۔،۔ غلاف کعبہ (کِسوہ)بروز جمعرات 30جولائی کے روز تبدیل کیا جائے گا۔نذر حسین۔،۔

سعودی عرب مکہ مکرمہ۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریذیڈنسی General Presidency for the Affairs of the Two Holy Mosquesبروز جمعرات مورخہ 30 جولائی 2020 ۔9 ذوالحجہ کو بیت اللہ کا پرانا غلاف اتار کر نیا غلاف کعبہ٭کِسوہ٭ کو تبدیل کرے گی ہر سال اس کاروائی میں 160 ماہر کارکنان حصّہ لیتے ہیں، اس موقع پر مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کے نگرانِ عام شیخ عبدالرحمن السدیس Abdul Rahman Al-Sudaisکا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی دانش مند قیادت مسلمانوں کے قبلہ بیت اللہ کے امور پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔ مسجد حرام کے نگران عام کے سیکٹری احمد المنصوری کا کہنا تھا کہ غلاف کعبہ کی تیاری شاہ عبد العزیز کمپلیکس میں 200 ماہرین اور منتظمین کی نگرانی میں ہوتی ہے ان تمام کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور وہ سب اپنے اپنے شعبہ میں ماہر اور اعلی تربیت یافتہ افراد ہیں۔ایک سوال کے جواب میں المنصوری نے کہا کہ پرانے ٭کِسوہ٭ کو ہٹا کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے بعض افراد کو دیا جاتا ہے اور غیر ملکی مسلم معززین اور تنظیموں کا دورہ کرتے ہیں کو دیا جاتا ہے کچھ لوگ اپنا حصّہ یاداشت کے طور پر لے جاتے ہیں،پہلے زمانے میں عمر بن الخطاب اسے ٹکڑوں میں کاٹ کر مکہ کی گرمی سے پناہ کے طور پر استعمال کرنے والے حجاج میں تقسیم کرتے تھے۔ غلاف کعبہ٭کِسوہ٭ بنانے کی موجودہ لاگت سعودی ریال SAR 17,000,000 جو ڈالر میں (~4,532,951.01 USD) رقم بنتی ہے، کِسوہ پر 670 کلو گرام خام ریشم استعمال کیا جاتا ہے جبکہ 280کلو گرام خالص سونا 15 کلو گرام سونے کے دھاگے اور 100 کلو گرام چاندی کا دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کپڑے کے 47 ٹکڑوں پر مشتمل ہے اور ہر ٹکڑا 14m میٹر لمبا اور 101 cm میٹر چوڑا ہوتا ہے۔سیاہ کِسوہ کی روایت نبی اکرمﷺ نے سوگ کی حمایت میں کی تھی کچھ نے اس کو کربلا کی جنگ سے منسلک کیا تھا تاہم نبی کریم کا حکم تھا کہ کعبہ کو کالے کپڑے سے لپیٹ دیں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ 100 سال بعد یا اس سے پہلے جب دکھ کے واقعات شروع ہوئے تھے۔کعبہ شریف پر غلاف چڑھانے کی غرض بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح کسی انسان کو کوئی قیمتی اور نفیس چیز مل جائے تو وہ اسے سات پردوں میں چھپاکر رکھتا ہے اور سے ہوا تک نہیں لگنے دیتا،بیت اللہ شریف جو بے حد واجب التعظیم عبادت گاہ اور نادر الو جود متبرک چیز ہے اسے خارجی اثرات، ہوا، مٹی، پانی اور دھوپ وغیرہ سے محفوظ رکھنے اور ظاہری زیب و زینت کی غرض سے غلاف پہنایا جاتا ہے۔ مورخین مختلف الاراء ہیں کہ سب سے پہلے غلاف چڑھانے کی سعادت کسی نصیب ہوئی اکثر روایات میں تین نام سر فہرست آتے ہیں، ابن جریح سے روایت ہے کہ سب سے پہلے شاہ تبع حمیری نے غلاف چڑھایا تھا جو کہ ٭یمن کا دھاری دار کپڑا تھا٭ جبکہ زبیر بن بکار سے روایت ہے کہ عدنان پہلا آدمی تھا جس نے غلاف چڑھانے کی طرح ڈالی تھی لیکن بعض علماء کا خیال ہے کہ سید نا اسمائیل ؑ نے پہلے غلاف چڑھایا تھا۔ مقریزی نے لکھا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں چمڑے اور ٹاٹ کے غلاف بھی چڑھائے گئے ہیں،اس زمانہ کے لوگ چمڑے اور ٹاٹ کا لباس بھی پہنتے تھے۔ ظہور اسلام کے بعد سب سے پہلے حضور انورﷺ نے فتح مکہ کے دن یمن کا بنا ہوا سیاہ رنگ کا غلاف کعبہ شریف پر چڑھایا۔امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے قباطی کا غلاف چڑھایا ٭جو ایک باریک قسم کا سفید مصری کپڑا تھا٭امیر المومنین سیدنا فاروق اعظمؓ نے مصر کے ایک قصبہ قبطیہ والوں کو غلاف تیار کرنے کا حکم دیا، انہوں نے قباطی کپڑے کا غلاف تیار کیا جسے خلیفتہ المسلمین نے کعبہ شریف پر چڑھایا اور پرانا غلاف اتار کر حجاج میں تقسیم کر دیا آپ ہر سال نیا غلاف چڑھاتے تھے۔ امیر امومنین سیدنا عثمان ذی النورینؓ بھی حضرت فاروق اعظمؓ کی طرح مصر سے قباطی غلاف تیار کرواتے اور پہلے غلاف پر ہی نیا غلاف چڑھا دیتے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے