-,-حج پر گئے بغیر بھی حج قبول ہوسکتا ہے-ڈاکٹر علیم خان فلکی-,-

حج مسلمانون کا پانچواں ستون ہے اور حج کی سعادت ہر کسی کو نصیب بھی نہیں ہوتی۔حج ایک ایسا اہم رکن ہے جس کو ہر با حیثیت مسلمان ادا کرنا چاہتا ہے۔یہ تو طے ہوچکا ہے کہ اس سال سعودی عرب سے باہر کے لوگ کورونا کی وجہ سے حج نہیں کرسکیں گے۔ شائد اللہ تعالیٰ حج پر نہیں جانے والوں سے کچھ اور کام لینا چاہتا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اِس اشارے کو سمجھ سکیں۔ اور قابلِ مبارکباد ہیں وہ لوگ جو اِس اشارے کو سمجھ کر حج پر گئے بغیر حج کا نہ صرف پورا پورا اجر بلکہ اس کی قبولیت کا بھی عندیہ حاصل کرلیں۔حضرت عبداللہ بن مبارکؒ جو دوسری صدی ہجری کے عظیم محدثین میں شامل ہیں، بخاری اور مسلم نے بھی ان سے کئی روایتیں حاصل کی ہیں۔ یہ شہر خراسان سے تعلق رکھتے تھے اِن کا ایک واقعہ شیخ فریدالدین عطارؒ نے تذکرۃ الاولیاء صفحہ 123 پر بیان کیا ہے۔ یہ وہی عطارؒ ہیں جن کی تصنیف منطق الطیر عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ ”پرندوں کی محفل“ قدیم اردو ادب کا ایک اہم سرمایہ ہے۔ یہ بھی شہر خراسان سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ ایک مرتبہ حج سے فراغت کے بعد بیت اللہ میں سوگئے، اور خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے بات کررہے تھے کہ اس سال چھ لاکھ لوگوں نے حج کیا لیکن کسی کا حج قبول نہیں ہوا، لیکن دمشق کا ایک موچی جو حج میں شریک تو نہیں ہوسکا، لیکن اللہ نے اس کا حج قبول فرما کر اس کے طفیل تمام حاجیوں کا حج قبول فرمالیا۔ یہ بات سن کر حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ اس موچی کی تلاش میں دمشق نکل پڑے۔ کسی طرح اُس سے ملاقات ہوگئی۔ موچی نے اپنا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا کہ ”تیس سال سے میری تمنا تھی کہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کروں، میں نے اتنے سالوں میں بڑی محنت سے تین سو درہم جمع کئے تھے۔ لیکن ایک دن میرے پڑوس کے گھر سے کھانے کے پکوان کی بہت اچھی خوشبو آنے لگی۔ میری بیوی جو حاملہ تھی اس کا جی چاہا کہ تھوڑا سا اسے بھی کھانے کو مل جائے۔ میں پڑوسی کے گھرگیا تاکہ کچھ کھانا مانگ لوں۔ لیکن اس نے کہا کہ وہ کھانا آپ کے کھانے کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ سات دن سے میں اور میرے بیوی بچے فاقے سے تھے، میں نے ایک مردہ گدھا راستے میں دیکھا، اسی کا گوشت لے آیا، اور پکایا ہے“ یہ سن کر میں اللہ کے خوف سے لرز اٹھا کہ میرے پڑوسی فاقے کررہا تھا اور مجھے اس کی خبر نہ ہوئی۔ میں نے اپنی حج کی پوری رقم اس کے حوالے کردی۔ اور دعا کی یا اللہ، شائد یہی تیری رضا تھی کہ میرا حج اس طرح ہو، اس کو تو ہی قبول فرمانے والا ہے“۔ حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے خواب میں جو کہا تھا وہ واقعی سچی بات تھی، اللہ تعالیٰ یقینا قضاوقدر کامالک ہے۔ کسی ضرورتمند مسلمان کی مدد کرنا واقعی حج کے برابر ہے“۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ جو مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ نے اپنی ایک کتاب میں لکھا کہ بشیربن الحارثؒ ایک بزرگ گزرے ہیں۔ ان کے ایک شاگرد نے آکر کہا کہ ”حضرت، حج پر جانا چاہتا ہوں“۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تیرا نفل حج ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر حضرت نے پوچھا کہ تیرے پاس زادِ راہ کیا ہے؟ شاگرد نے کہا کہ دوہزار دینار۔ حضرت نے کہا کہ کیا میں تجھے ایک ایسا طریقہ بتاؤ ں کہ تیرا مال بھی خرچ ہوجائے اور حج پر گئے بغیر نہ صرف تیرا حج قبول ہوجائے بلکہ تجھے حج کے قبولیت کی طمانیت بھی حاصل ہوجائے؟۔ شاگرد نے بڑے اشتیاق سے کہا کہ ضرور بتایئے۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ مال تو غربا اور مساکین میں تقسیم کردے، اور اگر تیرا جی چاہے تو کسی ایک شخص کوجو اکثرت العیال کی وجہ سے پریشان ہے اس کو اس کے پاؤں پر کھڑا کردے۔ اب بتا کیا چاہتا ہے؟ شاگرد بہت دیر تک سوچ میں پڑگیا اور کہنے لگا ”نہیں حضرت؛ اب طبیعت حج پر مائل ہے“ (یعنی حج کا موڈ بن چکا ہے)۔ یہ سن کر حضرت نے فرمایا ”شیطان برائی کے ذریعے ہی نہیں بلکہ نیکی کے بہانے بھی نفس پر قابو پالیتا ہے“۔آج اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا موقع پیدا فرمایا ہے کہ جو لوگ اس سال حج پر نہیں جاسکے وہ دمشق کے اُس موچی کا بھی مقام حاصل کرسکتے ہیں جس کے حج پر گئے بغیر اس کا حج بھی اللہ تعالیٰ نے نہ صرف قبول کرلیا بلکہ اس کی وجہ سے جتنے حاجی اس سال حج پر آئے تھے اسکے طفیل ان تمام حاجیوں کا حج بھی قبول فرمالیا۔ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن نے مسلمانوں ہی کی نہیں ہر ذات کے انسانوں کی اکنامی تباہ کردی ہے۔ لاکھوں لوگ مائگریشن میں متاثر ہوچکے ہیں۔ گھروں میں جوان بیٹیا ں بیٹھی ہیں جن کی شادیاں ناممکن ہوچکی ہیں۔ سرکاری دواخانے ناکارہ ثابت ہوچکے ہیں۔ پرائیوٹ دواخانے لاکھوں روپیہ وصول کررہے ہیں جن کی وجہ سے غریبوں کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کی نوبت ہے۔ روز کا غلّہ خرید کر کھانے والے مزدور، آٹو والے، ٹیکسی والے، میکانِک اور ٹھیلے والے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ کئی مدرسوں کے استاذ، اسکول کے ٹیچر اور ایسی ہی معمولی نوکریاں کرنے والے بے شمار لوگ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے بھوکے ہیں لیکن اپنی عزت کی خاطر کسی سے کہہ نہیں پاتے۔ اور خدا جانے ابھی اس کرونا کے ختم ہونے تک کیا کیا ہونے والا ہے۔ اگر یہ حج کا پیسہ ان ضرورت مندوں کے کام آجائے۔ بھلے پورا پیسہ خیرات نہ کریں، یہ تو کرسکتے ہیں کہ لوگوں کو تین چار ماہ کے لئے قرض دے سکتے ہیں۔ یقینا لوگ قرض واپس نہیں کرتے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ سارے لوگ واپس نہیں کرتے۔ بے شمار شریف لوگ ایسے آج بھی موجود ہیں جو قرض لوٹانے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ ایک حج پر کم سے کم تین لاکھ روپئے کا خرچ آتا ہے۔ اگر یہ پیسہ تین چار لوگوں کو قرض کے طور پر دے دیا جائے تو ایک طرف ان لوگوں کی زندگی آسان ہوجائیگی، اور دوسری طرف تین چار ماہ میں جب اگلے سال کے حج کی رقم جمع کروانے کا وقت آئے گا اس وقت تک یہ پیسے واپس بھی آجائینگے انشااللہ۔ اس طرح ہر شخص دو دو حج کے اجر کا مستحق ہوجائیگا۔ ایک تو اس سال کے حج کی نیت کا، دوسرے کسی مستحق کے کام آنے کا۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو بندہ کسی کے کام آتا ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اُس شخص کے کام آسان کرنے کا حکم دیتا ہے۔نہ صرف حج پر جو نہ جاسکے وہ بلکہ کرونا کی وجہ سے جتنی شادیوں کی دعوتیں اور باراتیں کینسل ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے کئی لاکھ روپئے کی بچت ہوچکی ہے وہ لوگ بھی ان حالات میں بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ دلہن والے اور دلہا والے مل کر اگر تمام کینسل ہونے والی دعوتوں کا لاکھوں روپیہ امت کے پریشان حال لوگوں میں خیرات یا قرض کے طور پر دے دیں تو مسلمانوں کی غربت و افلاس میں کمی آسکتی ہے۔ اس سے انسانیت کی جو عظیم مثال قائم ہوسکتی ہے اس سے لاکھوں غیرمسلم اسلام کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ انڈونیشیا آج سب سے بڑا مسلمان آبادی والا ملک ہے۔ پہلے وہاں بدھ مت کی پوجا ہوتی تھی۔ پورے ملک نے کس طرح اسلام قبول کرلیا اس کا ایک عجیب واقعہ ہے۔ عرب کے تاجر وہاں اپنا مال لے جاکر فروخت کرتے تھے۔ ایک بار وہاں بہت سخت قحط پڑا۔ جب عرب تجارتی قافلوں کی کشتیاں کنارے لگیں تو وہاں کے بادشاہ نے پیغام بھیجا کہ اس سال لوگ قحط کی وجہ سے بہت پریشان ہیں، فاقہ کشی پر مجبور ہیں، آپ لوگ کسی اور علاقے میں جاکر اپنا مال فروخت کرلیں۔ عرب تجار نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہم لوگ ایک بہترین نفع والا کاروبار کریں گے، اور سارا مال اللہ کے راستے میں بھوکے اور پریشان حال لوگوں میں تقسیم کردیں گے۔ بادشاہ کو یہ سن کر بہت حیرت ہوئی۔ اس نے تجار کو بلایا اور پوچھا کہ یہ کون سا مذہب ہے جس میں تجارت کا یہ انوکھا اصول سکھایا ہے۔ جب عرب تجار نے اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے فوری اسلام قبول کرلیا اور اپنے تمام ہم وطنوں کو اسلام میں داخل ہوجانے کی دعوت دی۔ اور اس طرح پورے ملک نے اسلام قبول کرلیا۔ ماشااللہ۔ذرا سوچیں، یہ نفل حج اور عمروں کا پیسہ، یہ شادیوں اور باراتوں کا پیسہ، یہ سالگرہوں اور عرسوں اور جلسوں کا پیسہ اگر آج عثمان غنیؓ اور عبدالرحمان بن عوفؓ کے تجارتی مال سے بھرے اونٹوں کی قطاروں کی طرح امت کی پریشانی کے وقت امت کے کام آجائے تو ایک بار پھر اسلام کا عروج واپس آسکتا ہے۔ ایک حاجی اوسطاّ تین لاکھ روپئے خرچ کرتا ہے۔ ہندوستان سے دیڑھ لاکھ حاجیوں کے 45 ارب روپئے بنتے ہیں۔ ایک شادی میں اگر اوسطاّپانچ لاکھ روپئے بھی خرچ ہوتے ہیں تو کم سے کم چار لاکھ شادیاں ہر سال ہوتی ہیں۔ اگر یہ سادگی سے ہوجائیں تو قوم کا 200 ارب روپیہ بچتا ہے۔ اور یہی قوم کے کام آجائے تو کیا آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ قوم کی اخلاقی، ایجوکیشنل، اکنامک اور سیاسی تقدیر کو کس طرح بدل سکتا ہے؟ لیکن اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ وہ شیطانی وسوسہ ہے کہ آدمی کسی بھی نیک کام پر اس وقت تک خرچ نہیں کرنا چاہتا جب تک کہ وہ پیسہ اس کی ذات پر خرچ نہ ہو۔ اگرچہ حج، عمرہ، نکاح، ولیمہ، روزہ رکھوائی، ختنہ کے پھول، عقیقہ، چہلم، برسی، عرس، روزہ افطاری کی دعوتیں، یہ سارے نیکی کی نیت سے ہی کئے جاتے ہیں، ان کے کرنے سے ثواب کا ہی تصوّر کیا جاتا ہے لیکن ان تمام کاموں کا محور ذات ہے۔ یعنی ان تمام کاموں میں پیسہ آدمی کی ذات پر، اس کی خواہشات کی تکمیل پر، اس کی شہرت اور رکھ رکھاؤ کے اظہار پر خرچ ہوتا ہے۔ کہنے کے لئے سارے کام نیک اور ثواب کے ہی ہیں لیکن اگر ان کاموں میں آدمی کی ذات کے اطمینان پر یہ پیسہ خرچ نہ ہوتو وہ ہرگز خرچ نہیں کرتا۔ حج کے معاملے میں بھی لوگوں کی اکثریت اپنی ذات کے خوشی اور اطمینان کے لئے خرچ کرتی ہے۔ راہِ لللہ دینے میں نہ کوئی نیکی نظر آتی ہے، نہ کوئی نام ہوتا ہے۔ سارا پیسہ گمنا م لوگوں میں چلا جاتا ہے اس لئے لوگ اپنی ذات کو اہمیت دیتے ہیں۔ قوم جائے بھاڑ میں۔ ان کو قوم سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ خیر یہ تو جاہلوں کا رویّہ ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔ اگر چند لوگ بھی اس مضمون کی اہمیت سمجھ جائیں اور عمل کرلیں تو ان کی تو آخرت انشااللہ ثم انشااللہ شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے