-,-منگول سلطنت کے بانی چنگيز خان کے پوتے کا نام ہلاکو تھا، اس نے بغداد پر قبضہ کيا اور اسے پوری طرح لوٹ ليا۔,-

منگول سلطنت کے بانی چنگيز خان کے پوتے کا نام ہلاکو تھا، اس نے بغداد پر قبضہ کيا اور اسے پوری طرح لوٹ ليا۔ بعض حوالوں کے مطابق اس نے دو لاکھ اور بعض کے مطابق چار لاکھ انسانوں کو قتل کيا۔ اس نے بغداد کی ساری قديم مسجديں، مکتبے اور محل ڈھا ديے۔يہ ساری قيامتيں ہلاکو نے برپا کيں۔ اسی ظالم حکم راں نے جو بہت دور سے آيا تھا ايک حکم جاری کيا کہ وہ بغداد کے سب سے بڑے عالم سے ملنا چاہتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی عالم ہلاکو سے ملنے کے ليے تيار نہيں ہوا، آخر کار کادہان نام کا ايک کم عمر نوجوان جس کی ابھی داڑھی بھی نہيں نکلی تھی اور ايک مدرسے ميں معلم تھا ہلاکو کا سامنا کرنے کے ليے راضی ہوگيا۔ہلاکو سے ملنے کے ليے جاتے ہوئے کادہان نے اپنے ساتھ ايک اونٹ، ايک بکرا اور ايک مرغا بھی لے ليا۔ نوجوان عالم کادہان، ہلاکو کے خيمے کے پاس پہونچا، اور ہلاکو سے ملنے اندر چلاگيا۔ہلاکو نے نوجوان عالم سے پوچھا: مجھ سے ملنے اور ميرا سامنا کرنے کے ليے بغداد والوں کے پاس تمہارے سوا کوئی اور نہيں تھا؟؟ کادہان نے جواب ديا کہ اگر آپ مجھ سے بڑے سے ملنا چاہتے ہيں تو باہر ايک اونٹ موجود ہے، اگر داڑھی والا چاہتے ہيں تو باہر ايک بکرا موجود ہے، اور اگر بلند آواز والا چاہتے ہيں تو باہر ايک مرغا بھی موجود ہے، آپ جسے چاہيں بلا ليں۔ہلاکو بھانپ گيا کہ اس کے سامنے کھڑا ہوا شخص کوئی عام آدمی نہيں ہے۔تب ہلاکو نے اس سے پوچھا، يہ بتاؤ کہ ميرے يہاں آنے کی وجہ کيا ہے؟ نوجوان نے اسے بہت گہرا جواب ديا، اس نے کہا: ہمارے اعمال اور ہمارے گناہ تمہيں يہاں لائے ہيں، ہم نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہيں کی، اس کی نا فرمانيوں ميں آگے بڑھتے گئے۔دنيا، مال ودولت اور زمين جائيداد ہمارے دلوں ميں رچ بس گئے، اس ليے اللہ نے آپ کو ہمارے پاس اپنا عذاب بنا کر بھيجا ہے تاکہ اس نے ہميں جو نعمتيں دی تھيں وہ ہم سے واپس لے لے۔ يہ جواب سن کر ہلاکو نے دوسرا بڑا عجيب سوال کر ديا، مجھے کون يہاں سے نکال سکتا ہے؟ نوجوان نے جواب ديا: جب ہم نعمتوں کی قدر جان ليں گے، ان کا شکر ادا کرنے لگيں گے، اور آپس کے اختلافات ختم کرليں گے، تو اس وقت پھر آپ يہاں ہرگز نہيں رہ سکيں گے۔
تبصرہ:سائنس بہت ترقی کر چکی ہے مگر وہ بھی صرف آنے والوں کو روک سکی ہے مگر جانے والوں کو نہیں ہماری کیا مجال کہ جانے والوں کو روک سکیں، دنیا میں دو ہی لفظ ہیں وفاداری اور بے وفائی کچھ لوگوں نے بے وفائی کی۔انگارہ بھی محفوظ رہے اور دھاگہ بھی، گُل کی آنکھ سے آنسو بھی نکلے، وہی بات ہے آدمی دنیا میں اچھا یا برا کوئی نہیں سب کی اپنی مصلحت ہے ان میں سے بے وفا کوئی نہیں ان پتھروں کے شہر میں آپ جہاں بھی سر جھکائیں گے آپ کو سنگ کے پتلے ہی ملیں گے ان پتلوں میں دیوتا کوئی بھی نہیں،کسی نے کیا خوب کہا ہم بڑے اس لئے ہو گئے ہیں کہ ہمارے بڑے نہیں رہے، پاکستان کو اپنی بنیاد نہیں مل پا رہی بڑا دشوار کام ہے کسی عمارت کی بنیاد کا پتھر ہونا۔کُتا  اپنے بچے کو پالتا ہے اور شیر اپنے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ اگر اپنے ملک کو بچانا ہے تو جتنی بھی نفرتیں ہیں ان کو صندوق میں ڈال کر گہرے پانیوں میں سمندر بُرد کر دینا چاہیئے اور انسانیت کو بچا لینا چاہیئے،اس وقت پوری دنیا کو صرف محبت کی ضرورت ہے۔ ہم جب سامنے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ہی خاندان کے ہیں کوئی چاچا ہے کوئی ماما کوئی بھائی تو کوئی بھتیجا کوئی سسر تو کوئی داماد یہاں دل بہکتا ہے سوچتا ہے کہ ماروں تو کسے ماروں سب تو اپنے ہی ہیں ان کو مار کر کیا ملے گا بڑی الجھن ہے یہ کیسی جنگ ہے کہ جس میں ہم ہار کر بھی جیتیں گے اور جیت کر ہاریں گے فیصلہ ہی نہیں ہو پائے گا ہم اپنوں کو مار کر حکومت حاصل کر بھی لیں تو کیا سکون سے بیٹھ پائیں گے چین سے رہ پائیں گے یہ سب کو مل کر سوچنا ہے۔ اس وقت مسلمانوں ميں ايک بڑی بيماری يہ پھيلی ہوئی ہے کہ دوسری اقوام پر آنے والی قدرتی آفتوں کو تو وہ پورے يقين کے ساتھ اللہ کا عذاب قرار ديتے ہيں ليکن اپنی حالت کی بے انتہا خرابی کو بھی احتساب کی نگاہ سے نہيں ديکھتے ہيں۔حالانکہ ہماری تاريخ ميں ايسی بہت سی حکايتيں ہيں جو خود احتسابی کا احساس ابھارتی ہيں۔ رجب طيب اردگان ترک قوم کو ايک نئی اٹھان کے ليے تيار کر رہے ہيں، وہ اس طرح کی حکايتوں کی اہميت کو بخوبی سمجھتے ہيں۔پاکستان کے مسلمانوں کے ليے بھی اس واقعہ ميں بڑا سبق ہے۔ اللہ کے تنبيہہی عذابوں کو دوسروں کے يہاں نہيں بلکہ خود اپنے يہاں ديکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ غفلت اور بے عملی کے پردے اور زيادہ دبيز ہوجائيں گے، اور صبحِ اميد اور دور ہوجائے گی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے