۔،۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔

بلوچستان میں 10روز کے دوران ملک دشمن عناصر کی جانب سے دہشت گردی کے باعث سیکیورٹی فورسزکے میجر،جونئیر کمیشنڈ آفیسر سمیت 13اہلکاراور ایک سویلین ڈرائیور شہید ہو چکے ہیں،تازہ حملوں میں پہلا ضلع کچھی کے تاریخی قصبہ کے علاقہ پیر غائب کے علاقہ میں کیا گیا جس کے نتیجہ میں معمول کی پٹرولنگ کے بعد ایف سی کی واپس آتی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا،ISPRکے مطابق اس دہشت گردی میں نائب صوبیدار احسان اللہ خان،نائیک زبیر خان،اعجاز احمد،مولا بخش،نور احمدکے علاوہ سویلین ڈرائیور عبدالجبار نے جام شہادت نوش کیا،دوسرا واقعہ ضلع کیچ کے علاقہ مند کے قریب پیش آیا جہاں فارئنگ کے تبادلے میں سپاہی امداد علی شہید ہو گیا،اگلے روزقبائلی علاقے کے ضلع شمالی وزیرستان میں میر علی کے قریب ایک پر ہجوم عیدیک بازار میں مسجد نظامیہ کے پاس دھماکہ خیز مواد ڈیوائس پھٹ گئی جس پر بازار میں گشت کرنے والے سیکیورٹی فورسز کا اہلکار عامرشہید جبکہ حوالدار ارشد،سپاہی عبدالمنان اور اسلام نبی زخمی ہو گئیاس واقعہ کے فوری بعد میر علی تا میراں شاہ رووڈ کو بند کرنے کے ساتھ علاقہ میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا تاہم ابھی تک دہشت گرد جہنم واصل نہیں ہوئے،صرف شمالی وزیرستان میں ایک ماہ کے دوران 13اہلکار شہید اور9زخمی ہو چکے ہیں یوں صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں رواں ماہ13..13اللہ کے پر اسرار بندے وطن پر قربان ہو گئے،بلوچستان کے ضلع کچھی کے واقعہ کی ذمہ داری کالعدم عسکریت اور علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم یونائٹیڈ بلوچ آرمی نے قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اہلکار اس علاقہ میں تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنی کی سیکیورٹی پر تعینات تھے،کیچ میں حملے کی ذمہ داری بلوچستان بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے،علیحدگی پسند بلوچ لبریشن آرمی کو امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے جبکہ پاکستان ایسی تنظیموں کو پہلے ہی دہشت گردانہ کاروائیوں کے باعث کالعدم قرار دے چکا ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس دہشت گردی پر کہا بھارت پاکستان اور افغانستان میں امن نہیں چاہتا،بھارت بلوچستان میں مختلف قسم کی سازشوں میں مصروف اوربھارت کا ماضی میں بھی بلوچستان کی دہشت گردی میں ہاتھ رہا ہے،شاہ محمود نے کہاسلامتی کونسل کے صدر کو نئی صورتحال سے متعلق خط لکھ رہے ہیں جس میں بتایا جائے گا کہ بھارت پاکستان میں فالس فلیگ آپریشن کا بہانہ تلاش کر رہا ہے کیونکہ اس کی جانب ایساڈرامہ رچایا جا سکتا ہے،مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے جو قیامت برپا کر رکھی ہے وہ دنیا جانتی ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے،وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہو ئے کہا ساری دنیا اس وقت کورونا جیسی وباء سے لڑ رہی ہے اور یہاں دہشت گرد ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں،بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا ء لانگو بھارت کو دنیا دہشت گرد ملک قرار دے وہ پاکستان کی ترقی اور سی پیک کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے،،8مئی کو ضلع کیچ میں ایرانی سرحد سے چند کلومیٹر دور ہونے والی دہشت گردی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے سدرن کمانڈ بلوچستان کے دورہ کے موقع پر کہا تھابلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے یہاں ملک دشمنوں کے مذموم مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے،آرمی چیف کو بتایا گیا کہ دہشت گرد کاروائی کے لئے ایرانی سرحد سے آتے اور جاتے ہیں،جنرل قمر جاوید باوجوہ نے آرمی چیف ایران کو کال پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ایرانی فورسزاپنا کردار ادا نہیں کر رہی،جنرل باجوہ نے پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے کے حوالے سے بھی ان پر واضح کر دیا،یہ باڑ959کلومیٹر طویل ہو گئی جس کے لئے حکومت کی جانب سے 8.6ملین ڈالرز کی رقم جاری کر دی گئی جبکہ باڑ لگانے کے کام کا آغاز کر بھی دیا گیا ہے،پاک ایران بارڈر پر 2کراسنگ پوائنٹ ہیں ایک کوئٹہ سے 600کلومیٹر دور جلع چاغی اور دوسراضلع کیچ میں مند کے مقام پر،مندکیچ کا ایک سرحدی شہر ہے،بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے تمام تر تانے بانے اور ڈانڈے ازلی دشمن بھارت سے ہی جا ملتے ہیں وہ بذریعہ ایران حملہ آور ہے بھارتی حاضر سروس کمانڈر جاسوس کلبھوشن یادیو بھی ایران کے زریعے ہی پاکستان میں بطور تاجر آتاجاتا تھا جس کے پاس سے ایرانی اور بھارتی دونوں پاسپورٹ برآمد ہوئے تھے،کسی دوسرے ملک کاپاسپورٹ ہونا اور آمدورفت آسان نہیں ہے یقیناً اس کے لئے کئی نوعیت کے روابط ہو ں گے جن پر بات کرنا مناسب نہیں،ہٹ دھرمی اور بدمعاشی کی انتہا تو یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد آپریشنز کے ذریعے ظلم و جبر کا بازار گرم کئے ہوئے ہے گذشتہ روزپائین شہر کے نواح کدل میں نام نہاد آپریشن کے دوران دو بھارتی مجاہدین کو شہید کر دیا جبکہ 17گھروں کو بارود سے اڑا دیا وہ علاقہ اس وقت بھی میدان جنگ بنا ہوا ہے،بھارت نے بر ملا اعتراف کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی ہمارا ہی منصوبہ ہے جس نے حالیہ چند دنوں میں بلوچستان میں خطرناک صورتحال پیدا کر دی،اس کے لئے ہمیں فوری نئی یا مزید حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے،جہاں کچھ روز قبل واقعہ ہوا وہ بلیدہ میں ہوا جو ایرانی سرحد سے صرف14کلومیٹر دور ی پر ہے،سرحد پار رقبہ کے لحاظ سے ایران کا دوسرا بڑاسا حلی صوبہ سیستان و بلوچستان جس کا زیادہ تر حصہ پاکستان اور کچھ افغانستان سے ملتا ہے اس ساحلی صوبہ میں بلوچ قبائل کی اکثریت رہائش پذیر جبکہ اس صوبہ کے شمال میں جہاں اس کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے وہاں پشتون آبادی کی اکثریت ہے کرد بھی کافی تعداد میں اس صوبہ میں موجود ہیں،یہ صوبہ دو حصوں شمالی سیستان اور جنوبی بلوچستان میں منقسم جسے فغانستان کا کوہ صالح ایران کو اس سے ملاتا ہے،بھارت کو لیز پر دی جانے والی چاہ بہار بندر گاہ ضلع کیچ کی سرحد سے 100کلومیٹر دوری پر ہے،مکران کا بڑا حصہ صوبہ بلوچستان میں واقع ہے جو پاکستان جانب تقریباً25 ہزار مربع کلومیٹر اور 6لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے مکران میں کیچ،پنگور اور گوادر شامل ہیں ایرانی مکران 22ہزار مربع کلومیٹراور پانچ لاکھ آبادی پر مشتمل ہے وہاں اہم ایرانی شہروں میں پہیرہ،دیزک (سراوان)،سر باز گیہ،چہابہار،کٹارک اور جیرفت شامل ہیں، کیچ کے بعد جس علاقہ میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا گیایہ ضلع بولان کی تحصیل مچھ کا علاقہ ہے،معدنیات کے حوالے سے شہرت یافتہ درہ بولان کوئٹہ سے 30کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے جہاں اس وقت بھی کئی کمپنیاں تیل اور گیس کی تلاش میں مصروف ہیں،کوئٹہ کراچی ہائی وے کا 57میل حسہ درہ بولان سے گذرتا ہے،اس درہ میں 6اکتوبر 1874کو ریلوے لائن بچھائی گئی یہ133کلومیٹرطویل مگر دشوار گزارریلوے لائن صرف100دن میں تیار کر لی گئی،14جنوری 1880کو پہلا سٹیم انجن اس علاقہ میں پہلی مرتبہ داخل ہوا تھا،مچھ بولان کا ایک اہم ترین،دریائے بولان کنارے اور پتھریلے پہاڑوں کے درمیان مختلف حصوں میں آبادایک خوبصورت شہر ہے،پاکستان کی سب سے بڑی جیل یہاں پر قائم ہے جو ریلوے لائن کے تقریباً ساتھ ہے،1930مین یہ شہر زلزلہ سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا،یہ سندھ کی جانب سے،شکار پور، جیکب آباد سے N65کے ذریعے ڈیرہ مراد جمالی منسلک ہے،یہی روڈ اور مین ریلوے لائن کوئٹہ کو ملاتی ہے،جیسے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اس بات مین کوئی شک نہیں اگر ہمارے اکابرین بلوچستان کی جانب توجہ دیتے،اس کی پسماندگی دور کرتے،یہان کے سیاسدان اپنی اپنی دکانداریاں چمکانے کی بجائے علاقے کی تعمیر و ترقی کو ترجیح دیتے،معدنیات کی ٹھیک طرح تلاش کرتاور اس کا سرمایہ اس علاقہ کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرتے توآج بلوچستان ہمارا معاشی حب ہوتا،اب بھی وقت ہے کہ وہاں سے معدنیات کو نکالنے کی جدید خطوط پر کام کرتے ہوئے اس علاقہ کو جنت نظیر بنایا جائے،یہاں شہروں کو ترقی،بہترین تعلیمی ادارے،اور سیکویرٹی فورسز کی چھاؤنیاں بنائی جائیں یہ تو علاقہ ہی ایسا ہے اگر سورش پر قابو پا لیا جاتا ہے تو سیاحت سے ہی سالانہ کروڑوں روپے حاصل ہو سکتے ہیں،ایٹمی دھماکوں سے عالمی سطع پر شہرت حاصل کرنے والابلوچستان کا ضلع چاغی جو ایران اور افغانستان کی سرحد کا نزدیکی علاقہ ہے،جہاں پہاڑی ایریاریکودیک میں دنیا کے عطیم ترین سونے کے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں،ریکودیک کا مطلب ہے ریت سے بھری چوٹی،یہاں ریت سے بھرے پہاڑ اور ٹیلے70مربع کلومیٹرعلاقے میں 12ملین ٹن تانبااور 21ملین اونس سونے کے ذخائر ہیں،تانبے کے یہ ذخائر تو چلی کے مشہور ذخائر سے بھی زیادہ ہیں،ایک اندازے کے مطابق یہاں سونے کے ذخائر کی مالیت 100ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے،ان عظیم ذخائر کو ماضی میں کوڑیوں کے بھاؤغیر ملکی کمپنیوں کو بیچا گیا جنہوں نے تانبے کے نام پر سونے کی بڑی مقدار بھی نکال لی،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بلوچستان کی دہشت گرد تنظیم جس نے مچھ کی کاروائی کی ذمہ داری قبول کی،بلوچستان لبریشن آرمی کے2 اور لشکر بلوچستان کا ایک دہشت گرد نامعلوم مگر محب وطن افراد کی گولیوں کا نشانہ بن کرجہنم واصل ہوچکے ہیں،پاکستان کو ہمیشہ سے اندرونی و بیرونی دشمنوں نے ہر ممکن نقصان پہنچانے کی مذموم کوششیں کیں مگرتاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ وطن اسی طرح قائم و دائم مگرجس کسی نے بھی ایسا کیا خدا کی لاٹھی سے بچ نہیں سکا،اندرا گاندھی اور مجیب الرحمان سمیت ان گنت مثالوں کے علاوہ اندرونی کرداروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا،دھرتی ماں کے سپوت اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ہوئے اپنے وطن پر آنچ نہیں آنے دیں گے ہمیں بہت فخر ہے اپنے سپوتوں پر۔ پنجاب سی ٹی ڈی نے بہاولپور کے قریب اعظم پور کے جنگل میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کاروائی کرتے ہوئے داعش کے 4دہشت گردوں امان اللہ،عبالجبار،رحمان علی اورعلیم کو جہنم واصل کیا ان کے تین ساتھی فرار ہونے میں کا میاب ہو گئے،دہشت گردوں کے ٹھکانے سے بھاری تعداد میں اسلحہ بارود برآمد ہوا،مچھ میں دہشت گردی پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی،وزیر اعظم عمران خان،آرمی چیف قمر جاوید باوجوہ،چیر مین سینٹ صادق سنجرانی،شہباز شریف،بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان،سراج الحق،خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات نے شہد غم و غصے اور افسوس کا اظہار کیا،

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے