۔،۔ ناکام سفارت۔اے آراشرف-,-


رب کائنات کی یہ سُنت رہی ہے کہ جب جب دنیا میں ظُلم وبربریت کی انتہا اور عدل و انصاف کا خون ہوتا ہے اور دنیا بھر کے نمرود،فرعون حقائق سے پہلو تہی اختیارکرکے مظلوم اور کمزور طبقات کااستحصال کرتے ہیں اورپھرطاقتوروں کو نواز کراُنہیں کمزروں پر ظُلم و بربریت کا بازار گرم رکھنے کی کھلی چھٹی دے دیتے ہیں تو پھر قانون قدرت حرکت میں آتا ہے اور پھر اللہ تعالی کی بے آواز لاٹھی بڑے بڑوں کا دماغ درست کر دیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے خدائی کا دعویٰ کرنے والے نمرود کے دماغ میں ایک حقیر مچھر گھسا کر اُسکا دماغ ٹھکانے لگا دیا تھادنیا جانتی ہے کہ بھارت نے غیرقانونی طورپرمقبوضہ کشمیر پر قبضہ جما کر ۰۸ لاکھ کشمیریوں کو قیدی بنا رکھا ہے اور اقوام عالم نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے ایسے میں اللہ تعالی کو شاید کشمیریوں اور فلسطینیوں پر رحم آگیا ہے اور اُس نے۔کرونا کے عذاب۔کے ذریعے دنیا بھر کے اُن نام نہاد خداؤں کو جہنوں نے کمزور قوموں کو یرغمال بنا رکھا ہے انہیں وارننگ دی ہے کہ وہ دنیا کے مظلوموں کی حمائت میں اپنا کردار ادا کریں لگتا یوں ہے اقوام عالم پتھر کے پرانے دور کی طرح کہ۔ اب بھی۔جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس۔ کے معقولے پر اب اکیسویں صدی میں بھی کامل یقین رکھتی ہے اگر اس مہذب دنیا کی یہی روش ہے تو ہم ترقی پذیر ممالک کو ان نام نہاد ترقی یافتہ ممالک اورحصوصاََ اقوام متحدہ جیسے دنیا میں امن قائم رکھنے والے اداروں پر عدل و انصاف کی قطعی توقع نہیں رکھنا چاہیے۔بچے بچے کے علم میں ہے کہ اس وقت دنیا میں مقبوضہ کشمیر اور تنازعہ فلسطین دو ایسے سنجیدہ مسائل ہیں یا ایسے اتش فشاں ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ کر اقوام عالم کے امن کو نیست و نابودکر سکتے ہیں دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومت اور اس کے نام نہاد سفارت کاروں کو جہاں مثبت اور نمایاں کردار ادا کرنا چاہیے ہوتا ہے وہاں ہمیشہ نااہلی اور سُستی کا مظاہرہ کرکے قوم کومایوس کر دیتے ہیں میرے خیال میں اپنے ازلی دشمن سے مروت کرنا اُسکی مدد کرنے کے مُترادف ہے موجودہ حالات میں جبکہ تین صد روز سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا رکھا ہے اور روزانہ اُن مظلومو کے خون سے بھارتی افواج ناشتہ کرتی ہیں ایسے میں اُسکاسلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بلا مقابلہ منتحب ہوناہماری سفارتی محاذ پر ناکامی ہی تصور کیا جائے گا پھر ہمارے ہونہار وزیر خارجہ جناب شاہ محمو د قریشی کا یہ بیان کہ بھارت کے ممبر منتحب ہونے سے کوئی قیامت برپا نہیں ہوگی اسے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہی کہا جائے گاکے تین سو سے زائدروز ہو چکے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور اس دوران بھارتی افواج نے کشمیریوں پر ظُلم و بربریت کی ایسی ایسی داستانیں رقم کی ہیں جہنیں سُن کر ہلاکو،چنگیزخان اور ہٹلڑ جیسے ظالم اور سفاک حکمرانوں کی روحیں بھی قبروں میں کانپ رہی ہونگی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اقوام عالم،اقوام متحدہ اورحصوصاََ مسلم اُمہ کے اُن ممالک کا جو اپنے آپ مسلم اُمہ کا رہبر تصور کرتے ہیں کا ضمیربھی ابھی تک کیوں نہیں جاگ رہا کیا ان سب کے سینے میں دل نام کی کوئی چیز نہیں دھڑکتی؟کیا ان کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں کہ اُنہیں مظلوم کشمیریوں کی درد بھری آہیں،بلکتے بچوں کی سسکیاں اور بیکس خواتین کی آبروریزی کی چیخیں سُنائی نہیں دیتیں؟کیا ان بنیادی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کو مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق پامالی نظر نہیں آتی؟کیابھارت کو سلامتی کونسل کی نشست کیلئے ووٹ دیتے وقت ذرا شرم محسوس نہیں کی؟ کہ جس بھارت میں اقلیتوں کیلئے زمین تنگ کر دی ہے جو بھارت ابتک لاکھ سے زائد کشمیریوں کا خون بہا چکا ہے اور جس نے چین،نیپا ل اور پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کیساتھ جنگی محاذ کھول کر آمن عالم تباہ کر رکھا ہے ایسے میں بھارت کو سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتحب کرانے والے ممالک بھی کشمیریوں کے قتل عام اور اُسکے غیر قانونی اقدام کے اُتنے ہی مجرم تصور کئے جائینگے جتنا کہ بھارت یہ تو کھیت کی رکھوالی بھیڑیے کے سپرد کرنے والی بات ہو گی دوسری جانب ہمارے سفارتکاروں کی نااہلی کی انتہا ہے کہ جہنوں نے اپنے ازلی دشمن بھارت کو بلا مقابلہ نشست جیتنے کا موقع فراہم کیا اس موقع پرپاکستان تحریک انصاف کی وزیر مخترمہ شیری مزاری کا موقف بالکل درست ہے کہ حکومت کو بھارت کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہیے تھااور اس کیلئے میدان کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔شکر ہے دیر سے ہی سہی حکومت اور کچھ اسلامی ممالک کو کشمیریوں پر برپا ہونے والی قیامت کااحساس تو ہوا کہ وہ ویڈیو لنک پر اجلاس کرکے پتہ تو کریں کہ اس کرونا کی جان لیوا وبا میں اُن پر کیا گذر رہی ہے۔اقوام متحدہ سے اپیل ہے کہ جب تک وہ قراردادوں پر عمل نہیں کراپاتی اُتنی دیر کیلئے مظلوموں کی جان ومال کی حفاظت کے واسطے وہاں امن فوج ہی بھیج دے تاکہ کم از کم بھارتی افواج کے تشدد سے تو اُنکی جان چھوٹے مگر مجھے نہیں اُمید کہ یہ کھٹ پتلی اقوام متحدہ یہ کام آسانی سے کر سکے گی-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے