۔،۔عوام کی بے حسی۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔


پچھلے ایک گھنٹے سے میں اور میرا دوست میڈیکل سٹوروں کی خاک چاٹ رہے تھے‘ پیسے ہاتھ میں تھے لیکن کرونا سے وابستہ دوا یہاں ماسک سینی ٹائزر جراثیم کش محلول نہیں مل رہے تھے میں پچھلے دن سے یہ کو شش کر کے تھک گیا تو اِس فیلڈ کے ایکسپرٹ کو اپنی مشکل بتائی تو وہ بیچارہ میری مدد کو آگیا کو ئی ضرورت مند جس کے گھر کے ایک فرد کو کرونا ہو گیا تھا لیکن شعور ی بیدار ی نہیں تھا اِس لیے میں نے سوچا اِن کو کرونا سے بچاؤ کی حفاظتی چیزیں لے کر دے آؤں تاکہ جب چیزیں گھر ہو نگی تو مجبوراً استعمال کر لیں گے اِس طرح اُن کے گھر کے باقی افراد اِس موذی مر ض سے بچ سکیں گے لیکن میڈیکل سٹوروں پر مالکان کے ناروا روئیے من مر ضی کی قیمتیں یہاں تک کہ مو قع غنیمت جان کر سب لوٹ مار پر لگے ہوئے تھے آخر کار کئی سٹوروں پر دھکے کھانے کے بعد ہم ڈبل ٹرپل سے بھی زیادہ قیمتوں پر مطلوبہ چیزیں حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے میرا دوست فاتحانہ نظروں سے میری طرف دیکھ کر داد طلب کر رہا تھا جو میں نے اداکر دی‘ ماسک ملاوٹ والے سینی ٹائزر اور جراثیم کش محلول زیا دہ جگہوں پرمہنگے ملے ایک دو جگہوں پر میرے دوست نے لوٹ مار کہہ کر احتجاج کیا تو وہ بو لا جناب آپ کو اس افراتفری میں چیز مل رہی ہے آپ اِس کا شکریہ ادا کریں جناب لوگ ہا تھوں میں روپے لے کر گھوم رہے ہیں چیزیں نہیں مل رہی جبکہ ہم جب سے کرونا آیا ہے ہم تو آپ لوگوں کی سہولت آرام علاج کے لیے چیزیں آپ کو دے رہیں ہیں آپ کو تو ہمارا شکر گزار ہو نا چاہیے اللہ کا شکر ادا کریں پیسوں سے بھی دوا یہاں مل رہی ہے یہاں تو وہ وقت بھی آسکتا ہے جب پیسے ہوں گے لیکن کوئی چیز نہیں ملے گی دو کاندار اپنی ہی گھڑی ہوئی دلیل دے رہا تھا میں قوم کے اجتماعی شعور او ربے حسی پر پریشان تھا کہ ہمارا ملک اسلام دین کے نام پر آزاد ہوا لاکھوں آزادی کے گمنام ہیرو نے پاک باز معصوم حوا کی بیٹیوں نے اِس ملک کی آزادی کے لیے اپنی عزتوں جانوں کے نذرانے پیش کئے اور آج یہ حال ہے کہ گورنمنٹ اور ہر دور کے حکمران نے تو عوام کے وسائل پر خوب ڈاکے مارے ہی ہیں موجودہ حکمرانوں نے تو ریکارڈ ہی توڑ دئیے یورپ امریکہ کی خارجی حکومت کی مثالیں اور پھر ریاست مدینہ کی مثال دے کر بے چار ے معصوم سالوں سے عوام کش نظام میں پستے ہوئے عوام کو خواب دکھا کر جو اِس کے ساتھ سلوک کیا وہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی حکومت کی بے حسی لا پرواہی غیر سنجیدگی اور اپنے ہی فلسفوں سقراطوں میں باتوں کی جادوگری تقریروں کا زعم خو شامدی مشیروں کا سب اچھا کہنا اور آپ ہی مسیحا عظیم ہیں کی گردان ہر وقت کر تے رہنا یہ ظلم تو ہو نا تھا جو ہو گیا اب عوام کا حال دیکھیں تو جگر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں پاکستان میں پر بندہ شکاری بن کر گھات لگائے بیٹھا ہے کب کوئی میرے حلق میں آئے کب میں اُس کو چیڑ پھاڑ دوں جب بھی کوئی آسمانی اور زمینی آفت آتی ہے تو یہ دیہاڑی باز سرمایہ کار ذخیرہ اندوز حرکت میں آجاتے ہیں سارا سامان اٹھاکر مصنوعی قلت پیدا کر کے اپنی مرضی کی قیمتیں ریٹ سیٹ کر تے ہیں عوام اُس آفت کے خوف سے پیسے لے کر نکلتی ہے تو چیزیں راتوں رات غائب اور پھر یہ ذخیرہ اندوز مافیا اپنی مرضی سے قیمتیں طے کر کے تھوڑاتھوڑا سا سامان مارکیٹ میں لاتے ہیں ان کی اس چالاکی کو ٹریڈر دوکاندار تھوک پرچون والے بھی بھانپ لیتے ہیں اِس طرح نیچے سے اوپر تک سار ے ہاتھوں میں خنجر پکڑ کر آجاتے ہیں اور عوام بیچاروں پر لوٹ مار چیڑ پھاڑ شروع کر دیتے ہیں اب جب یہ لوٹ مار کر رہے ہو تے ہیں تو اِس کو ذخیرہ اندوزی کا نام نہیں دیتے بلکہ کاروبای چالاکی کی ذہانت کا نام دیتے ہیں کہ دیکھ لو ہم نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اگلی پچھلی ساری کثریں نکال لی ہیں ذخیرہ اندوز اور مافیاز جب اِس لوٹ مار میں مصروف ہو تے ہیں تویہ اس کو گناہ یاضمیر کی آواز بلکل نہیں بزنس کی درست اپروچ قرار دیتے ہیں حیران کن منظر یہ سامنے آتا ہے کہ جب لوٹ مار کا یہ بازار گرم ہو تا ہے تو اِن کی روزانہ ماہانہ کمائیا ں بہت زیادہ کو ہ ہمالیہ کی طرح آسمان کو چھو رہی ہو تی ہیں تو اِس کو گناہ کی بجائے اللہ کا خاص کرم قرار دے رہے ہو تے ہیں کہ خدا کا خاص فضل ہے اللہ کے کرموں کی بارش ہے اِس لوٹ مار میں بار بار سجدوں میں جا کر نمازیں شکرانے کے نوافل ادا کر تے رہتے ہیں ماتھوں پر محراب بنا لیتے ہیں فخریہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں تمہاری عبادات قبول ہو رہی ہیں یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں ذخیرہ اندوزی اور مشکل وقت پر عوام کو بلیک میل کر کے لوٹ مار کر کے روپیہ حرام ہو تا ہے اسے ذخیرہ اندوزوں اور دوکانداروں کے ماتھوں پر عبادت کے کالے نشان جن کو یہ فخریہ پیش کر تے ہیں کہ یہ کالک کے نشان ہیں جن سے اِن کے دل روح جسم کا رواں رواں بھی کالا ہو جاتا ہے یہ عبادت کے نہیں ذخیرہ اندوزی کی بلیک میلنگ لوٹ مار غریبوں کے خون پسینے کی کمائی کے کالے داغ ہیں تم مسجدوں میں حرام ذخیرہ اندوزی کر تے عبادت نہیں ٹکریں مارتے جاتے ہو ڈیل کرتے ہو ایسی نمازیں واپس ایسے لوگوں کہ منہ پر مار دی جاتی ہیں ایسے لوگ عبادت کر کے شکرانے کے نوافل ادا کر تے ہیں یا مسجد کے بکس میں پیسے ڈالتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ جب بھی کوئی آفت مشکل یا غذائی قلت کا وقت آتا ہے تو یہی وہ لوگ ہو تے ہیں جو چھرے تیز کر کے مجبور بے بس لاچار ضرورت غریب عوام کی کھالیں بے دردی سے اتار نا شروع کر دیتے ہیں کیا اُس لوٹ مار اور عوام کی کھالیں اتارتے وقت کیوں یہ خیال نہیں آتا ہے کہ اللہ تعالی نے ذخیرہ اندوزی اور مظلوم کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے سے سختی سے منع کیا ہے جائز منافع سے زائد منافع لینا حلال ہے یا حرام اسے مذہبی لوگ جو لوٹ مار کر کے عبادات کر تے ہیں یہ بھو ل جاتے ہیں کہ تقوی عبادت کے لیے رزق حلال بہت ضروری ہے اور رزق حلال عین عبادت ہے کیا یہ شکاری جو ساری زندگی ایسے وقتوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور پھر جب خوب لوٹ مار کر کے بعد میں ویسی ہی آفتوں کی دعا کر تے ہیں کہ ایک بار پھر مظلوم عوام پھر اُسی مصیبت میں پڑے تو پھر ان کی عظیم دیہاڑی لگ جائے تاکہ ان کے بینک بیلنس بڑھ جائیں پلازے جائیدادیں کھڑی ہو جائیں ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ چند عشرے ہی پہلے کچھ اور لوگ ان کی جگہوں پر اسی طرح لوٹ مار دیہاڑی شکار کر رہے تھے آج وہ گمنام قبروں میں ہیں جن کے جسموں میں کئی سوراخ کیڑے مکوڑوں نے چاٹ لیا جن کو اسی طرح گردش ایام کے ساتھ یہ بھی نہیں رہیں گے لیکن مجال ہے جو اِن کی خون آلودہ زبانوں کو بریک لگے پر بڑھاپے کی دہلیز پر جب اِن کے جسموں میں گرم خون ٹھنڈا پڑ چکا ہو تا ہے لیکن یہ پھر بھی ندیدو ں کی طرح اُسی طرح لوٹ مار ذخیرہ اندوزی میں لگے ہو تے ہیں اپنی آنے والی نسلوں کو اپنے کالے کرتوت طریقے بڑے فخریہ انداز میں سکھا کر کہتے ہیں اس طرح بزنس کرو یہ کالے کرتوتوں اور روز محشر کا بوجھ اٹھا نے والی قوم صرف پاکستان میں ہی ہے آپ رمضان میں باقی مذہبی دنوں میں پو ری دنیا کی مسلم غیر مسلم قوموں کی تاریخ دیکھ لیں ہر جگہ مذہبی دنوں تہواروں کا احترام کیا جاتا ہے چیزیں سستی کی جاتی ہیں لیکن آپ پاکستان کی کاروباری طبقے کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں رمضان یا آفت مشکل کو ئی وقت آیا نہیں انہوں نے ذخیرہ اندوزی اور چھرے تیز کئے ہیں بڑی لوٹ مار والوں کا ایک اور شرمناک پہلو خوب لوٹ مار کر کے عمرے پر چلے جائیں گے حج یا زیارتوں پر چلے جائیں گے وہاں جا کر لنگر بانٹتے نظر آتے ہیں کو ئی اِن سے پوچھے کہ تمہارے جسم میں غریبوں کا خون جو تم لوگوں نے لوٹ مار کے چوسا تم کس منہ سے مکہ مدینہ گئے ہو اس میں کو ئی شک نہیں کہ ریاست کو ایسے کالے دھندے کرنے والوں کو پکڑ کر انہیں سزائیں دے کر ان کو راہ راست پر لانا چاہتے لیکن ہر کام گورنمنٹ کر ے عوام تو ہم جس ذخیرہ اندوزی لوٹ مار میں شامل ہو تی ہے اس میں گورنمنٹ نہیں بلکہ عوام کی اجتماعی بے حسی شامل ہو تی ہے جو لوٹ مار کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ جو جائیداد مال اکٹھا کر رہے ہیں آپ کے مرنے کے بعد آپ کے وارث عیاشی گناہ حرام کا ری کریں گے تو گناہوں کا یہ بوجھ آپ کے مر نے کے بعد بھی جاری رہے گا جو قبر اور قیامت کے دن تم لوگوں سے پھر اٹھا یا نہیں جائے گا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے