،۔ پاکستانی رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری خالد اعجاز مفتی اپنے بیان کی خود ہی تردید کر رہے ہیں۔نذر حسین-،-

شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ شوال 1441(2020) ہجری کا چاند مرکزی اور زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے لئے مسئلہ بنتا جا رہا ہے، مفتی حضرات خود بیان دے رہے ہیں کہ شوال کا چاند 22 مئی بروز جمعہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق22:39 Uhrبجے پیدا ہو گا، 23 مئی بروز ہفتہ 1441(2020)کی شام کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر اگرچہ پاکستان کے تمام علاقوں میں ٭20٭ گھنٹوں سے زائد ہو گی نیز غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق۔ پشاور، چارسدہ، راولپنڈی، اسلام آباد، مظفر آباد، گلگت اور لاہور میں 39 منٹ جبکہ کراچی، کوئٹہ اور جیوانی میں 40 منٹ ہو گا لیکن دیگر عوامل ناکافی ہونے کے باعث ہلال پشاور، لاہور اور کوئٹہ میں بصری آلات کی مدد کے بغیر دکھائی نہیں دے سکتا۔ دوسری جانب ہلال راولپنڈی، اسلام آباد، گلگت، مظفر آباد اور چارسدہ میں ٹیلی سکوپ کی مدد سے بھی دکھائی نہیں دے سکتا جبکہ کراچی اور جیوانی میں ہلال کی رویت کے لئے بصری آلات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ان حالات کے تناظر میں چونکہ ہفتہ کی شام رویت ہلال کا امکان انتہائی کم ہے لہذا رمضان المبارک کے 30 دن مکمل کرنے کے بعد عید پیر 25 مئی کو منائی جائے گی۔خالد اعجاز مفتی نہ کہا کہ پشاور میں چونکہ جُھوٹی شہادتیں قبول کر کے 24 اپریل سے رمضان المبارک کا آغاز کیا گیا تھا لہذا وہ لوگ 30 روزے مکمل کرنے کے بعد 24مئی بروز اتوار عید منائیں گے حالانکہ وہاں 23 مئی بروز ہفتہ شام غروب آفتاب کے وقت ہلال دور بین کی مدد سے دکھائی دینے کا بھی کوئی امکان نہیں۔خالد اعجاز مفتی کے مطابق 24 مئی کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام شہروں میں 44 گھنٹوں سے بھی زائد ہو چکی ہو گی۔دوسری طرف غروب شمس و غروب قمر کا درمیانی فرق جو کم از کم 40 منٹ ہونا چاہیئے وہ پشاور، چارسدہ اور گلگت میں 98 منٹ، مظر آباد، راولپنڈی، اسلام آباد اور کوئٹہ میں 97 منٹ، لاہور اور جیوانی میں 96منٹ جبکہ کراچی میں 95 منٹ ہو گا لہاذا اگر اتوار کی شام بادل نہ ہوتے تو ہلال پاکستان کے تمام علاقوں میں واضح اور تا دیر دکھائی دے گا جس کی بناء پر کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے جبکہ وہ مذہبی اور سائنسی لحاظ سے یکم ہی کا ہلال ہو گا۔جبکہ خالد اعجاز مفتی اپنے اس بیان کی رومیں خود کہہ رہے ہیں کہ چاند کی عمر کم از کم 19 ہونی چاہیئے جبکہ 23 مئی بروز ہفتہ چاند کی عمر 20 گھنٹوں سے زائد ہو جاتی ہے پھر کہتے ہیں ناممکن ہے کہ چاند نظر آئے خود ان کی تحریر یا بیان پڑھ لیں۔٭٭٭٭٭رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری خالداعجازمفتی کا کہنا ہے کہ ہلال اس وقت تک دکھائی نہیں دیتا جب تک کہ اس کی عمر غروب آفتاب کے وقت کم از کم 19 گھنٹے اور غروب شمس و غروب قمر کا درمیانی فرق کم از کم 40 منٹ سے زائد نہ ہوجائے، نیز چاند کا زمین سے زاویائی فاصلہ کم از کم 6 ڈگری اور چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ کم از کم 10 ڈگری ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شوال کا چاند 22 مئی کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات 10 بج کر 39 منٹ پر پیدا ہوگا۔ ہفتہ 23 مئی کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر اگرچہ پاکستان کے تمام علاقوں میں 20 گھنٹوں سے زائد ہوگی نیز غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق پشاور، چارسدہ، راولپنڈی، اسلام آباد، مظفرآباد، گلگت اور لاہور میں 39 منٹ جبکہ کراچی، کوئٹہ اور جیوانی میں 40 منٹ ہوگا لیکن دیگر عوامل ناکافی ہونے کے باعث ہلال پشاور، لاہور اور کوئٹہ میں بصری آلات کی مدد کے بغیر دکھائی نہیں دے سکتا۔٭٭رویت ہلال کمیٹی خود بھی توچاند دیکھنے کے لئے آلات کی مدد لیتے ہیں ٭٭   ٭سوال یہ ہے کہ غلط کون ہے ٭فواد چوہدری٭یاخالد اعجاز مفتی٭چاند موجود ہے اور اس عمر بھی پوری ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے آلات کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے٭

یہ کیا ہے

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے