۔،۔ سوچ کا محور ۔ طارق حسین بٹ شان۔۔،

جنوبی ایشیا کا خطہ اس وقت تیسری عالمگیر جنگ کا میدان بننے کے لئے پر تول رہا ہے۔بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہٹ دھرمیاں اور امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ کاگھمنڈ کہیں تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔دنیا کو اپنے گھٹنوں میں دبائے رکھنے کی ان کی دیرینہ عادت انھیں مجبور کر ہی ہے کہ وہ کمزور ممالک کو سانس لینے کی مہلت نہ دیں۔ ان کے منہ زور جذبات کو لگام دینا کسی کے بس میں نہیں ہے۔دونوں کی پنگے بازی چین سے ہے اور چین میں اتنا دم خم ہے کہ وہ ان دونوں سے نمٹ سکے۔خود نمائی کے مارے ہوئے کئی حکمران اخباری بیانات کی حد تک امریکہ کو لتاڑنے کی مشق ضرور کرتے رہتے ہیں لیکن وقتِ ابتلاء اسی امریکہ کے سامنے سر نگوں بھی ہو جاتے ہیں۔ در اصل قد بڑھانے کا ایک قدیم نسخہ یہ بھی کہ امریکہ کے خلاف کو ئی بیاں داغ دو۔افغانستان پر روسی چڑھائی کا منظر ہو یا پھر نائن الیون کا معرکہ ہو پاکستان ہمیشہ امریکہ کا بغلی بچہ ثابت ہوا ہے اور بغلی بچہ ثابت ہونے کا یہ سفر ہنوز اسی طرح جاری و ساری ہے۔دنیا کو دکھانے کے لئے اور اپوزیشن کو زچ کرنے کے لئے اخباری بیانات ضرور داغے جاتے ہیں لیکن حتمی طور ہمارے ناخدا کو لہو کے بیل کی طرح اسی مقرر کردہ دائرے سے باہر نہیں نکلتے۔ابھی حا ل ہی میں اشرف غنی،امریکہ اور طالبان کے درمیان جو امن معاہدہ ہوا ہے اس میں بھی پاکستان نے امریکی اشاروں پر سارے پراسس کو تکمیل پذیر کیا ہے۔افغان معاہدہ اگر چہ کچھ مشکلات سے دوچار ضرور ہے لیکن وہ ملک جہاں پر اتنے زیادہ عسکری گروپ ہوں وہاں پر اس طرح کی صورتِ حال پیدا ہونا فطری ہوتا ہے۔ اقتدار کے حواہش مند کثیر ہو ں تو امن کی منزل دور ہو جاتی ہے۔۸۸۹۱؁ میں سوویت یونین کی پسپائی کے بعد افغان مجاہدین کی باہمی آویزش نے امن و امان کو جو برا حال کیا تھا اسی سے طالبان ظہور پذیر ہو ئے تھے۔ بد امنی اور خانہ جنگی روز مرہ کے معمولات بن چکے تھے حالانکہ مجاہدین ہو نے کی جہت سے اس طرح کا ماحول پیدا نہیں ہو نا چائیے تھا لیکن ایسا ہوا کیونکہ منزل اقتدار کا حصول ٹھہری تھی۔اس طرزِ فکر سے مجاہدین کے نظریے کو بڑی زک پہنچی تھی اور عوام میں ان کا ا میج بری طرح متاثر ہو اتھا لیکن مجا ہدین نے پھر بھی اپنی روش نہ بدلی جس کا خمیازہ انھیں جلدی بھگتنا پڑا۔ملا عمر کی سربراہی میں طالبان نے کابل کو فتح کر کے ایک نئی تاریخ کی ابتدا کر دی تھی۔ایک ایسی تاریخ جس کی زد میں امریکہ جیسی سپر پاور کو بھی دن میں تارے نظر آنے لگے تھے۔ ملا عمر کی لڑائی امریکہ بہادر اور اس کی افواج سے تھی۔ وہ افغان سر زمین کو امریکی افواج سے پاک کرنا چاہتے تھے۔وہ غیروں سے اپنی قوم کو نجات دلانا چاہتے تھے۔یہ جنگ طویل ہوتی گئی تو طالبان کو شدید زک پہنچی۔ اسامہ بن لادن طالبان کا ہیرو تھا کیونکہ وہ ان کو مالی امداد سے نوازتا تھا جبکہ پاکستانی اسے دھشت گرد سمجھتے تھے۔ اس نے امریکی مخاصمت میں پاکستان میں آگ و خون کی جو ہولی کھیلی وہ ناقابلِ برداشت تھی۔ اسامہ بن لادن کی بھڑکائی ہوئی آگ سے ہزاروں پاکستانی اس آگ کا ایندھن بنے جو کئی سالوں تک جاری رہی۔پاک فوج کی بر وقت کاروائی اور ضربِ عضب جیسے اپریشن سے اسامہ بن لادن کے تیار کردہ دھشت گردوں کا جس طرح سے قلع قمع ہوا پاکستان قوم اپنی فوج کے اس عظیم کارنامے پر ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔یہ انتہائی مشکل ہدف تھا جسے پاک فوج نے اپنی لازوال قربانیوں سے ممکن بنایا تھا۔وزیرِ اعظم پاکستان کے منہ سے اسامہ بن لادن جیسے دھشت گرد کے لئے شہید کا لفظ انتہائی نا مناسب تھا۔ضروری ہے کہ وزیرِ اعظم اپنے الفاظ واپس لیں اور پوری قوم سے معافی مانگیں کیونکہ یہ عوام اور فوج کی توہین ہے۔یہ ان شہیدوں سے بے وفائی ہے جھنوں نے اپنے لہو سے دھشت گردی کی آگ بجھائی تھی۔،۔بات شروع ہوئی تھی بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جارحیت اور ہوسِ ملک گیری سے۔وہ اس سلسلے میں کسی کو کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ امریکہ اوراسرائیل کی پشت پناہی اسے اقوامِ عالم میں نیا کردار عطا کر دے گی۔ دو سال کے لئے سلامتی کونسل کا ممبر بننا اسی کا شاخسانہ سمجھا جا رہا ہے۔بھارت کا سلامتی کونسل کی نشست کے لئے ۴۸۱ ووٹ حاصل کرنا ایک ایسی انہونی ہے جس پر حکومتِ پاکستان پر شدید تنقید جاری ہے۔سوال یہ نہیں ہے کہ بھارت دو سال کے لئے ممبر بن گیا ہے سوال یہ ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف فرضیو ں کے باوجود اقوامِ عالم نے اس پر اندھا اعتماد کیسے کر لیا۔؟ نریند مودی ایک فاشسٹ ہے اور بھارت میں اس نے جس طرح ہندو ترا کے نظریے کو فروغ دیا ہے اسلامی دنیا نے مودی کی مذمت کرنے کی بجائے اس کی گود میں بیٹھنے کو کیوں ترجیح دی؟اسلامی دنیا کی پشت پناہی ایک حیران کن امر ہے جو پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی کی گواہی دے رہا ہے۔۵ اگست ۹۱۰۲؁ کو بھارتی حکومت نے کشمیر میں لاک ڈاؤن کے جس وحشیانہ اور قبیح فعل کا ارتکاب کیا تھا اس پر پاکستان کی طرف سے طویل خاموشی بھارت کو شہہ دینے کے لئے کافی ہے۔ کشمیری ایک سال سے جس کرب سے گزر رہے ہیں اس میں پاکستان کی طرف سے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔چشمِ تصور سے دیکھیں کہ پچھلے ایک سال کے لاک ڈاؤن کے دوران کشمیریوں پر کیا گزری ہو گی؟ان کی عزتیں، ان کی عصمتیں کس طرح سے پامال ہو تی ہوں گی؟ کیسے کیسے روح فرسا مناظر روز جنم لیتے ہوں گے؟کیسے کشمیری پاک فوج کے قدموں کی چاپ سننے کے لئے بے تاب ہو ں گے؟ کشمیری کس طرح سے بند کواڑوں کے پیچھے سے سر فروشوں کی آہٹوں کے منتظرہوں گے؟ کشمیر کی مائیں بہنیں اور بیٹیا ں کس طرح عزت و آ برو کے رکھوالوں کی راہیں تک رہی ہوں گی؟کوئی ایسا لمحہ نہیں ہو گا جب وہ آسمان کی جانب منہ اٹھائے ربِ کریم سے اس کی رحمت کی طلبگار نہیں ہوتی ہوں گی۔ان کی ساری امیدوں کا محور و مرکز پاکستان ہے کیونکہ کشمیر اس کی شہ رگ ہے۔ایک ہزار سال تک جنگ کرنے والے ذولفقار علی بھٹو کی ایک وفعہ پھر ضرورت ہے جو بھارتی حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے اور اقوامِ عالم میں انھیں ننگا کر سکے۔اپریشن جبرا لٹر کا خالق کون تھا؟ کس نے بھارتیوں کو پاک فوج کی بسالتوں سے روشناس کروایا تھا؟ کس نے اقوامِ عالم کو بتا یا تھا کہ اس کرہِ ارض پر ایک ایسی قوم بھی آباد ہے جو زندگی کی بجائے موت سے محبت کرتی ہے۔جو شہادت کی آرزو میں مرنے کیلئے بے تاب رہتی۔ جو اسلام کی سر بلندی اور پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا اپنے لئے اعزاز سمجھتی ہے۔دنیا اس قوم کو پاکستانی کے نام سے پکارتی ہے۔اس قوم کے جوان آج بھی معرکہ حق و باطل میں سرکٹانے کیلئے سر بکف کھڑے ہیں۔وہ قوم کی پکار پر لبیک کہنے کیلئے تیار ہیں۔ ان کے بدن میں سرخ لہو اسلام کی خاطر بہنے کیلئے بے قرار ہے۔وہ اپنی جوانیوں کا خراج دینے کیلئے بے قرار ہیں لیکن کوئی تو انھیں اذنِ شہادت دے۔امریکی ثالثی کی باتیں کرنے والے اب کہاں ہیں؟ کیوں امریکہ کو اب یاد نہیں کروایا جا تا کہ آپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرنی تھی۔آگ اور خون کی ہولی میں کشمیریوں کی نجات کیلئے امریکہ کا سامنے آنا ضروری ہے لیکن ایسا کب ہو گا؟ عظیم شاعر نے سچ کہا تھا (تیغوں کے ساے میں پل کر جواں ہو ئے ہیں۔خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا)بس ایک قدم اٹھانے کی ضروت ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے