس قوم کا عزم اجتماعی کس حد تک زخمی اور بوسیدہ ہو چکاہوگا اس کا تصور ہی محال ہے۔ایسے میں مملکت کے جملہ ادارے اپنے کام کس حد تک کر پاتے ہوں گے؟؟تعلیم وتربیت کانظام کس حد تک اطفال قوم کی تدریس و آموزش کا فریضہ سرانجام دے پاتاہوگا؟؟عدل و انصاف کا ترازوکس حد پوراپورا ناپ تول کر پاتاہوگا؟؟کارخانے،صنعت و حرفت وزراعت اور کاروباربازار کس حد اپنی مصنوعات وپیداوارو منافعات حاصل کرپاتے ہوں گے اور رفاہ عامہ کے کام،مفادات عامہ کاتحفظ اور امن و امان کی کیا صورتحال ہوگی؟؟ان سوالوں کا جواب سوچ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالی نے اپنی کتاب مقدس میں قوموں سے خطاب کیاہے،جب قومیں اپنے اوپر ظالم،جابر،قاہراور بدکارحکمران برداشت کرتی ہیں،ان کاساتھ دیتی ہیں،ان کے کرتوتوں میں سانجھی بن جاتی ہیں اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کرتیں تو قدرت بہت سخت انتقام لیتی ہے پھر دانے کے ساتھ سب کچھ پس جاتاہے،پھر صرف فرعون غرق نہیں ہوتا اس کے ساتھ آل فرعون بھی غرق ہو جاتے ہیں اورخدائی غیض و غضب ایسی اقوام پر پوری قوت سے ٹوٹ پڑتاہے۔عراق کے نئے وزیراعظم بنیادی طورپر سیاستدان نہیں ہیں،گویاان کے لیے یہ بہت بڑاامتحان ہے کہ وہ کس طرح اپنی ملک و قوم کو اس گرداب سے باہر نکالتے ہیں۔ان کے سامنے ان ہی کے ملک کی تاریخ میں اور انکے شرق و غرب میں سبق حاصل کرنے کے لیے بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں سیکولرازم،لبرل ازم،نیشنل ازم،وطنیت پرستی اور مغربی تہذیب کی اندھادھند پیروی نے قوموں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑاکیاہے۔شاندارماضی کی حامل امت مسلمہ کے حکمران آج اسلامی نظریہ حیات کو چھوڑ کرسوشل ازم،کیمونزم،کیپٹل ازم،فاش ازم،خاندانی نظام حکمرانی اورفردواحد کاآمرانہ نظام اقتدارکے پیچھے چل پڑے ہیں جس کے نتیجے میں شام،فلسطین،عراق،افغانستان اور نہ جانے کتنی کتنی مسلمان بستیاں تاخت و تاراج ہوکرعبرت کانشان بن گئی ہیں۔سودی نظم معیشیت اور مغربی تہذیبی بے راہ روی نے امت مسلمہ کامعاشی و اخلاقی دیوالیہ نکال دیاہے۔عراقی نئی قیادت سے امت کی توقع ہے کہ وہ مسلمانوں سے خیرخواہی کے فیصلے کرے گی اور یہودونصاری کواپنادوست نہ ہی سمجھے گی اور نہ ہی بنائے گی۔مسلمانوں کی قیادت کی کامیابی مسلمانوں کی ہی خیرخواہی سے ممکن ہے جس کی بہترین تماثیل اسوہ حسنہﷺ اور خلافت راشدہ ہیں۔اغیار کی خیرخواہی سے کبھی اپنوں کا بھلانہیں ہو سکتا۔نئی عراقی قیادت اگر اتحادامت کو داخلی پالیسی کے طور پراپنائے اور شیعہ سنی اتحاد کی خوگر ہوجائے اور مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف صف آرا طاقتوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ڈٹ جانے کو خارجی پالیسی کے طورپر اپنائے تو مستقبل روز روشن کی طرح تابناک ہوگا،ان شااللہ تعالی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے