۔،۔ بس ڈرائیور نے نوجوان مسافروں سے حفاظتی ماسک کے بدلے میں موت کو گلے لگا لیا۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان فرانس بایونی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے جنوب میں بایونی Bayonne شہر میں بس ڈرایور نے (4)مسافروں سے صرف حفاظتی ماسک پہننے کامطالبہ کیا تھا جس پر باتوں باتوں میں جھگڑا کی نوعیت پیدا ہو گئی چاروں نوجوانوں نے ڈرائیور کو وحشیانہ طور پر بُری طرح مارا، 59 سالہ ڈرائیور کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیااسپتال میں شدید زخمی ڈرائیور کو دماغی مردہ brain deadقرار دے دیا گیا، خبر رساں ادارے۔اے۔ایف۔پی۔Agence France-Presse کے مطابق ڈرائیور فلپ مونگیلوٹ Philippe Monguillot کی تین بیٹیوں میں سے ایک بیٹی نے بتایا کہ ان کے والد جمعہ کی سہہ پہر انتقال کر گئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں سے مشورہ کے بعد ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں ان کو جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق ڈرائیور نے اتوار کے روز اسپین کی سرحد کے قریب بایونی Bayonneمیں ایک بس اسٹاپ پر متعدد افراد کو بس میں سوار ہونے کومسترد کر دیا،وہ حفاظتی ماسک کی ضرورت کے باوجود ماسک کے بغیر اور بغیر ٹکٹ کے بس میں سوار ہونا چاہتے تھے تکرار کے دوران دو افراد نے اچانک ڈرائیور پر حملہ کر دیا حملہ آوروں نے ڈرائیور کے سر پر تشدد کیا اور چوٹیں لگائیں تاہم چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ان میں سے دو ایک 22 سالہ اور دوسرا 23 سالہ قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اس کیس نے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی بڑی ہمدردی کا سبب بنی۔ بدھ کی شام کو تقریباََ 6000 ڈرائیوروں نے سفید لباس پہن کر ہاتھوں میں سفید پھول لئے ہوئے بس ڈرائیور اور اس کے لواحقین کے حق میں بایونی Bayonne شہرمیں احتجاجی مارچ کیا، اہل خانہ نے تشدد کا نشانہ بننے والے ڈرائیور اور اس کی اہلیہ کی تصویریں اُٹھائی ہوئی تھیں پورے علاقہ میں احتجاجی طور پر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے عارضی طور پر چند منٹ کی خاموشی اختیار کی اور کام روک دیا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے