۔،۔کس قیامت کا انتظار ہے۔اے آراشرف۔،۔


ننھے اور معصوم تین سالہ بچے عیاد شاہد کو کیا معلوم کہ اُسے آغوش میں لیکر اُسے پیار کرنے والا اُسکا نانا جسکے سینے پر بیٹھ کروہ سسکیاں اور آنسو بہا کر اُسے گھر جانے کیلئے جگا رہا ہے وہ بھارتی افواج کی بربریت اور سفاکی کا نشانہ بن کر ابدی نیید سو چکا ہے مگر افسوس اس دلخراش سانحہ کے بعد بھی نہ تو مہذب دنیا کا مُردہ ضمیر جاگا اور نہ ہی مسلم اُمہ نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی سفاکی کا کوئی نوٹس لیا۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ارباب اقتدار اب کس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کشمیریوں پر قیامت تو اُسی روزہی نازل ہو گئی تھی جب مہاراجہ نے کشمیریوں کی خواہش او ر اُنکے بنیادی حقوق غصب کرکے بھارت سے الحاق کا اعلان کیا تھااگر اُس وقت کی حکومت تھوڑی ہمت اور دلیری کا مظاہرہ کرکے صرف ایک برگیڈ ہی فوج وہاں بھیج کر دفاع کرتی تو آج کشمیر ہمارے قبضے میں ہوتا مگر ہم نے وہ موقع ضائع کر دیا اور بھارت نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہوائی جہازوں کے ذریعے اپنی تھوڑی سی فوج سرینگرمیں اُتارکر وہاں اپنا قبضہ جما لیا جو ابھی تک برقرار ہے اور ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی خوش فہمی میں مبتلا ابھی تک۔ٹرک کی بتی۔کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔دوسری قیامت ہم پر اُس وقت نازل ہوئی جب بھارت کی دائمی سازشوں کے نتیجے میں ہمیں۔ سقوط ڈھاکہ۔ کے سانحہ سے دوچار ہونا پڑا اور ہم اپنے ایک بازو سے محروم ہو گئے اور ہم لکھنو کے نواب کی طرح۔اب کے مار۔کی گردان کرتے رہے یا پھربار بار اس بیان پر اکتفا کرتے ہیں کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو مُنہ توڑ جواب دیا جائے گا بھلابھارت کا دماغ خراب ہے کہ وہ وادی کشمیر جیسی سونے کی چڑیا کو چھوڑ کر۔آبیل مجھے مار۔کی غلطی کر کے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑا چلائیگا ہندو بنیا بہت مکار دشمن ہے وہ کبھی نقصان والا سودا نہیں کرے گا ہمارے حکمرانوں کی یہ روش رہی ہے کہ اُنہیں ہوش تب آتا ہے جب پانی سر سے گذر جاتا ہے اللہ تعالیٰ ہر قوم اورہرفرد کو موقع ضرور فراہم کرتا ہے لیڈروہی ہوتا ہے جواپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بروقت اور صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت اورقابلیت رکھتا ہوجنرل ضیاالحق مرحوم کے دور حکومت میں بھی قدرت نے اُسے سنہری موقع فراہم کیا تھا کہ اُن نامنہاد مجاہدین کو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے بھی استعمال کر سکتا تھا اُسوقت امریکہ اور اُسکے سب اتحادی روس کیخلاف جنگ میں ڈالڑ اور اسلحہ وافر مقدار میں مہیا کر رہے تھے مگر افسوس صدافسوس کے ڈالڑوں کی چمک دھمک نے ہمارے حکمرانوں کے دل و دماغ پر قبضہ جما لیا تھا اور وہ اپنے مفادات کی بجائے امریکی مفادات کا تحفظ کر تے رہے جس کا خمیازہ قوم ابھی تک بھگت رہی ہے۔یہ توکشمیریوں کی ہمت اور جُرات کو سلام جو بھارت کی تمام تر سفاکی اور بربریت کے باوجوداپنی تحریک آزادی کا پرچم سینہ تاں کے بلند رکھے ہوئے ہیں۔تیسری قیامت اُسوقت برپا ہوئی جب ۵ اگست۹۱۰۲ کونریندر مودی کی حکومت نے غیر قانونی کاروائی کے ذریعے بھارتی آئین کے آرٹیکل۰۷۳ کوختم کرکے کشمیر کو بھارتی حئصہ ثابت کرنیکا ڈھونک رچایا اور اپنے مقصد کے حصول کیلئے اُس نے وہاں دس لاکھ افواج اُتار کر کرفیو لگا دیا اور کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا اور پھر۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی حالیہ بربریت اورسفاکی کو دیکھ کر تو شاید اجل بھی کانپ اُٹھی ہو گی بتایا جاتا ہے کہ ضلع بالاکوٹ کے قریبی شہر سوپور کے علاقے ماڈل تاؤن میں بھارتی افواج نے سنگدلی اور سفاکی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے معصوم اور کمسن بچے عیاد شاہد کی آنکھوں کے سامنے اسکے معمر نانے بشیر کو گاڑی سے نکال کر گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کر دیا اور خون سے لت پت لاش کے سینے پر معصوم نواسے کو نیٹھا کر اُس معصو م بچے کی بے بسی اور سسکیوں سے بھارتی افواج لطف اندوز ہوتی رہی یہ منظر دیکھ کر تو مضبوط سے مضبوط اور پتھر کا دلرکھنے والے انسان بھی ایسی سفاکی اورظُلم پر آنسو بہانے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے بنیادی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے سینے میں شاید دل نام کی کوئی چیز نہیں اس موقع پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی باعث شرم اور اُنکے مُنہ پر طمانچہ ہے ہمارے ہونہار وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نہ جانے اب کونسی قیامت کا ذکر فرما رہے ہیں ہمارے مسلم اُمہ کے عقیدہ کیمطابق قیامت وہ روز حشر ہو گا جس روز خالق اکبرکائنات کے مُردوں کو دوبارہ زندہ کریگا اور اُنکے نامہ اعمال کو دیکھکر اُنکو سزا و جزا دی جائے گی اُس روز قادر مطلق کے دربار میں سب شاہ و گدا گر ایک ہی صف میں کھڑے کئے جائینگے۔بھارت کے بلامقابلہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتحب ہونا کوئی نئی بات نہیں وہ پہلے بھی کئی بارسلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن رہ چکا ہے مگر اس بارجب کہ اُس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے جو طریقہ اُسنے اختیار کیا ہے وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ اقوام متحدہ کیلئے باعث شرم ہے پھر جسطرح اُس نے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کی پامالی کے علاوہ سرچ اپریشن کی آڑ میں ظُلم و بربریت کی ایسی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کے لوگ ہٹلڑ جیسے امر کو بھول کر نریندر مودی کی سفاکی کی مثالیں دینگے۔میری نظر میں اس جرم میں وہ ممالک بھی برابر کے شریک ہیں جہنوں نے بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن منتحب کرنے کیلئے اُسے ووٹ دیا ہے ایسے موقع پر اُسکا بلا مقابلہ منتحب ہونا ہماری حکومت کی سفارتی ناکامی ہی تصور کیا جائے گا اورہمارے ہونہار وزیر خارجہ جناب شاہ محمود کا غیر سنجیدہ بیان کہ بھارت کے سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکن منتحب ہونے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی پتہ نہیں ہمارے وزیر خارجہ کو اب کس قیامت کا انتظار ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے