-,-غیر ملکی تبلیغی ارکان معاملہ۔جمعیۃ علماء ہند کر رہی ہے مہمان نوازی-.-
غیر ملکی تبلیغی ارکان معاملہ‘ میں فراخ دلی سے کررہی ہے جمعیۃ علماء ہند مہمان نوازی، یہ غیر ملکی تبلیغی ارکان اس کورونا کی وجہ سے ہندوستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔اور مولانا سید محمود اسعد مدنی کی ایماء پر مسجد عبدالنبی میں 210 غیر ملکی تبلیغی ارکان قیام پزیر ہیں۔یہاں انڈونیشائ،سری لنکا، نیپال،انگلینڈ اور دیگر ممالک کے 210 غیر ملکی تبلیغی اراکین کی مہمان نوازی تقریباً 25دنوں سے جاری ہےمہمان نوازی عربوں کیلئے مشہور ہے لیکن ہمارا ملک بھارت بھی اس میں پیچھے نہیں، ایسا منظر جمعیۃ علماء ہند کے ہیڈکوارٹر مسجد عبدالنبی میں بنفس نفیس دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں انڈونیشائ،سری لنکا، نیپال،انگلینڈ اور دیگر ممالک کے 210 غیر ملکی تبلیغی اراکین بہت محبت سے جمیعتہ کے مہمان بنے ہوئے ہیں۔ ان میں انڈونیشیاء کے سب سے زیادہ 190، بقیہ دیگر ممالک کے تبلیغی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غیرملکی تبلیغی جماعتی دہلی میںموجود تھے اور انہیں مارچ 2020 کے اخیر میں میڈیا ٹرائل کے دوران کوروناوباء کے مدنظر مختلف قرنطینہ سینٹروں میں رکھا گیا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند کے قانونی مشیر مولانا نیاز احمد فاروقی ایڈوکیٹ نے آج یہاں جمعیۃ ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا کہ دراصل ہم نے غیرملکی قرنطینہ کے تبلیغی جماعتیوں کیلئے مرکزی سرکار کو جمعیۃ علماء ہند کے ہیڈ کوارٹر کی پیشکش کی تھی۔ایڈوکیٹ نیاز فاروقی نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر قاری سیدمحمد عثمان منصور پوری اور جنرل سکریٹری مولانا سید محمود اسعدمدنی کی کوششوں سے اتنا بڑا کام ہوپایا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانامحمود مدنی نے وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کو تحریرکردہ خط میں ہزاروں افراد کی رہائش کے انتظامات کی پیشکش کی گئی تھی۔ فی الحال یہاں 210 غیر ملکی تبلیغی ارکان کی مہمان نوازی ہورہی ہے اور اس میں جمعیۃ علماء ہنداور تبلیغی جماعت مشترکہ طو رپرخدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یوں تو پورے ملک میں 2250 غیر ملکی تبلیغی جماعتی پھنسے ہوئے ہیں لیکن وہ ارکان جو دہلی میں موجود تھے ان کی مجموعی تعداد 965 تھی۔ ان کیلئے مجموعی طو رپر 8قیام کے مراکز تیار کئے گئے ہیں جن میں سے ایک جمعیۃ علماء ہند کا ہیڈکوارٹر مسجد عبدالنبی ہے جس میں 210 غیر ملکی تبلیغی ارکان فی الوقت قیام پذیر ہیں۔ایڈوکیٹ نیاز فاروقی نے ایک سوال پر بتایا کہ یہ ایک بڑا چیلنج تھا کہ 965 کی تعداد کو کس طرح رکھا جائے کہ حکومتی ہدایات کے مطابق سوشل ڈسٹینسنگ پربھی عمل ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی کارسازی پر تبلیغی جماعت نیز جمعیۃ علماء ہند نے مشترکہ طورپر منصوبہ تیار کیا۔ مولانا محمود اسعد مدنی نے اس پر انتھاک محنت کی اور نتیجے کے طو رپر پوری دہلی میںغیر ملکی تبلیغی جماعت کے قیام کیلئے 7 مراکز بنائے گئے۔ اس دوران جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولاناحکیم الدین قاسمی اور تبلیغی جماعت کے ذمہ دار ڈاکٹر سرفراز احمداور بھائی محمد آزادنے تفصیلی طو رپر ان مراکز کی تفصیلات بتائیں۔ ان میں جمعیۃ ہیڈکوارٹر کے علاوہ ایم ایس کرایٹو اسکول ستیارام بازار، ایکسل اسکول آزاد مارکیٹ، ایچ آر اسکول ذاکر نگر، ایم ایس کرایٹو اسکول ذاکر نگر، زید کالج شاہین باغ، معراج انٹرنیشنل اسکول خوریجی شامل ہیں، جبکہ آٹھواں مرکز ویور ہوٹل مہیپال پورمیں ہے جہاں ملیشیائی تبلیغی ارکان ہے اور ان کا انتظام اصرام ملیشیاء سرکار ہی کررہی ہے۔ایڈوکیٹ نیاز فاروقی نے مزید بتایاکہ تبلیغی جماعت اور جمعیۃ علماء ہند کے تقریبا پچاس ساٹھ رضاکار ہمہ وقت تمام مراکز کے مہمانوں کی خدمت میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ ابھی بین الاقوامی فلائٹ کا معاملہ پھنسا ہوا ہے اس لئے جب تک واپسی کا انتظام نہیں ہوتا یہ مذکورہ مراکز میں رہائش پذیر رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ ان کیخلاف سوائے ٹورسٹ ویزہ کے کوئی اور معاملہ نہیںبنتا ہے اس لئے کوئی جھمیلے کی بات نہیں اور نہ ہی ان کی گرفتاری ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ دراصل میڈیا نے تبلیغی جماعت کیلئے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا ورنہ ایک ڈیڑہ ماہ کا قرنطینہ پورا کرچکے ہیں اور یہاں 25دنوں سے ہیں، نہ توکوئی بیمار ہوا اور نہ ہی کوئی کورونا مثبت آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل ایک جگہ ہونے کی وجہ سے میڈیا کو موقع مل گیا اورغلط تشہیر کی گئی۔ سبھی کو معلوم ہے کہ میڈیا نے تبلیغی جماعت کیلئے غلط تشہیر کی لیکن ہمیں خوشی ہے کہ ملک کی اکثریت اس کے جھوٹے پرپیگنڈے میں نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے معاملے میں وزیراعلی دہلی کجریوال کا رویہ انتہائی افسوس ناک رہاتھا۔بتادیں کہ تبلیغی اراکین بھارت میں اچھی باتیں سیکھنے اور اچھا انسان بننے کیلئے آتے ہیں اور یہ سلسلہ کافی پراناہے۔ اس دوران انڈونیشیائی مولانا خیر الامام اور محمد اکبر نے بتایا کہ ہم بھارتی مہمان نوازی کو زندگی بھرنہیں بھول پائینگے۔ ہمیں قرنطینہ مراکزمیںتکلیفیں ہوئیںلیکن بھارتی مہمان نوازی ان کمیوں پر بھاری پڑگئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں وطن کی بہت یاد آرہی ہے اور جونہی ہوائی جہازوں کا سلسلہ شروع ہوگا ہم واپس جائینگے۔ بتادیں کہ جمعیۃ علماء ہند آزادی سے آج تک خدمت خلق اور سماجی کام اس کی ترجیحات ہیں، ابھی شمال مشرقی دہلی کے فساد میں شیو پوری سمیت کئی متاثرہ علاقوں میں جمعیۃ کا ریلیف اور ٹوٹے پھوٹے مکانات ومساجد کی مرمت و تعمیر کا کام چل رہاہے جس کی قیادت مولانا حکیم الدین قاسمی کررہے ہیں، کہ اسی بیچ تبلیغی جماعت کا اتنا بڑا کام بھی کھرا ہوگیا اور یہ بھی جمعیۃ نے اپنے سرلے لیا۔ اس موقع پر مولانا کلیم الدین قاسمی اور مولانا غیور قاسمی سمیت کئی دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے