۔،۔ بڑا دشوار کام ہے کسی عمارت کی بنیاد کا پتھر ہونا۔جو زاہد حسین قونصل جنرل نے ساربروکن میں کر دکھایا۔،۔

جرمنی سار لینڈ ساربروکن۔ بڑا دشوار کام ہے کسی عمارت کی بنیاد کا پتھر ہونا اِس لئے کہ اُس پتھر پر ایک عظیم الشان عمارت کھڑی کی جاتی ہے جب تک وہ عمارت قائم رہتی ہے لوگ اُس کی تعریف کرتے ہیں، ایسے لوگ تاریخ ساز کہلاتے ہیں جو کم ملتے ہیں ایسے لوگ کوئی نہ کوئی بات پیغام کی شکل میں کہہ دیتے ہیں جو زاہد حسین قونصل جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ نے کر دکھائی، قونصل جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ کا عملہ جن میں۔ محمد جاوید، بشیر احمد۔، فواد انور بھٹی زاہد حسین کی قیادت میں کمیونٹی کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمنی کے شہر ساربروکن تشریف لائے، قونصل خانہ کے عملے کو خوش آمدید کہا گیا۔مسجد بلال میں تین بڑی میزوں کے اوپر قونصل خانہ کے پیشہ ورانہ اسٹاف نے کونسلر کاموں کے لئے اپنی ضرورت کی ہر چیز قلم پنسل سے لے کر پیپر پِن تک سجا دیا۔محمد بشیر کے مطابق وہ 350نئے پاسپورٹ اپنے ساتھ لائے تھے تا کہ اگر کوئی مقامی شخص ہو یا کسی دوسرے صوبہ سے وہ ہر کام اور ہر بات کے لئے تیاری کے ساتھ آئے تھے، تا کہ کسی آنے والے کو مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے، ساربروکن میں کمیونٹی نے اپنے پاسپورٹ بھی وصول کئے ویزے بھی لگوائے دستاویزات کی بھی تصدیق کروائی،پاور آف اٹارنی۔وکلا کے کاغذات بھی تصدیق کئے گئے۔ترسیل کے سرٹیفکیٹ بھی ان کے حوالے کئے گئے۔ قومیت ترک کرنے کی درخواستیں بھی وصول کی گئیں، فواد انور بھٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن اور پاسپورٹ جو اپنے کام میں ماہر ہیں ان کی مثال کچھ ایسے ہے کہ٭ریشم کے دھاگے میں انگارے کو باندھ کر ہواوُں میں لہراتے ہیں دھاگہ بھی نہیں ٹوٹنے دیتے اور انگارہ بھی نہیں بجھنے دیتے۔محمد جاوید اپنا کام پیشہ ورانہ طریقہ سے سر انجام دیتے ہیں ہر کسی سے مسکرا کر کام کرنے کا ہنر جانتے ہیں، بشیر احمد باتوں باتوں میں مسکراتے مسکراتے اپنا کام نپٹانے کے ماہر ہیں موڈ میں ہوں تو سائل کو لطیفہ بھی سنا دیتے ہیں۔ قونصل جنرل آف پاکستان زاہد حسین کئی دہائیوں سے اوورسیز پاکستانیوں سے رابطہ میں ہیں جن کی نگاہ عالمی پس منظر پر بھی ہوتی ہے، ملکی اور قومی منظر پر بھی نگاہ رکھتے ہیں یہ اُن لوگوں میں سے ہیں کہ جب امتحان کی گھڑی آتی ہے تو فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کمیونٹی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے چند ہی دنوں میں قونصلیٹ کا ٹیلیفون نمبر جاری کر دیا جس پر آپ فون کر کے بات کر سکتے ہیں جو پہلے ناممکن تھا۔ دوسرا فیصلہ کہ ہم کمیونٹی کے پاس جا کر ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے، تیسرا آپ گھر بیٹھے بٹھائے٭ آن لائن دستاویزات سے باخبر رہ سکتے ہیں، پاسپورٹ کی ٹریکنگ۔پاسپورٹ سے لمحہ با لمحہ باخبر۔قومیت ترک کرنے کا عمل، انکوائری سے باخبر٭ کمیونٹی کے لئے قونصل خانہ کے دروازے کھول دیئے گئے ان کا کہنا تھا کہ ٭اس وقت پوری دنیا کو محبت کی ضرورت ہے جتنی بھی نفرتیں ہیں ان کو صندوق میں ڈال کر گہرے سمندر میں ڈال دینا چاہیئے۔یہاں ہم توقیر بٹر صابری کو نظر انداز نہیں کر سکتے ان کا پیغام ہمیشہ آنے والی نسلوں کے لئے ہوتا ہے جو بچوں اور دوستوں کو دیا جا سکے تا کہ ذہنوں کی تربیت ہو سکے ان کا کہنا ہے کہ٭ ایک لفظ سچائی۔ دوسرا حسن اور تیرا محبت ٭ ان کو تلاش کرنے کے لئے خانقاہوں میں بھی جانا پڑے گا۔ بزرگوں کے ہاں بھی جانا پڑے گا، بچوں اور بڑوں سے بھی روابط رکھنے ہوں گے توقیر بٹر صابری نے ان تمام چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے زور بازو پر اور اپنے دوستوں کی محبت میں اس کام کا بیڑا اُٹھایا اور ان کو کامیابی نصیب ہوئی۔پاکستان جرمن پریس کلب کی ٹیم، شان پاکستان کی ٹیم،جہان نیوز اور اپنا دیسی ریڈیو کی ٹیم قونصل جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ کے قونصل جنرل زاہد حسین اور ان کے عملہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔خصوصی طور پر توقیر بٹر صابری جنہوں نے کمیونٹی کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے تمام ضروری کام دھندے چھوڑ کر اہتمام کیا ہے ان کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ قونصل جنرل زاہد حسین کو توقیر بٹر صابری اور کمیونٹی کی طرف سے شیلڈ بھی پیش کی گئی۔توقیر بَٹر صابری اور ان کی فیلی نے تمام مہمانوں اور عملہ کے لئے پرتکلف ظہرانہ کا اہتمام کیا ہوا تھا،تھکے مہمانوں کی ریفریشمنٹ کے لئے شکنجبی اور لسی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے