-،-قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی -،-
منگل 7جولائی بعد نمازمغرب قلم کاروان اسلام آبادکی آن لائن ادبی نشست گوگل کی ”میٹ‘ ایپ پرمنعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں سہیل طارق بھٹی سروس انجینئر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزPIMSاسلام آباد،کامضمون ”پاکستان میں اسلامی نظام حکومت ہی کیوں؟؟“طے تھا۔ماہرقرآن اورمعروف کالم نگارجناب ڈاکٹرمرتضی مغل صدر پاکستان اکانومی واچ نے صدارت کی۔ جناب دل نوازخان نے تلاوت قرآن مجیدکی اورڈاکٹرساجدخاکوانی نے مطالعہ حدیث نبویﷺپیش کیااورمیرافسرامان نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کرسنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب سہیل طارق بھٹی نے اپنامضمون پیش کیا،صاحب مضمون نے قائداعظم ؒکے خطابات کے حوالے سے اور تحریک پاکستان میں مسلمانوں کے جذبات سے یہ ثابت کیاکہ پاکستان کاوجود صرف اسلامی نظام حکومت کاہی متحمل ہوسکتاہے،انہوں نے بتایا کہ قائداعظمؒنے اپنے دورحکومت میں صرف ایک ہی کمشن تشکیل دیاتھا جس کامقصد اسلامی نظم معیشیت کے لیے سفارشات تیارکرناتھاانہوں نے ثابت کیاکہ جولوگ تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے جھوٹادعوی کرتے ہیں کہ قائداعظمؒ سیکولرریاست چاہتے تھے تو بھارت بھی توسیکولر ریاست ہے تب علیحدگی چہ معنی دارد؟؟۔مضمون پیش ہونے کے بعد ڈاکٹرساجدخاکوانی اور میرافسرامان نے کچھ سوالات اٹھائے جس کے جواب میں صاحب مقالہ نے اتحادامت پر زوردیااورکہاان سب سوالات کاایک ہی حل ہے کہ”بتان رنگ و بوکوتوڑ کر ملت میں گم ہوجا“۔مضمون پرتبصرہ کرتے ہوئے جناب عبداللطیف نے کہاکہ اسلامی نظام حکومت جدوجہدسے لایاجاسکتاہے جس کے لیے ایک منظم گروہ کی ضرورت ہے۔جناب دل نوازخان نے کہاکہ اسلامی نظام حکومت کاقیام ایک طویل مرحلہ ہے جس کے ثمرات کئی سالوں کے بعد اگلی نسل کو منتقل ہونا شروع ہوں گے ا نہوں نے کہاکہ یہ کام جتنامشکل ہے اس سے کہیں زیادہ ضروری بھی ہے۔آنسہ وردہ نایاب نے کہاکہ وہ تاخیرسے آمدکے باعث مکمل تحریرسننے سے قاصررہیں تاہم موضوع چونکہ قیام پاکستان کی وجہ جوازہے اس لیے اس کی اہمیت روزروشن کی طرح مسلم ہے۔جناب میرافسرامان نے کہاکہ موجودہ حکومت ریاست مدینہ والے نعرے کی باعث اسلامی نظام کے قیام کی مقروض ہے انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے پارلیمان سے فوری اور مفت انصاف کاقانون منظورکرایاجائے کیونکہ”تاخیرانصاف تنکیرانصاف“مشہورمقولہ ہے۔نشست میں موجود بعض افرادتکنیکی وجوہات کے سبب شریک گفتگونہ ہوسکے۔جناب سیدحسنین بخاری نے اپنی دو غزلیات سے محفل کے بوجھل پن کو ہلکاپھلکاکر دیااور شرکانے ان کے کلام کو بے حد پسند کیا۔ آخرمیں صدر مجلس جناب ڈاکٹرمرتضی مغل نے اپنے صدارتی خطبے میں مقالے کے اسلوب تحریرکوسراہا اورنوجوان لکھاری کومشق قلم جاری رکھنے کامشورہ دیا،موضوع کے بارے میں انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ نظام اسلام کاقیام صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے عالم انسانیت کے لیے ضروری ہوگیاہے،انہوں نے کہا کہ جب تمام امت اپنے اپنے لسانی،سیاسی،مذہبی اور علاقائی فرقوں سے نکل کرایک مٹھی کی مانند متحدہوجائے گی تو اس آسمان سے قیام اسلام کی برکتیں بارش کی طرح برسنے لگیں گی،انہوں نے اس منزل کاایک ہی راستہ قرآن وسنت سے مضبوط تعلق بتایا،انہوں نے واضع طورپر کہاکہ قرآن و سنت سے ایک انچ دوری بھی نظام اسلام کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہوگی،انہوں نے اپنے صدارتی خطبے کے آخر میں ایسے اشعاربھی سنائے جن سے حقوق العبادکی اہمیت اجاگرہوتی ہے۔صداری خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے