۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔

منگل 28جولائی بعد نمازمغرب قلم کاروان اسلام آبادکی آن لائن ادبی نشست گوگل کی ”میٹ‘ ایپ پرمنعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں ڈاکٹرمرتضی مغل کامضمون طے تھالیکن کراچی میں بارش کے پانی سے پیداشدہ ناگفتہ بہ حالت کے باعث وہ شریک نشست نہ ہوسکے اور ان کی بجائے جناب میرافسرامان نے اپنا مضمون”سیکولرنظام تعلیم کا جبری تسلط“پیش کیا۔معروف سماجی کارکن،ادیب،دانشورنقاداور”شہراقبال فورم“ کے سربراہ جناب سیدظہیراحمدگیلانی نے صدارت کی۔ جناب سہیل طارق نے اپنی خوبصورت تجویدمیں تلاوت قرآن مجیدسنائی،جناب راجہ جاویدعلی بھٹی نے کلام شاعر بزبان شاعرکے مصداق نعت بحضور رسول مقبولﷺپیش کی،جناب محمداعجازنے مطالعہ حدیث نبویﷺاورڈاکٹرساجدخاکوانی نے گزشتہ نشست کی کاروائی پڑھ کرسنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے جنا ب میرافسرامان نے اپنامضمون پیش کیاجس میں موجودہ حکومت کے پیش کردہ نام نہادیکساں نصاب تعلیم کاکچاچٹھاکھول کررکھ دیاگیاتھا،انہوں نے کہاکہ اس نصاب کی تیاری میں ملکی ماہرین تعلیم کو یکسرنظراندازکیاگیاہے اور پرویزمشرف دورمیں جرمنی کی ایک سیکولراورلبرل خاتون کے تیارکردہ مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے،انہوں نے کہا اس نصاب میں قومی زبان کی بجائے غلامانہ زبان،اسلامی شعائرکی بجائے نام نہاد یورپی نژادانسانی حقوق،اسلام اورپاکستان کے تاریخی مشاہیرکی بجائے دیگراقوام کے نمائندوں کے حالات زندگی اور ملی و مقامی مفادات کے تحفظ کی بجائے دیگراقوام کے لیے نسل کو تیارکرنے کا منصوبہ تیارکیاگیاہے۔تحریرپرگفتگوکرتے ہوئے علی حسن تابش نے کہاکہ انہیں مضمون کے مندرجات سے مکمل اتفاق ہے۔فہدملک نے اسلوب تحریر کی تعریف کی۔راجہ جاویدعلی بھٹی نے کہاکہ انگریزنے پہلے ہمیں عربی سے محروم کیاپھرفارسی سے محروم کیااور اب اپنی زبان پڑھاکر ہماری نسل سے اپنی پہچان چھین لیناچاہتاہے۔ڈاکٹرنصیرکیانی نے کہا اٹھارویں ترمیم میں تعلیم صوبوں کے سپرد کر کے توتخریب ریاست وتقسیم مملکت کی راہ ہموار کی گئی ہے،انہوں نے کہاایک آئینی ترمیم کے ذریعے تعلیم اورنصاب سازی مرکز کے ذمے لگادینی چاہیے تاکہ ملی یکجہتی قائم ہو سکے۔محمدعجازنے کہاکہ مضمون بہت محنت اورتحقیق سے لکھاگیاہے اور لکھنے والے کادرددل اس میں لبالب بھراہے،انہوں نے کہا بچہ اسی زبان میں تعلیم حاصل کرسکتاہے جس زبان میں وہ سوچتاہے،خواب دیکھتاہے اور روانی سے بول پاتاہے۔ حسنین بخاری نے کہاکہ اردوکو ذریعہ تعلیم بنانے سے ہم اپنی نسلوں کااپنی شاندارتاریخ سے رابطہ جوڑ پائیں گے اور وہ اپنے اسلاف کے کارناموں کو براہ راست سمجھ سکیں گی اور احساس کمتری کی بجائے خود اعتمادی حاصل کر سکیں گی۔تبصروں کے بعد بزرگ شاعر حسنین بخاری اورنوجوان شاعر محمداعجازنے اپنی تازہ نظمیں شرکاء مجلس کو سنائی اور داد وصول کی۔ آخرمیں صدر مجلس جناب سیدظہیراحمدگیلانی نے کہاکہ دورغلامی سے پہلے اس خطے میں شاندارنظام تعلیم رائج تھالیکن انگریزنے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے وہ نظام تعلیم رائج کیاجہاں سے اسے غلامی زدہ لوگ میسرآتے رہیں،انہوں نے کہاکہ آزادی کے بعد اس نظام کی اصلاح ہونی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے انگریزکابنایاہوا نظام ہی ہم پرمسلط رہا،اب اگر ملکی وقومی وقیادت کو آگے لاناہے تو ملکی وقومی تقاضوں کوپوراکرنے والا نظام تعلیم رائج کرناہوگا جس کاپہلا سنگ میں قومی زبان ہے۔صداری خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیرہوگئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے