۔،۔ جب انسان تنہا مر جاتا ہے،اُس کی تلاش لاوارث سے شروع ہوتی ہے۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی میونخ۔ دنیا میں کون کیسے اور کیا ہے اس پر بات نہیں کرنی چاہیئے اور نہ ہی اس پر بحث ہو نی چاہیئے، ہر گناہ کے پیچھے گنہگار کون ہے یہ کوئی نہیں جانتا ببول کے جھاڑ میں پھول کیسے اُگتے ہیں یہ بھی اللہ کی مرضی ہے جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا خُدا ہوتا ہے وقت کسی کے ساتھ وفا نہیں کرتا لیکن وقت کی قدر کرنی چاہیئے اور وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنا اور اپنی اولاد عزیز و اقارب،والدین اور آخرت کی قدر کرنا ہی وقت کی قدر کرنا ہے۔ابھی گذشتہ دنوں میونخ کے علاقہ سے پولیس نے ہیڈ آف چانسلری شعیب منصور سے رابطہ کیا کہ ان کے پاس ایک پاکستانی کی ڈیڈ باڈی ہے جس کا کوئی وارث نہیں اس لئے ہم اُس کو بھٹی میں ڈال کر جلا دیں گے جس پر شعیب منصور نے میونخ کی کاروباری شخصیت خوشحال خان سے رابطہ کیا، خوشحال خان نے کوشش کر کے محمد شفیق اعجاز نامی کی لاش کو جلنے سے بچا کر جنازہ پڑھ کر عزت و احترام سے دفنانے کا اہتمام کیا۔قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ اور جرمن پاکستانی ثقافت اور بہبود ایسوسی ایشن نے مل کر جنازے کے اخراجات اُٹھائے چند افراد سے چندہ بھی وصول کیا گیا، مسلمان شخص كے جنازے ميں شركت اور اس كى نماز جنازہ ادا كرنا حتى كہ دفن تك شركت كرنا مسلمان كے حقوق ميں سے ہے، جيسا كہ بخارى اور مسلم ميں حديث مروى ہے:ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:” مسلمان كے مسلمان پر چھ حق ہيں: سلام كا جواب دينا، مريض كى تيمار دارى كرنا، اور جنازے ميں شركت كرنا، دعوت قبول كرنا، اور چھينك كى دعا پڑھنے والے كو دعا دينا”يعنى جنازے ميں شركت كرنا فرض كفايہ ہے، جب كچھ لوگ اس ميں شركت كرليں تو باقى افراد سے ساقط ہو جائیگا، اور جب سب افراد ہى اسے ترك كرديں تو وہ گنہگار ہونگے. اور جنازے ميں شركت كرنے كا حكم بخارى اور مسلم كى مندرجہ ذيل حديث ميں آيا ہے: براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں سات كام كرنےكا حكم ديا اور سات اشياء سے منع فرمايا: اور انہوں نے ذكر كيا: (مريض كى عيادت كرنا، جنازے ميں شركت كرنا، چھينكنے والے كو دعا دينا، سلام كا جواب دينا، مظلوم كى مدد كرنا، دعوت دينے والے كى دعوت قبول كرنا، اور قسم پورى كرنا) صحيح بخارى حديث نمبر (2445) صحيح مسلم حديث نمبر (2066) اور نمازہ جنازہ كى ادائيگى اور ميت دفن كرنے تك جنازہ ميں شركت كرنے كى فضيلت بيان كرتے ہوئے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ” جو جنازہ ميں نماز كى ادائيگى تك شركت كرتا ہے اسے ايك قيراط اور جو شخص دفن كرنے تك شركت كرتا ہے اسے دو قيراط ملتے ہيں، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا گيا كہ دو قيراط كيا ہيں؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: دوعظيم پہاڑوں كى طرح “-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے