۔،۔ اکثر مسلمان زکواۃ میں ڈنڈی مارنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ کسی نے کیا خوب لکھا کہ ہم ٭تربوز ٭ خریدتے ہیں جیسا کے ایک تربور 5پانچ کلو۔ اس کو کھانے سے پہلے موٹا موٹا چھلکا اُتارتے ہیں، پانچ کلو میں سے ایک کلو سے زیادہ چھلکا نکل آتا ہے اس طرح کم از کم بیس20 فیصد لیکن نہ ہی تو ہم پریشان ہوتے ہیں اور نہ ہی سوچتے ہیں کہ تربوز کو چھلکے ساتھ کیوں نا کھا لیا ہوتاتا کہ تربوز ضائع نہ ہوتا اور بالکل ایسے ہی حال٭ مالٹے٭ کا ہے وہ بھی ہم خوشی سے چھلکا اتار کر کھاتے ہیں جبکہ مالٹا بھی چھلکے سمیت خریدا ہوتا ہے۔اور جب ہم مرغی خریدتے ہیں اس کو ذبح کرتے ہیں چند سوگرام خون ضائع ہو جاتا ہے پھر اس کے پر،کھال اور پیٹ کی آلائش بھی نکال پھینکتے ہیں جس پر ہمیں دُکھ نہیں ہوتا کہ گوشت کا وزن کم ہو گیا۔تو پھر ایک لاکھ میں سے ڈھائی ہزار ٭٭زکواۃ٭٭دینے پر کیوں بہت سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے حالانکہ یہ صرف اور صرف ڈھائی فیصد بنتا ہے ذرا سوچیں 100 روپوں میں سے صرف 02:50 ڈھائی روپے۔ یہ تربوز، کیلے، آم اور مالٹے کے چھلکے اور گھٹلی سے کتنا کم ہے اسے ہی زکواۃ فرمایا گیا ہے۔ یہ پاکی ہے ٭ مال بھی پاک٭ایمان بھی پاک٭دل اور جسم بھی پاک٭دینی فریضہ سے سبکدوشی٭مالی عبادت٭دولت کی ہوس کا خاتمہ٭دوسروں سے ہمدردی٭ معاشی استحکام٭غرور اور اَنا پرستی کا خاتمہ٭ارشاد باری تعالی ہے۔اَلَّذِیننَ۔وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو زمین میں اختیار و اقتدار دیں تو نماز قائم کریں اور زکواۃ۔اللہ نے جب آدم کو بھیجا تو بغیر کسی زمین بغیر کپڑوں اور بغیر دولت کے زمین پر اتارا۔ جس سورج کی روشنی سے زمین سے درخت نکلتے ہیں، سبزہ اگتا ہے، پھل فروٹ اُگتے ہیں سبزیاں اُگتی ہیں کھیت لہلہاتے ہیں کیا اس سورج کی روشنی تمہاری ہے، کیا وہ زمین تمہاری ہے جس کے تم مالک بنے بیٹھے ہو۔ جب تم پانی درخت کو دیتے ہوئے کیا وہ پانی بھی تمہارا ہے۔ نا صرف اللہ کی زمین پانی اور گرمی کے وسیلے سے محنت کر کے ایک نوکر کی حیثیت سے اپنا رزق طلب کرتے ہو یہ تمہاری جاگیر نہیں یہ اللہ کی جاگیر ہے جیسے ایک انسان کسی دوسرے انسان کی چیز پر محنت کرے تو جو اس کا فائدہ ہو گا، جس کی وہ چیز تھی کیا اُس فائدے میں اُس کا حصّہ نہیں ہو گا۔ ہاں ضرور ہو گا تب ہی اللہ نے ٭زکواۃ٭ رکھی ہے تا کہ جو تم اللہ کی زمیں پے یا اللہ کی نعمتوں سے کماوُ اس میں سے اللہ کے حقیر بندوں کی مدد کرو یہ سوچ کرکہ جس وسیلے سے تم کماتے ہو وہ سارے وسائل اللہ کے ہیں اور اس مال پر اللہ کے حقیر بندوں کا حق ہے، جب تم اپنے مال کا چالیسواں حصّہ دو گے تو تمہارا ضمیر مطمئن ہو گا۔ یاد رکھنا اس زمین پر، اناج، پھل ہر ایک نعمت پے سب انسانوں کا حق برابر برابر ہے بس کچھ انسان محنت نہیں کرتے تو کچھ انسان دوسرے انسانوں کا حق غضب کر لیتے ہیں۔صرف ایک روپیہ اور فائدے کتنے زیادہ، اجر کتنا زیادہ، برکت کتنی زیادہ مگر ایک روپیہ نکالنا بھی اتنا تکلیف دہ کہ اکثر مسلمان زکواۃ دیتے ڈنڈی مارتے ہیں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے