۔،۔سیاسی حمام۔اے آراشرف۔،۔


اس محاورے سے تو تقریباََقوم کا ہر فرد واقف ہے کہ۔حمام میں سب ننگے ہیں۔حمام میں داخلے کی کوئی پابندی یا قدغن بھی نہیں اس حمام میں حکومت کا وزیر ہو یا مشیرسیاستدان ہو یا بیوروکریٹس فوجی جنرل ہو یا فوجی جوان سب۔علامہ اقبال کے شعر کی اقتدا میں کہ۔ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود وآیاز۔اپنی اپنی کثافتوں کاغسل کرنے کیلئے سب ننگوں کی صف میں کھڑے نظرآتے ہیں یہ علیحدہ بات ہے ہر ایک کی ننگا ہونے کی کفیت اور نوعیت مختلف ہے کچھ تودھاندلی اور بددیانتی کا اور کچھ آٹا،گندم،چینی،بجلی اور پانی کے بحرانوں میں ملوث ہونیکا غسل کرکے اپنی پارسائی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور کچھ اپنے معاشی اور معاشرتی حالات سے مجبور ہو کر اپنے ناکردہ گناہوں کا کفارا ادا کرنے کیلئے ننگوں کی صف میں کھڑے نظرآتے ہیں اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر اُنہیں اس شرمندگی کابوجھ اُٹھانا پڑا اورہر ایک کے پاس یقیناننگا ہونے کا جواز اوردلیل بھی ہوگی غربت کی چکی میں پسے مظلوموں کی توبات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ کمر توڑ مہنگائی کے خوف سے ننگا ہونے مجبور ہوئے ہیں اور کچھ ان پُراشوب حالات میں بیروزگاری اور تنگ دستی کے ہاتھوں مجبور ہوکربرہنہ ہونے پر مجبور ہیں اور ہمارے جیسے سفید پوش تو موسمی تبدیلی کا بہانہ بنا کراپنابھرم رکھ لیتے ہیں رہی بات ارباب اقتدار اور حزب اختلاف کی وہ ہمیشہ کیطرح اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں اپنا اپنا چورن بیچنے کیلئے جھوٹوں اور وعدوں کے دیپ جلا کر اور کبھی نہ پورے ہونے والے خواب دیکھا کر عوام کو بیوقوف بناتے رہتے ہیں۔اقتدار میں آنے سے پیشتر جناب عمران خان نے عوام کو جو سبز باغ دکھاے تھے اور ریاست مدینہ قائم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا غالباََ یہ اقتدار کے نشے کااثر ہے یا پھر کرسی کی مضبوطی کی بدگمانی کے وہ ایک کروڑ ملازمتوں اور پچاس لاکھ گھرغریبوں میں تقسیم کرنے کے وعدوں کوتو یکسر بھول چکے ہیں مگر ہر دوسرے روز یو ٹرن لینا اپنا آئینی فرض سمجھتے ہیں پھر وہ جو کہتے ہیں۔بڑے میاں سوبڑے میں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔اُنکے وزرا بھی ایسے ایسے چھکے مار کر قوم و ملت کی مایوسی کا باعث بن رہے ہیں جیسے ہمارے عقل کل وزیر جناب سرور خان نے اسمبلی میں تقریر کے دوران ایسا چھکا مارا کے دنیا بھر میں ہمارے قومی ادارے پی آئی اے کی ساکھ کو مٹی میں ملا دیا۔جب سے کرونا کا عذاب نازل ہوا ہے دنیا بھرکے نمرودوں اورفرعونوں کو بھی یقینا اندازہ ہوگیا ہوگاکہ۔اُنکے ظُلم و ستم اور بربریت کا خاتمہ کرنے کیلئے قادرِمطلق کی۔بے آواز لاٹھی۔کسی وقت بھی حرکت میں آکراُنکے شیطانی منصوبوں کوخاک میں ملا سکتی ہے۔کروناکی وبا بھی اقوام عالم کے ناخداؤں کے واسطے ایک وارنگ ہے جہنوں نے کشمیر،فلسطین،برما اور بھارت میں مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں پر ہونے والی سفاکی اور بربریت کو دیکھ کر بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے کشورخدادادپاکستان جن بحرانوں کے نرگے میں اسوقت گھیری ہوئی ہے اورعوام مہنگائی،بے روزگاری اورعدم تحفظ کا ان دنوں شکارہیں ایسی صورت احوال گزشتہ ۳۷ سالوں میں کبھی بھی پیدا نہ ہوئی تھی اس وقت کرونا جیسی مہلک وبا اور ٹڈی دَل کے حملوں کے علاوہ ملک میں آٹا،چینی،بجلی اور پانی کے بحرانوں نے عام آدمی کی ز زندگی اُجرن بنا دی ہے اور ہمارے وزیراعظم عوام کوہروقت۔گبھڑانا بالکل نہیں۔کی لولی پوپ دیکر اُنکے صبر کا امتحان لے رہے ہیں آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔کب تک حکومت سابق حکمرانوں کو ان بحرانوں کا ذمہ دار قرار دیتی رہے گی کسی بھی حکومت کیلئے اپنی بہتر کارکردگی دکھانے کیلئے دوسال کوئی کم مدت نہیں ہوتی آجکل تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اُنکے اپنے وزیرہی حکومت پر تنقیدکرنے لگے ہیں جس پر۔ریلوے کے وزیراور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کواپنے اتحادیوں اورتحریک انصاف پاکستان کے راہنماؤں کو نصحیت کرنی پڑی کہ وہ میڈیا پرمحاذ آرائی کرنے کیبجائے بہتر ہے کہ وہ اپنے گندے کپڑے گھر پر ہی دھولیا کریں۔ بات تو اُنکی سچ ہے مگرہے رسوائی کی پاکستان کا ۔سیاسی حمام۔کا درجہ حرارت تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے ویسے بھی آجکل گرمیوں کا موسم ہے اور ہر کوئی غسل کر کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے حماموں کا بھی ہاوس فل جا رہاہے کیونکہ ہر سیاست کا کھلاڑی اپنی گندکی۔حمام۔ہی میں دھو کر غسل تجدید کرکے عوام کو اپنی پارسائی دکھانے میں پُر جوش نظر آتا ہے دوسری جانب اپوزیشن کی کارکردگی بھی حاصی مایوس کن نظر آتی ہے وہ بھی۔نشستنَ گفتن اور رفتن تک محدود ہو چکی ہیں رہ دیکے پاکستان پیپلز پارٹی کچھ نہ کچھ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے مگر وہ اکیلی کامیاب تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ورنہ جن بیساکھیوں پر حکومت قائم نظر آتی ہے اپوزیشن متحد ہو کراُسے بہترفیصلے کرنے کی راہ ضرور دکھا سکتی ہے۔مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ انسان کسقدر آزاد اورکتنا مجبورہے تو آپؑ نے فرمایاکہ اپنی ایک ٹانگ اُٹھاو جب اُس نے اپنی ایک ٹانگ اُٹھا لی تو آپؑ نے اُسے اپنی دوسری ٹانگ اُٹھانے کا حکم دیاتو اُس نے کہا مولااسطرح تومیں گر جاؤنگا۔تحریک انصاف پاکستان کے چیرمین جناب عمران خان کی حکومت بھی دراصل ایک ٹانگ پر کھڑی ہے دوسری ٹانگ اس حکومت کے اتحادیوں کی ہے وہ جب ٹانگ کو ذرا سی بھی حرکت دیتے ہیں توایوان اقتدار میں زلزلے جیسی صورت پیدا ہو جاتی ہے دوسری جانب حزب اختلاف سے بھی ہمارے وزیراعظم ہاتھ ملانے کو تیار نہیں جبکہ جمہوری معاشرے میں حکومت اور حزب اختلاف ریاست کے لازم وملزوم اور اہم جز تصور کئے جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے دونوں قومی معاملات میں بھی یک زبان ہونے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات کے تیر برساکر کراپنے دل کی بھراس نکال رہے ہیں ان حالات میں عوام بیچاری تو دو ملاؤں کے درمیان مرغی حرام والی صورت میں گرفتار ہیں اب دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے