-,- “کچھ دل کی باتیں”- بصد شکریہ پروفیسرمسعود اختر ہزاروی-,-

جب سے معلوم دنیامعرض وجود میں آئی ہے اس قت سے آج تک بنی نوع انسان ترک وطن کرتے رہے۔ کبھی یہ تارکین کسی معاشی مجبوری کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ گئے اور کبھی اس کے پس منظر میں کوئی مذہبی، سیاسی یا سماجی عوارض کارفرما رہے۔ اس وقت ایشیا اور افریقہ میں معاشی ناہمواریاں اور مشکلات ہیں۔ اسی وجہ سے لوگ سہانے خواب دلوں میں سجائے، روشن مستقبل کی امیدوں کے ساتھ امریکہ اور یورپ کی طرف رخ کر ر ہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپین ممالک کو تعمیر نو کیلئے افرادی قوت درکار تھی۔ اس سلسلے میں برطانیہ میں زیادہ تر تارکین جنوبی ایشیا سے آئے پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے آنے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مسلمان ہیں۔ آغاز میں تو یہی ارادے تھے کہ پیسہ کمائیں گے اور پھر واپس اپنے ملکوں میں خوشحال زندگی گزاریں گے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔قدرت ِخدا وندی کے سامنے انسانی تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ جس خطہ زمین کو خیرآباد کہہ کر ہم لوگ یہاں آئے ابھی زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ برطانوی راج میں اسے”سونے کی چڑیا“ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ اور آج بھی میرے پاس موجود فیروز سنز کی آکسفورڈ کی ڈکشنری میں ”نواب“ کا معنی وہ برطانوی باشندے ہیں جو برصغیر میں جا کر اچھی نوکری کرتے اور اپنے ملک برطانیہ میں واپس آکر خوشحال زندگی گزارتے تھے۔ وہاں اپنوں کی بد عنوانیوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ وہی خطہ زمین معاشی وسائل کی غلط تقسیم کی وجہ سے اپنے ہی باسیوں کیلئے تنگ ہوگیا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بظاہر وہاں کے ایسے ابتر حالات ہی ترک وطن کا بنیادی سبب بنے۔ لیکن خالق کائنات کی زمین دوز حکمتوں اور تدبیروں پر غور و تدبر کے بعد یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حقیقت میں اللہ تعا لیٰ نے اسی وسیلہ سے دین اسلام کی کرنوں کو زمین کے کونے کونے تک پہنچاناتھا۔ آج ہر جگہ مساجد، مدارس اور کمیونٹی سنٹرز قائم ہیں۔ لوگوں کو آگاہی ہوئی کہ اسلام کیا ہے؟ بہت سارے غیر مسلموں نے بھی اپنے آبائی مذاہب کو ترک کرکے اسلام قبول کیا۔لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ کہ ہماری غفلتوں یا ناتجربہ کاریوں نے کچھ ایسے گل بھی کھلائے جو اسلام کی بد نامی کا سبب بنے۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مسلمان نوجوانوں کی بدکاریوں میں ملوث ہونے کی خبریں ہوں یا ڈرگ کے ذریعہ ناجائز دولت کاحصول۔ جیلوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہو یا تعلیمی میدان میں ہماری کمزوریاں۔ یہ سب ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ حالات حاضرہ ہمیں خواب غفلت سے جاگنے کا پیغام دے رہے۔ کسی بھی محفل یا مجلس میں جب اسی موضوع پر گفتگو چھڑ جائے تو ہمارے لیے آسان رستہ یہی ہوتا ہے کہ ماحول اور معاشرے کی خرابی پر لعن طعن کر کے اپنی منصبی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور انہیں نبھانے کا عزم مصمم کرنے کی بجائے دوسرے لوگوں پر تنقید کا سہارا لیکر خو د بزعم خویش اپنی ہی نظروں میں دودھ سے دھلے اورعیبوں سے پاک متصور ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ مسئلہ کا حل ہے اور نہ ہی حقیقت کو پہچاننے کا سلیقہ۔ ہمیں احساس ہو یا نہ ہو بہرکیف اب یہی ہمارا وطن بن چکا ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں نے اسی ماحول میں پل بڑھ کے جوان ہونا ہے۔ اب تو”دیار غیر“ کی اصطلاح بھی کافی پرانی ہو چکی ہے۔ وقت، ماحول اور حالات کے تناظر میں نئی نسل کی نظریاتی اور عملی تربیت کا اہتمام ہماری بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ نظریات ہی وہ عظیم فکری بنیاد ہوا کرتے ہیں ہے جن پر کرداراوراعمال کی دیوار تعمیر ہوتی ہے۔ اور ہمیشہ حسن کردار ہی انسانوں کو زندہ جاوید رکھتاہے نہ کہ صرف مادی دولتوں کے انبار۔ نسل انسانی میں کئی کھرب انسان گزر چکے مگر تاریخ کے صفحات پر چند وہی شخصیات زندہ جاوید نظر آتی ہیں جو صاحب کردار تھے۔ دوسری طرف بدکرداری کے نام پر مشہور ہونے والوں کے نام بھی گالی بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یزیدیت اور فرعونیت کی اصطلاحات انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ شمار ہوتے ہیں۔ کوئی باشعور فرد انہیں اپنانے کیلئے تیار اورنہ اچھا کہنے پر راضی ہے۔ انسانوں اور حیوانوں میں بنیادی فرق ہی کردار کی حسن و خوبی ہے۔ ورنہ کھانا، پینا، افزائش نسل، گوشت پوست اور ہڈیوں سے مجسم ہونا تو جانوروں میں ہم سے کہیں بڑھ کے ہے۔ بلکہ قرآن پاک نے تو سورہ الملک میں موت و حیات کی کشمکش کا سبب ہی کردار کی آزمائش کو قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں جب تک ہماری ترجیحات طے نہیں ہوتیں اس وقت تک ہم درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے الجھنوں کا شکار رہیں گے۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہماری سب سے بڑی دولت کیا ہے؟ یقینا ہماری قیمتی دولت وہ بچے ہیں جن سے ہمارے گھروں کی رونقیں بحال ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ اخلاقی، روحانی اورسماجی تربیت کر کے انہیں صاحب کردار مسلمان اور معاشرے کا با وقار فرد بنائیں۔ ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ اگر اس دولت کو گنوا بیٹھے تو بہت کچھ گنوا بیٹھیں گے۔ ان حالات میں دوسروں کے ہاتھوں کی طرف دیکھنے کی بجائے ہر ایک کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا اور اپنی ذمہ داریوں کو خود ہی نبھانا ہو گا۔ کیونکہ

اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن اپنا
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کاندھا نہیں دیتا

تاریخ انہیں لوگوں کو یاد کرتی ہے جو اپنی صلاحیتوں کو مثبت طریقے سے استعمال کر کے معاشرے میں اپنے حصے کا کردار بطریق احسن ادا کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے گھر، کمیونٹی اور اچھی صحبت کے اثرات ہوتے ہیں اور یہی کردار سازی کے بنیادی عوامل ہیں۔ کیونکہ نفاست اور شرافت مزاج اور کردار میں آئے تو تب ہی بات بنتی ہے ورنہ آزمائش کی گھڑی میں پول کھل جاتے ہیں اور جبہ و دستار اور خوشنما لباس بھی بھرم رکھنے میں بسا اوقات ناکام ہو جاتے ہیں بقول کسے۔

لباس پارسائی سے شرافت آنہیں سکتی
شرافت نفس میں ہوگی تو بندہ پارسا ہوگا

کورونا وائرس نے بھی ہمیں کئی سبق سکھائے۔ یورپ میں رہتے ہوئے قدرت کی بے پایاں نعمتیں ہمیں میسر ہیں۔ اس وجہ سے ذہنی آسودگی بھی ہے۔ لیکن ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرنی ہے کہ وہ قانون دان، ڈاکٹر، ا نجینئر، آئی ٹی کے ماہر یا کچھ بھی بن جائیں پہلے انہیں ایک باوقار، خوش اخلاق اور باعمل مسلمان بھی بننا چاہیے۔ یہی لوگ حقیقی معنوں میں اسلام کے سفیر ہیں۔ اور اس طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ اسلام کے لبادے میں وہ کسی دہشت گرد گروپ کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ ہم دیندار سمجھتے رہیں اور وہ کوئی اور گل کھلا دیں۔ تعلیم وہی تعلیم ہے جو معاشرے کا اچھا شہری، خاندان کا باوقار فرد بنانے کے ساتھ ساتھ قرب ا لہٰی کی دولت سے مالا مال کردے۔ اگر تعلیم اور اسبابِ حیات اللہ کی بارگاہ سے دوری کا سبب بنیں تو وبال جان بن جاتے ہیں۔ نہ اِدھر اطمینان اور نہ اُدھر سکون۔ بہرکیف

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے