۔،۔ بارسلونا یونیورسٹی کے تحقیقی مطالعہ کے مطابق مہلک وائرس کورونا چین سے پہلے کئی ممالک میں پھیل چکا تھا۔،۔

شان پاکستان اسپین بارسلونا۔ بارسونا یونیورسٹی کی ایک تحقیقاتی ٹیم کے مطالعہ کے مطابق کورونا وائرس اور اس سے لاحق ہونے والے مرض کووڈ 19 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر سے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ 2019 میں پھیلا تھا لیکن حالیہ سائنسی مطالعات سے اس کی نفی ہوئی ہے اور یہ پتاچل رہا ہے کہ یہ مہلک وائرس اس سے پہلے ہی بعض دوسرے ممالک میں پھیل چکا تھا۔اسپانوی محققین نے بارسلونا میں واٹر ٹریٹمنٹ کی دو بڑی تنصیبات میں استعمال شدہ یا آلودہ پانی کا مطالعہ کیا ہے ان کا مقصد یہ تھا کہ آیا آلودہ پانی کے جائزے سے کورونا وائرس کے پھیلنے کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے، تحقیقی مطالعے کے محقق البرٹ بوش کا کہنا ہے کہ ٭بارسونا میں بہت سے زائرین آتے ہیں، سیاح اور پیشہ ور حضرات بھی یہ ممکن ہے کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی اسی طرح کی صورت حال پیش آئی ہو۔چنا چہ کووڈ 19 کے بیشتر کیسوں میں فلو۔زکام۔ کی ایک جیسی ہی علامات ظاہر ہوئی ہیں وہ بیرونی زائرین غیر تشخیص شدہ فلو کے پردے میں چھپ گئے ہوں۔ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اسپین میں 15 جنوری کو بھی پانی میں کورونا وائرس کی موجودگی تھی۔ پروفیسر بوش نے یونیورسٹی کی ویب گاہ پر جاری کردہ بیان میں لکھا ہے کہ کووڈ 19 کا شکار ہونے والوں کی ابتداء میں غلطی سے زکام کے مریض کی تشخیص کی گئی تھی اس لئے صحت عامہ کے کسی قسم کے حفاظتی اقدامات سے قبل ہی کمیونٹی میں وائرس پھیلتا چلا گیا، انہوں نے مزید کہا ہے کہ بارسلونا میں بالخصوص سارس کووڈ 2 کا اس وباء سے نمٹنے کے لئے اقدام سے کوئی ایک ماہ قبل پھیلنے کا سراغ ملا ہے۔ اٹلی کے سائنسدان بھی اس سے ملتی جلتی تحقیق کے نتائج منظر عام پر لائے ہیں ان کے مطابق اٹلی کے شمالی علاقے میں دسمبر 2019 میں استعمال شدہ پانی کے نمونوں میں COVID-19 کے آثار ملے تھے، فرانس میں ایک شخص 27 دسمبر کو کورونا وائرس کا شکار پایا گیا تھا جبکہ فرانس نے اس کے ایک ماہ بعد اپنے ہاں کورونا کے پہلے کیس کی تشخیص کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے