۔،۔ایک اور سازش۔اے آراشرف-,-


اردو کا محاورہ ہے۔اُونٹ رے اُونٹ،تیری کونسی کل سیدھی۔تحریک انصاف کے چیرمین اور پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان نے اقتدارسے آنے سے قبل عوام کو۔نئے پاکستان اور۔ریاست مدینہ۔کے قیام کی نوید سُنائی تھی اورعوام کوجو سہانے خواب دیکھائے تھے ان دعوؤں اور وعدوں کو دیکھکر مجھ جیسے ہزاروں افراد اُنکی شخصیت سے متاثر ہوکریہ سمجھنے لگے تھے کہ شاید یہی وہ مسیحا ہے جس کے پاس پاکستان کی غریب عوام کی مشکلات کا حل اوربہتر مستقبل کا کوئی ایسا روشن منصوبہ انکے زرخیز ذہین میں موجود ہے جس کے تحت وہ بے روزگاروں کو ایک کروڑ نوکریاں مہیا کرنے اور پچاس لاکھ گھرغریب عوام میں تقسیم کرنے کاوعدہ ایفا کرسکیں گے مگر دو سال کی کارکردگی کے بعد جلد ہی بلی تھیلے سے باہر آ گئی اور وہی ہواجو ہمیشہ دوسرے سیاست کھلاڑی اپنے جیالوں کے ساتھ کرتے آئے ہیں کہ۔پہاڑی یار کس کے،بھات کھائی اور کھسکے یا پھر۔ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔غریبوں کے سہانے خواب اُسوقت بس ایک ہی جھٹکے سے خاک میں مل گئے جب مہنگائی اور بے روزگاری کے جنوں نے بوتل سے باہر نکل کر عوام کے سینوں پر خٹک ڈانس کرنا شروع کر دیا اور۔نئے پاکستان۔ریاست مدینہ۔کے خالق نے عوام کو۔گھبڑانا بالکل نہیں۔کا بھاشن دیکر بھوکوں کے پیٹ میں ہوا بھرنے میں مصروف ہوگئے۔غریب آدمی سے کسی نے پوچھاتھا دو اور دو کتنے ہوتے ہیں اُس نے فوراََ کہا چار روٹیاں۔گزشتہ تین دہائیوں سے جس بُری طرح کشور خداداد دہشت گردی کے عذاب کا شکاررہی ہے اور افواج پاکستان اور دیگر سیکورٹی اداروں نے جسطرح اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک وملت کو محفوظ بنایا تھا قوم اپنے اُن شہیدوں کی بے مثال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریگی۔مگرجب سے ہمارے ہر دلعزیز وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران بدنام زمانہ دہشت گرد اُسامہ بن لادن کو شہید قرار دیاہے اُن شہیدوں کی روحیں اس بدروح کیخلاف سراپا اختجاج ہیں اور جانب دہشت گردوں نے جام شہادت پینے کیلئے پھرسے دہشت گردی کی کاروائیاں شروع کردی ہیں۔وہ جو کہتے ہیں۔بڑے میاں سو بڑے میاں،چھوٹے میاں سبحان اللہ۔پنجاب اسمبلی نے بھی سوچا کہ جب وزیراعظم ایک دہشت گرد کو شہید قرار دیکرشہیدوں کی توہین کر سکتے ہیں توپنجاب اسمبلی کیوں کسی سے پیچھے رہے چنانچہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویزالہی کی قیادت میں حال ہی میں۔تحفظِ بنیاد اسلام۔کے نام سے ایک ایسا متنازعہ بل پاس کیا گیاہے جسے۔تحفظ ِ بنیاد تفرقہ۔کہنا زیادہ مناسب ہوگاجسکی اس موقع پر قطعی ضرورت نہ تھی۔حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ہمارے ملک میں نظریاتی تفریق موجود ہے۔وطن عزیز میں مختلف مکاتب فکراور عقائدکے لوگ بستے ہیں بہترتویہ ہوتا کہ ایسا متنازعے بل وہ پیش نہ کرتی اگر اتنا ہی ضروری تھا تو کم از کم حکومت تمام مکاتب فکر کے جید علماء سے مشاورت کرکے اُن سبکو اعتماد میں لیکر ہی بل ایوان میں پیش کیا جاتا اس بل کی منظوری کے بعدیہ بحث چھیڑ گئی ہے کہ کس کو علیہ السلام اور کس کے نام کیساتھ رضی اللہ لکھا اور بولا جائے۔معروف مذہبی سکالر جناب جاوید غامدی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں اُنہوں نے واضع کیا ہے کہ اللہ کی کتاب میں ایسے کسی قانون کی گنجائش نہیں۔اللہ کی کتاب میں واضع حکم ہے کہ۔دین میں جبر نہیں۔ہر کسی کواخلاق کے دائرہ میں رہ کرآزادی اظہار ہے پھر اسلام تویہ درس دیتا ہے کہ کسی کے جھوٹے خدا کوبھی جھوٹا نہ کہو ایسا نہ ہو کے وہ آپ کے سچے خدا کو جھوٹا کہہ دے اُنہوں نے کہا دنیا بھر میں تقریباََڈیڑھ ارب مسلمان آباد ہیں مگر باقی اربوں لوگ ہمارے نبیﷺکو نہیں مانتے تو کیا خدا نے اُنسے۔ جینے کا حق چھین لیا ہے خدا اگر چاہتا توان سب کو ایمان کی دولت سے نواز دیتا جو مسئلہ چودہ سو سال سے اختلافی رہا ہے تاریخ اسلام کامطالعہ کرنے والے مرد وزن بخوبی اس حققت سے واقف ہیں کہ حضورﷺ کے وصال کے فوراََ بعدابھی ہادی کائناتﷺ کی تکفین بھی نہ ہوئی تھی کہ مسلم اُمہ دو نظریات میں تقسیم ہو گئی ایک گروہ کاخیال تھا کہ اُمت مسلمہ کی راہنمائی کیلئے رسالمابﷺ نے اپنا کوئی جانشین مقرر نہیں کیا بلکہ اس کا اختیار آپﷺ نے اپنی اُمت کو سونپ دیا تھا کہ وہ جسے چاہیں اپنا خلیفہ یا امام منتحب کر لیں جبکہ دوسرے گروہ کا دعویٰ ہے کہ آقانامدارﷺ نے اپنے آخری حج کے بعد غدیر خم کے مقام پر وحی خدا کیمطابق ایک طویل خطبہ کے بعدتقریباََ سوا لاکھ اصحابہؓ و اصحابیاتؓ کی موجودگی میں اُونٹ کے پلانوں کے منبر پر کھڑے ہو کران الفاظ کے ساتھ۔کہ جس جس کا میں مولا ہوں اُس اُس کا میرے بعد علیؑ مولا ہیں۔کا اعلان کردیا تھا۔ارباب اقتدار کو ایسے متنازعہ معاملات کو چھیڑ کر جلتی پر تیل نہیں ڈالنا چاہیے اسطرح عوامی جذبات بُری طرح مجروح ہوتے ہیں اور ابن الوقت اور شرپسند عناصرکو رائی کا پہاڑ بنانے کا موقع ملتا ہے اس لئے پنجاب حکومت کو یہ بل فوراََ منسوخ کرکے عوامی جذبات کا اخترام کرنا چاہیے جیسا کہ ہم سب اس حققت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان ایک عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے جس میں تقریباََ سوارب کی املاک کے نقصان کے علاوہ ستر ہزار قیمتی جانوں کی قربانی بھی دے چکا ہے کشور خدادادپاکستان کی ریاست جب سے معرض وجود میں آئی ہے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے پیٹ میں بھی اُس دن سے نفرت اورحسد کا سرطان موجزن ہے اور وہ مختلف حیلوں وبہانوں اورنت نئی نئی سازشوں اور گھٹیا ہتھکنڈوں سے وطن عزیز کی سالمیت کو نقصان پہنچا کر پاکستان کو ناکام ریاست بناننے کی کوشش میں مصروف رہا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے اُس نے چند ضمیر فروش میر جعفروں اور میر صادقوں کوخرید رکھا ہے اس لئے حکومت کو ایسے فیصلوں سے اجتناب کرناچاہیے جس سے شرکا اندیشہ ہو-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے