-,-اسلامی جمہوریہ کے درندے-سید علی جیلا نی-,-


جب میں نے پیاری بچی زینب پر کالم لکہا تھا تو میرا وجود لرزرہا تھا ہاتھ کپکپارہے تھے اور دل خون کے آنسو رورہا تھا آج میری وہ ہی کیفیت ہے جب میں نیموٹروے پر گزرے دردناک واقعہ پر قلم اٹھایا ایف آئی آر کے مطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک ان کی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا خاتون نے گوجرانوالہ میں اپنے رشتے دار کو اس حوالے سے آگاہ کیا جس نے اسے موٹر وے پولیس کو اطلاع کرنے کا کہا خاتون کافی دیر تک موٹر وے پولیس کا انتظار کرتی رہی ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اسکے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوؤں نے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے کیا آپ لوگ ان مجرموں کو انسان کہیں گے اشرف المخلوقات کہیں گے اشرف المخلوقات کی تو شان ہی کچھ اور ہونی چاہئے کیا یہ انسان کہلانے کے حقدار ہیں یہ درندے ہیں موٹروے متاثرہ خاتون فرانسیسی شہریت کی حامل تھی کافروں اور یہودیوں کے ملک میں جہاں رات بارہ بجے اکیلی خاتون محفوظ ہے وہاں پر عاشقان رسول کے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو غلطی سے وہ ایک محفوظ ملک سمجھ بیٹھی بھائیو! یہ کیسا غازیوں اور عاشقان رسول کا ملک ہے جہاں پر نہ کوئی بچہ محفوظ نہ عورت کی عزت محفوظ نہ کسی غریب کی جان محفوظ نہ مسلمان محفوظ نہ کوئی غیر مسلم محفوظ مجھے تو لگتا ہے کہ خدا نخواستہ اللہ کے عذاب کا وقت ہوا چاہتا ہے جب کسی قوم کو تباہ ہونا ہوتا ہے تو وہ اخلاقی پستی کے ایسے ہی لیول تک پہنچ چکی ہوتی ہے عورت بہت عظیم مخلوق ہے چاہے وہ بیٹی کے روپ میں ہو چاہے ماں کے چاہے بیوی کے یا چاہے بہو کے روپ میں ہو ہر روپ اس کا قابل احترام ہوتا ہے ہر روپ میں خوبصورتی اور نزاکت ہوتی ہے ہر روپ عزت چاہتا ہے ہر روپ اپنی الگ پہچان رکہتا ہے ماں اپنے وجود سے ایک نومولود کو جنم دیتی ہے اگر اولاد بیٹی ہوتی ہے تو اسے رحمت جانا جاتا ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بیٹی ذات کو منحوس مانتے ہیں اور بیٹے کو بیٹی پر ترجیح دیتے ہیں اس بناء پر بیٹیاں معاشرے میں خود کو نچلی سطح پر محسوس کرتی ہیں وہ اس طرح سر اٹھا کر نہیں متحرک ہو پاتی جتنا بیٹے ہوتے ہیں اور اگر بیٹی کو اپنے گھر وہ عزت مل جاتی ہے تو بہت سے گھرانے ایسے ہیں جہاں بیٹی کو بیاہا جائے تو اسے وہ مقام نہیں مل پاتا جس کی وہ حقدار ہے آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ اور جید خلفائے راشدین کے ادوار حکمرانی کے دوران معاشرہ شرافت پاکیزگی اور اعلیٰ ترین اقدارکا حامل بن چکا تھا جس میں نوزائیدہ معصوم بچیوں کو سابقہ جاہلیت کے دور کی روایات کے مطابق ان کو قتل کرکے زندہ درگور کر ڈالنے کی بجائے ان کی عزت و وقار کا مکمل تحفظ موجود تھا آج بھی بیشتر اسلامی ممالک میں ا س دورکی روشن کردہ شمعیں نظر آتی ہیں سعودی عرب میں اول تو ایسے واقعات ہوتے ہی نہیں کہ شرعی قوانین کی موجودگی میں کوئی فرد ایسی قبیح حرکت قتل و غارت گری معصوم نوخیز بچیوں سے زنا بالجبر کا مرتکب ہو ہی نہیں سکتا اگر اکا دکا واقعات ہوجائیں تو فوراً سر قلم کرنے اور لٹکانے جیسی سزائیں ملزم کو عبرت کا نشان بنا ڈالتی ہیں ایران اور بنگلہ دیش میں معصوم بچیوں کے ساتھ ایسے مظالم پر تین ماہ میں فیصلہ کر کے مجرموں کو سر عام پھانسی دے ڈالی گئی تھی اور اب ایسے واقعات ناپید ہو چکے ہیں ایک سروے کے مطابق دنیا کے جن ملکوں میں لوگ ذوق و شوق سے فحش فلمیں دیکھتے ہیں ان میں جو دس ملک سر فہرست ہیں ان میں نواسلامی ملک ہیں 13سالہ بچی سے واہ کینٹ پولیس کی حدود میں اجتماعی زیادتی زینب کا واقعہ ایک سال پہلے راولپنڈی کی ایک طالبہ سے اجتماعی زیادتی سانحہ چونیاں جس میں چار بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا اور دیگر واقعات کو دیکھنے کے بعد اب یہ اندازہ مشکل نہیں کہ جو اسلامی ملک آگے آگے ہیں ان میں ہم کس نمبر پر کھڑے ہیں ہمارے ہاں تو ضلع قصور میں گذشتہ سالوں سینکڑوں کم عمر بچیوں و بچوں کی ننگی ویڈیو فلمیں بنائی گئیں اور پھر انہیں بلیک میل کرکے مقتدر و طاقتور با اثر افراد کے ڈیروں ان کی قبحہ کمین گاہوں پر ان کی“حاضری اور پھر ان کے ساتھ معاشرہ کے کمینہ خصلت افراد کے اپنے منہ کالاکرنے کے واقعات کا پتہ چل جانے کے بعد بھی کسی ملزم کو قرار واقعی سزا نہ دینا دنیا و مافیا سے بے خبر بدمست حکمرانوں اور ہمارے ہاں رائج انگریز قوانین کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایسے واقعات پاکستان بھر کی دیگر جگہوں سے بھی رپورٹ ہو رہے ہیں مگر ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے صاف بچ نکلتے ہیں کہ پولیس تو نوٹوں کے بنانے کی مشین ہونے کی بناء پر صرف اسی کی طرف دار ہوتی ہے جو انہیں“ڈھیروں مال“ادا کرے ایس ایچ او تک پولیس والے جب تک“اوپروالوں کو مقرر کردہ نذرانہ“پیش نہ کریں وہ تھانوں کے انچارج لگ ہی نہیں سکتے اور پھر“ماہانہ بھتہ باقاعدگی سے اوپر تک پہنچاتے ہیں پنجاب میں عمران خان نے چھٹا آئی جی تبدیل کیا ہے مگر ابھی تک کچھ نہیں ہو سکا کرپشن نہیں رک سکی کہ پورا نظام کرپٹ ہے پولیس محکمہ کی اصلاح کیے بغیر برائیوں کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاسکتا ان کی تنخواہیں پانچ گنا بڑھا دیں ایسا کرنے کے بعد ان سے تھانوں کی قریبی مساجد میں عوام و دیگر سویلین افسران کی موجودگی میں حلف لیا جائے کہ وہ اب کوئی کام بھی سفارش اور رشوت لیکر نہیں بلکہ میرٹ پر کریں گے تبھی جاکر تھانے مظلوموں کی داد رسی کے ٹھکانے بن سکتے ہیں ہمارا معاشرہ اپنی اخلاقی قدریں کھو چکا ہے ہم گناہ ثواب کا فرقان قرآن سے لے لیں تو پھر کوئی عورت کربلا کا عنوان نہیں بنے گی قرآن ذہنوں کی سختی کو نرم اور دل کو گداز کرتا ہے علم اللہ نے اسی لیے تو عطا کیا کہ اپنے ذہن کی بند گرہ کھول لو اور اپنی اصلاح کر لو موجودہ یہود و ہنود کی ثقافتی یلغار سے نمٹنے اور اپنے اصل کے ساتھ اپنی شناخت قائم رکھنے کے لیے صبح سویرے کچھ منٹ دیں اور معطر کریں دل و دماغ کو شیطانیت وحشیت اور درندگی کا سدباب اسی سے ممکن ہے نماز قائم کریں تاکہ برائیوں سے بچ سکیں خوف خدا پیدا کریں اور یاد رکھیں کہ ہر برائی ہمارا رب دیکھ رھا ہے اور اپنے گناہوں کا حساب دینا ہے اب موٹروے پر سفر کرتی ہوئی ماں نے نیند سے چونک کے اٹھے ہوئے لوگوں کو گھبرا کے آنکھیں ملنے پر مجبور کردیا ہے مگر اب معاملہ صرف مجرموں کے گرفتار کرنے تک محدود نہیں رہا انہیں نشان ِعبرت بھی بنانا انتہائی ضروری ہے-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے