-,-لاکھوں گھروں کو فی کس 5 ہزار پونڈز کے واؤچر دینے کا حکومتی منصوبہ-,-

لندن; حکومتی اعلان کے مطابق لاکھوں گھروں کے مالکان کو گھروں میں توانائی کی بچت کے حوالے سے بہتری لانے کیلئے فی کس پانچ ہزار پونڈز کے وائوچرز دیے جائیں گے۔ چانسلر رشی سوناک کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں گھروں میں آئسولیشن جیسے منصوبے کے لیے حکومت2بلین پونڈ کی گرانٹ اسکیم شروع کرے گی جوکہ کاربن کے اخراج میں کمی کے منصوبے کے لیے تین بلین پونڈ کی گرانٹ کا حصہ ہوگی۔ وزارت خزانہ کے مطابق گرانٹ سے ایک لاکھ سے زائد نئی اسامیاں پیدا ہوں گی جبکہ لیبر پارٹی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ حکومت کے اس منصوبے سے کرایہ داروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور کاربن کے اخراج کو روکنے کے حوالے سے بڑے اور موثر پروگرام پیش کیا جانا ضروری ہے۔ حکومت کی گرین ہومز گرانٹ کے تحت گھروں میں توانائی کی بچت کے لیے صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت مجموعی اخراجات کا دو تہائی ادا کرے گی۔ مثلاً اگر اینڈ آف ٹیرس گھر میں ’’کیورٹی‘‘ Conty انسٹال کرنے اور فلور آئسولیشن پر4ہزار پونڈ خرچ ہوئے ہیں تو گھر کے ما لک کو ایک ہزار320پونڈ ادا کرنا ہوں گے اور حکومت2ہزار680پونڈ دے گی۔ اسکیم کا آغاز ستمبر سے ہوگا۔ آن لائن درخواست میں انرجی بچانے کے طریقہ کار کی وضاحت کے علاوہ منظور شدہ مقامی سپلائرز کی تفصیلات بھی دستیاب ہوں گی۔ ایک مرتبہ سپلائر کا فراہم کردہ تخمینہ اور کام منظور ہوگیا تو وائوچر جاری کردیا جائے گا۔ بزنس سیکریٹری الوک شرما نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ غریب گھرانوں کو اخراجات کے ضمن میں10ہزار پونڈز تک کی امداد ملے گی، جس میں ’’ڈبل کلینرنگ‘‘ کے اخراجات شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے نتیجہ میں گھروں کے انرجی بلز میں کمی واقع ہوگی اور لوگوں کو سالانہ ہزاروں پونڈز کی بچت ہوگی۔ جابز کو سپورٹ ملے گی اور یہ انوائرمنٹ کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ فنڈز کا نصف حصہ ایک مالیاتی سال میں خرچ کیا جائے گا جوکہ غریب ترین مکان مالکان کو جائے گا اور انہیں اخراجات کے ضمن میں اپنا حصہ بھی نہیں ڈالنا پڑے گا۔ گھروں میں اچھی آئسولیشن ہونے سے گھروں کے سالانہ انرجی بل میں چھ سو پونڈ تک کی بچت ممکن ہے۔ چانسلر رشی سونک کے مطابق حکومت کی اس سرمایہ کاری سے معیشت کو فعال ہونے میں مدد ملے گی، کیونکہ اس شعبہ میں ہزاروں نئی اسامیاں پیدا ہوں گی اور اس انڈسٹری سے وابستہ افراد کو بزنس ملے گا اور ان تمام اقدامات سے ملک کو کورونا کے اثرات سے نکلنے میں بھی مدد ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جبکہ برطانیہ وبا سے نکل آیا ہے تو ہم لوگوں کے روزگار کو بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ حکومت کے اس اقدام سے جہاں ایک لاکھ سے زائد نوکریاں پیدا ہوں گی وہیں برطانیہ کے2050میں کاربن کے اخراج کو صفر کرنے کے ہدف6حصول میں بھی مدد ملے گی۔ گرانٹ سے پبلک بلانگز مثلاً اسکول، ہسپتال اور سوشل ہائوسنگ بھی مستفید ہوں گے۔ کنزرویٹو پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے گھروں کے علاوہ پبلک بلڈنگز میں انرجی کی بچت کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے9.2بلین پونڈ دینے کا اعلان کیا تھا۔ شیڈو بزنس سیکریٹری ایڈ ملی بینڈ نے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ زیادہ ’’جامع‘‘ نہیں ہے۔ منصوبے میں8.5ملین افراد جو کرائے پر رہتے ہیں ان کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ خاص طور پر کرائے دار جن گھروں میں رہتے ہیں وہاں توانائی بچانے کے حوالے سے خاص اقدامات نہیں ہوتے۔ مسٹر ملی بینڈ نے کہا کہ حکومت کو کاربن کے اخراج کو صفر کرنے کے لیے بڑی اور موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ جس میں فطرت کے تحفظ قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے علاوہ ٹرانسپورٹ سسٹم کو گریٹر بنانے کی ضرورت ہے-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے