-,-کیا نائن الیون سے کچھ سیکھا-سید علی جیلانی-,-
دنیا میں ہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہیں لیکن بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے چھوٹے ملکوں کو استعمال کرتی ہیں جو ملک ان کے مفادات کے خلاف دکھائی دیتا ہے یہ اسے پتھر کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکی دینے سے بھی گریز نہیں کرتیں گویا مفادات کی جنگ نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے دنیا تباہ ہوتی ہے تو ہوجائے لیکن ہم اپنے مفادات کا دفاع دنیا کے ہر کونے تک کریں گے””پہلے روس اپنے مفادات کا دفاع کرتے کرتے افغانستان تک آیا تھا اور بعد میں امریکی بھی پھنچ گئے 11 ستمبر 2001ء کی صبح دنیا کی سپر پاور امریکہ کے مختلف ہوائی اڈوں سے 4 مسافر جہاز اغوا ہو گئے۔ چند لمحوں بعد یہ جہاز دنیا کے ایک بڑے کاروباری مرکز ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور دنیا کے سب سے بڑے جنگی مرکز پنٹاگون سے جا ٹکرائے فولادی قلعہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر حیرت انگیز طور پر مسافر جہازوں کے ٹکرانے سے ریت کے ذرات اور دھوئیں میں تبدیل ہو کر زمین بوس ہو گیا تو پورا عالم حیرت میں ڈوب گیا کہ اتنی مضبوط بلند و بالا عالی شان عمارتیں آخر کیسے یوں دھڑام سے نیچے آن گریں عمارتوں کا گرنا تھا کہ ان کے مالک فرعون زمانہ امریکہ نے آئو دیکھا نہ تائو الزام سیدھا افغانستان کے سر منڈھ کر وہاں کے حکمراں ملا محمد عمر کو اسامہ بن لادن کو سارے ساتھیوںسمیت اپنے حوالے کرنے کا حکم صادر کر دیا یہ تو امریکہ کجا دنیا کے کسی انسان کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ معاشی اقتصادی عسکری بلکہ ہر لحاظ سے پسماندہ ترین اور سارے عالم کی جانب سے حقیر ترین سمجھی جانے والی مخلوق افغان قوم انکار کی جرأت کرے گی صدر جارج بش نے افغانستان پر حملہ کیا اوراس کی اس جنگ میں پاکستان امریکہ کا اتحادی بن گیا پاکستان کی اس وقت کی حکومت جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں میں تھی جس نے امریکہ سے چند ڈالر ملنے کی امید میں پاکستان کو دنیا کی بدترین جنگ میں حصہ دار بنادیا اور افغان بھائیوں کو اپنا دشمن بنالیا پاکستان نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے اور یہاں تک کہ ان کو اپنے ائیرپورٹس تک دیئے جن کے ذریعے پاکستان سے اڑنے والے جنگی جہازوں نے افغانستان میں تباہی پھیلائی اس کے بعد کئی جہادی گروپ امریکہ کے خلاف اپنے ملک کی آزادی کی تحریک شروع کی اور اس کی زد میں پاکستان بھی آگیا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں طاقت کے اس نشے میں چور امریکہ نے سوا سال بعد ہی یعنی 22 مارچ 2003ء کو عراق پرحملہ کر دیا امریکہ کو اندازہ نہیں تھاکہ افغانستان میں اس پر اس کے بعد کیا بیتے گی سو 2003ء میں جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر جوابی حملے شروع ہوئے تو سب اتحادیوں کا ہی رواں رواں کانپنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے جب ان اتحادیوں کی لاشوں سے بھرے جہاز ان کے ملکوں میں جانا شروع ہوئے تو ایک ایک کر کے کل کے اتحادی ہاتھ کھڑے کر کے پیچھے بن دیکھے سر پٹ بھاگنا شروع ہو گئے ائین الیون کل تھا چلا گیا مگر کیا ہم ان پندرہ برسوں میں اس کے کلچ سے شکنجے سے نکل سکے نہیں اس اہم دن میں دنیا کیا سے کیا ہو گئی ہم کسی وقت ذکر کرتے ہیں زمانہ قبل از مسیح اور بعد از مسیح تاریخیں بدل کے اسے زمانہ قبل از نائن الیون اور بعد از نائن الیون کہنا شروع کیجئے ایک القائدہ نامی تنظیم گھڑی گئی وہ کوئی تو بتا دے کہ نائن الیون سے پہلے کاغذوں میں تھی اور یہ بھی بتائیے کہ اب وہ کدھر ہے اسے ختم کرنے کے لئے ایک اور ٹوپی ڈرامی گھڑا گیا جسے کہا گیا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن پکڑا گیا اور پھر مار گیا اور پھر اس کی لاش کو سمندر میں دبا دیا گیا نائن الیون کے چند ہی برسوں بعد منظر بدلا، محیر العقول مناظردنیا نے یوں دیکھے کہ امریکہ ملا محمد عمر کے ان ساتھیوں کو جنہیں وہ عبرت کا نشان بنانے کیلئے گوانتانامو کے بدترین قید خانے میں لے گیا تھا خود ہی اپنے جہازوں میں وی آئی پی مہمان بنا کر قطر کے اس دفتر میں لا کر بٹھا رہا تھا جو اس نے وہاں خود تعمیرکرا کر دیا تھا دنیا دیکھ رہی تھی کہ وہی امریکہ کبھی جرمنی کبھی ترکی کبھی سعودی عرب کبھی مالدیپ میں اپنی دانست میں کیڑوں مکوڑوں سے بھی بدتر مخلوق کے سامنے چاروں شانے چت ہو کر کسی طرح واپسی کے لئے مذاکرات کیلئے منتیں کر رہا تھا پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکیاں دینے والے آج پاکستان کے دروازے پر ہاتھ باندھے کھڑے اس انتظار میں ہیں کہ کب اس سے کوئی امن و سلامتی کی آواز بلند ہو اور ان کی سوکھی زبانیں کچھ تھوک نکال کر حلق کو تر کر سکیں مسلمانوں کو بصیرت کے دریچے کھول کے ٹھنڈے دماغ سے غور و فکر کی ضرورت ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ایک جانب تو مسلمان ہولناک دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوے ہیں اور دوسری جانب پوری دنیا کے غیر مسلم مسلمانوں کو شک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور ان کو دہشت گردی کی نرسری قرار دیتے ہیں لیکن ہم مسلمان دنیا کو باور کروا دینا چاہتے ہیں کہ ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ امریکہ جو اس وقت دنیا میں سب سے طاقت ور ملک ہے داعش یا اس قماش کی دوسری دہشت گرد تنظیموں کے سامنے بے بس نہیں ہے بلکہ وہ سوچی سمجھی سازش اور مکارانہ حکمت عملی کے تحت اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا کھیل کھیلنے میں مصروف عمل ہے وہ پہلے مسلم نام سے مماثل دہشت گرد گروپ تشکیل دیتا ہے اس کو پروان چڑھاتا ہے اور اس کی دہشت گردانہ اور سفاک کاروائیوں کو میڈیا کی زینت بنوانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور پھر دہشت گروں کی سرکوبی کی آڑ میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ٹارگٹ زدہ اسلامی ملک کو نیست و نابود کر کے اس کے وسائل پر قابض ہو کر اپنے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے عراق کے وسائل پر قبضہ تو کر لیا گیا لیکن اس کے حالات آج تک نہ سدھر سکے اور ہنوز خانہ جنگی کا عمل جاری ہے۔اور اب باری شام کی ہے۔ بشار الاسد کو اقتدار سے محروم کرنے کے لیے امریکی چالوں اور سازشوں کا بازار گرم ہے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت شام کی آزادی اور خود مختاری کو تا ر تار کرنے کا پروگرام ترتیب دے دیا گیا ہےامریکہ شام میں قیام کر کے مشرق وسطیٰ اور ایشیا کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے خلیجی ممالک پر نظررکھنے کے علاوہ ایران اور روس کی سر گرمیوں پر نگاہ رکھنے کے لیے بھی اسے ایسے ہی کسی پلیٹ فارم کی ضرورت تھی جو اس نے داعش کا فتنہ کھڑا کر کے حاصل کر لیا ہے اور اب دیکھیے اس کی اگلی منزل کیا ہو گی ان حقیقتوں کے تناظر میں مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر قابو پا کر اور فروعی مسائل کو پس پشت ڈال کر نا اور اتفاق کی کشتی میں سوار ہو کر ایسا جامع اور مربوط لائحہ عمل طے کریں جس سے وہ امریکی بالا دستی کا کوئی توڑ کر سکیں-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے