۔،۔ عالمی ادارہ صحت نے کورونا کے خلاف پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کو سراہا۔،۔

شان پاکستان-عالمی ادارہ صحت نے کورونا کیخلاف پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کو سراہتے ہوئے دنیا کو مشورہ دیا ہے کہ وبا سے نمٹنے کے لئے پاکستان سے سیکھیں،این سی او سی کی مشترکہ کاوشوں نے بین الاقوامی تخمینوں کو غلط ثابت کیا،سربراہ ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ٹیڈروس اڈہانوم ایک میڈیا بریفنگ میں کہا کہ عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے پاکستان، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ، اٹلی، منگولیا، ماریشس اور یوراگوئے کی تقلید کی جا سکتی ہے، ان 7 ممالک کی وبا کے خلاف تیاری اور ردعمل دنیا کے لئے سبق ہے،پاکستان نے کورونا سے نمٹنے کیلئے انفرا اسٹرکچر کا بہترین استعمال کیا، انسدادپولیو کے وسائل،مہارت کورونا سے نمٹنے کیلئے استعمال کی گئی، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز نیٹریکنک اور مانیٹرنگ میں اہم کردار ادا کیا، کورونا وائرس نے یاد دلایا کہ کثیرالجہتی نظام صحت انتہائی ناگزیر ہے، ہمیں آئندہ کی عالمی وبا کے لئے تیار اور کورونا وبا سے سبق سیکھنا ہو گا، یہ آخری وبا نہیں، تاریخ بتاتی ہے وبائیں، بیماریاں زندگی کی حقیقت ہیں، آئندہ جب بھی وبائآئے دنیا کو لازماً آج سے زیادہ تیار ہونا چاہئے، آج شعبہ صحت میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔روس میں ڈبلیو ایچ او کی ترجمان ملیٹا وجنووک نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اس حقیقت سے پر جوش ہے کہ اس وقت روس سمیت 30سے زیادہ ممالک میں کورونا ویکسین کیکلینکل ٹرائل مختلف مراحل میں ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان نیکورونا پر بھرپور انداز میں قابو پایا اور پاک فوج کے تعاون سے این سی اوسی کاصوبائی حکومتوں سے مثالی رابطہ رہا۔وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے کہا کہ یہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے پلیٹ فارم سے ہونے والی مشترکہ کاوشیں تھیں جن کی وجہ سے نہ صرف پاکستان نے کیسز کی تعداد کے حوالے سے بین الاقوامی تخمینوں کو غلط ثابت کیا بلکہ کیسز کی تعداد کو بھی کم رکھا۔ سابق معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسیبین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کوششوں کا اعتراف قرار دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ الحمد للہ، یہ پاکستان کے عوام کے لیے اعزاز ہے،اگر ہم کچھ کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں-

 

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے