۔،۔ پابندیوں کی خلاف ورزی پر تارکین وطن کو فلک بدر کرنے کا فیصلہ۔سعودی عرب۔،۔

شان پاکستان سعودی عرب ریاض۔ سعودی عرب کی وزیر داخلہ نے دکانوں کے اندر اور باہر کورونا وائرس سے متعلق عائد کردہ پابندیوں اور حفاظتی احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنے والے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا فیصلے کے مطابق وہ افراد دوبارہ مملکت سعودی عرب میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ وزارت داخلہ کے مطابق تجارتی دکانوں کے اندر اور باہر فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر گاہکوں اور ملازمین پر جرمانے عائد کئے جائیں گے۔ پہلی بار خلاف ورزی پر اگر دکان کے اندر مقرر کردہ حد سے زیادہ تعداد میں افراد موجود پائے گئے تو ہر زائد فرد پر دکاندار کو 5000 سعودی ریال جرمانہ ادا کرنا ہو گا اسی خلاف ورزی کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمانہ ایک لاکھ ریال بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہی حرکت دوسری بارہ اسی شاپنگ مال یا دکان میں کی گئی تو جرمانہ کی رقم بڑھا کر 10 ہزارسعودی ریال موجود ہر زائد فرد پر ادا کرنا ہو گا اور باز نہ آنے پر تیسری بار خلاف ورزی کا ارتکاب کرنے والے مالکان کو دُگنا جرمانہ ادا کرنا ہو گا ذمہ دار شخص کا معاملہ مزید قانونی کاروائی کے لئے سرکاری استغاثہ کو بھیج دیا جائے گا۔ فیصلہ کے مطابق اگر نجی شعبہ کا کوئی ادارہ خلاف ورزی کا اعادہ کرے گا تو اس کو تین ماہ کے لئے بند کر دیا جائے گا یہی خلاف ورزی دوبارہ کرنے پر چھ ماہ کے لئے بند کر دیا جائے گا۔ اگر خلاف ورزی کے مرتکب افراد سعودی عرب میں مقیم ہوں گے تو ان کو ملک بدر کر دیا جائے گا ایسے سزا یافتہ افراد کو دوبارہ سعودی عرب میں داخل نہیں ہونے دیاجائے گا۔ وزارت داخلہ کے سیکورٹی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل طلال الشلہوب۔ Lt. Col. Talal Al-Shalhoub, Security Spokesperson    کے مطابق کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حفظ ما تقدم کے طور پر ایک ہی خاندان کے پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع پر یا پانچ عام افراد کے اجتماعات پر بھی پابندی ہے۔مزید وضاحت کے تحت شادی، جنازے اور پارٹیوں جیسے اجتماعات پر بھی پانچ سے زیادہ افراد اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ لیفٹیننٹ کرنل طلال الشلہوب کا کہنا تھا کہ کرفیو میں نرمی کے اوقات روزانہ صبح 09:00 uhrبجے سے شام 17:00 uhr بجے تک اشیاء ضروری یا ضروری امور کو نمٹانے کے لئے ہیں۔سعودی وزارت تجارت کے ترجمان کے مطابق شاپنگ مال 29 رمضان تک کھلے رہیں گے ان ا مزید کہنا تھا کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کو ساتھ نہ لائیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے