۔،۔خان صاحب گھر چلے جائیں۔تحریر:غلام رضا خان۔،۔


آج کی تحریر لکھتے ہوئے میرا دل بڑا دکھی ہے، شاید میں تلخ باتیں بھی کر جاؤں مگر یہ تلخ باتیں حقیقت پر مبنی ہونگی۔ میری یہی دعا ہے کہ اے اللہ کسی کھلاڑی کو ملک کا وزیراعظم نہ بنانا کیونکہ سیاست او ر کھیل میں بہت فرق ہوتاہے، عمران خان جن سیاستدانوں کو چور کہتے تھے اتنے ”مظالم” ان کے ادوار میں بھی عوام پر نہیں کئے گئے، جتنے اب ہو رہے ہیں۔ خان صاحب آپ نے قرضے لینے پر خودکشی کو فوقیت دینی تھی مگر آپ نے ”چور”حکمرانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، آپ نے ملک میں تبدیلی لانا تھی، آپ نے مافیا کا خاتمہ کرنا تھا، آپ نے پاکستان کو عظیم ملک بنانا تھا مگر آپ ملک پر عذاب بن کر نازل ہوئے ہیں۔ جناب وزیراعظم عمران خان صاحب شاید آپ کے علم میں نہیں ہوگا کہ پاکستانی عوام پر مہنگائی کا بم گرادیاگیا، آپ کو بتاتا چلوں کہ پٹرول کی فی لٹر قیمت میں 25روپے58پیسے، ڈیزل کی فی لٹر قیمت میں 21روپے 31پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 23روپے50پیسے فی لٹر اضافہ ہو چکا ہے۔ خان صاحب کیا آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ کیا پاکستانی عوام مہنگائی کا اتنا بڑا بم برداشت کر پائے گی؟ کیا آپ نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانی بھی ہیں تو ایک، دو روپے، پانچ یا دس روپے تک بڑھا دوں، خان صاحب قیمتیں بڑھاتے ہوئے کیاآپ میں انسانیت مر چکی تھی؟ خان صاحب میری ایک بات نوٹ کر لیں اب آپ کو عوام کی بددعائیں ضرور لگیں گی اور آپ بہت جلد انجام کو پہنچیں گے۔ میں سوچتا تھا کہ خواجہ آصف کے تحریک انصاف اور آپ کیلئے اسمبلی میں ادا کئے گئے الفاظ ”کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے” مناسب نہیں مگر اب محسوس ہو رہا ہے کہ میں غلط تھا انہوں نے جو بھی کہا ٹھیک کہا تھا۔خان صاحب کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کا دفاع کرنے والوں کو بھی شرم اور حیا کرنی چاہئے۔ خان صاحب اگر آپ کی جگہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا موقع ملتا تو وہ بھی اتنا بڑا مہنگائی کا بم گرانے کی ہمت نہ کرتا، خان صاحب آپ بے بس وزیراعظم ہیں، آپ کے بس میں کچھ بھی نہیں، آپ کو چاہئے کہ شرم کرتے ہوئے گھر چلے جائیں اور عوام کو سکھ کا سانس لینے دیں۔ میں تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر یہی سوچتا رہا کہ ایک باشعور انسان کسی پر اتنا بڑا ظلم کیسے کر سکتا ہے۔ غریب عوام تواب یہی دعا کرتے ہوں گے یا اللہ ہمیں کرونا وائرس سے ہی مار دے کیونکہ ملک میں صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ اب نہ صرف روز مرہ استعمال کی اشیا دالوں، چاول، سبزیوں،چینی، گھی وغیرہ کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ ہو گا بلکہ کرایے بھی بڑھ جائیں گے۔ خان صاحب آپ کی حکومت میں غریب عوام کو کوئی ایک ریلیف بھی نہیں ملا، آپ نے تاریخی قرضے لے کر ہر پاکستانی کو دو لاکھ روپے سے زائد کا مقروض بنا دیا،خان صاحب آپ نے ہی ملک میں چینی کا بحران پیدا کیا، آٹا بحران کے ذمہ دار بھی آپ ہی ہیں،آپ کسی بھی صورت اس سے بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ ایک با شعور انسان اتنا بڑا ظلم کیسے کر سکتا ہے، شاید میں غلط ہوں یا آپ میں شعور ہی نہیں۔ خان صاحب شاید آپ سمجھتے ہوں ادارے آپ کے ساتھ ہیں، آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا مگر ایک اللہ کی بھی ذات بھی ہے اور آپ اللہ کی پکڑ میں ضرور آئیں گے، آپ نے تو پٹرول بحران، چینی بحران، آٹا بحران کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا تھا مگر آپ نے ان سے ساز باز کر لی اور مافیا کا حصہ بن گئے۔ خان صاحب شاید آپ کو علم نہیں کہ آپ کی تقریروں، وعدوں، دعوؤں سے عوام کا پیٹ نہیں بڑھ سکتا، آپ نے ملک کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ آپ جان بوجھ کر ملک میں پہلے بحران پیدا کرتے ہیں پھر مافیا کا حصہ بن کر غریب عوام کو خودکشیوں پر مجبور کرتے ہیں۔ خان صاحب آپ کو عوام کی مشکلات کا کبھی بھی اندازہ نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ نے ساری زندگی اپنی جیب سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا، آپ نے ہمیشہ ”اے ٹی ایمز” کا سہارا لیا، کسی ”اے ٹی ایم” نے بل جمع کروا یئے، کسی ”اے ٹی ایم” نے گاڑیاں دلا دیں، کسی ”اے ٹی ایم” نے پارٹی پر کروڑوں، اربوں روپے لگا دیئے اور جب آپ کا دل بھر گیا تو آپ نے ”اے ٹی ایم” سے جان چھڑا لی اور کسی اور ”اے ٹی ایم” کو پکڑ لیا۔ خان صاحب یہ ضرور یاد رکھیں کہ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایک وزیراعظم آیا تھا جو اپنی عوام کو کچھ دینے کی بجائے ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتا تھا۔ یہاں پر خان صاحب کے چاہنے اور ماننے والوں کیلئے صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ”تبدیلی کا مزہ”تو آرہاہو گا نا،مگر خان صاحب کے کچھ چاہنے اور ماننے والے اب بھی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ”فضائل ” بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ خان صاحب نے کہا ہوا ہے کہ ”گھبرانا” نہیں ہے۔اللہ نہ کرے پاکستان پر ایسا وقت آئے مگر خان صاحب آپ ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے جا رہے ہیں کہ عوام کو تب ہی کھانا میسر آئے گا جب گھر کا کوئی فرد مر جائے گا اورعزیزو اقارب و اردگرد کے لوگ کھانے کا بندوبست کریں گے۔ خان صاحب آخر میں آپ نے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ کچھ اللہ کا خوف کریں اور اپنے اندر انسانیت پیدا کرتے ہوئے عوام کا بھی کچھ سوچیں، اگر انسانیت نہیں یا عوام کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو مہربانی کر کے گھر چلے جائیں کیونکہ ہمیں آپ کی ”تبدیلی” نہیں چاہئے، خان صاحب ہمیں آپ کا ”نیا پاکستان” نہیں چاہئے۔
ساغر صدیقی نے کیا خوب کہا ہے
جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے