۔،۔دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کا آغاز۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان قطر دوحہ۔ طالبان اور افغان حکومت کے وفد کے مابین امن مذاکرات آج صبح دوحہ میں شروع ہو چکے ہیں، تاہم نام نہاد انٹرا افغان بات چیت میں تقریباََ روزانہ ہونے والے تشدد کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،آج پہلی بار طالبان افغانستان کے مستقبل کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لئے افغان حکومت کے ساتھ وفد کی صورت میں بیٹھے ہیں، صبح سے دوحہ میں طویل انتظار کے بعد نام نہاد انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز ہو گا۔ایک طرف طالباناپنے نئے مذاکرات کار مولوی عبد الحکیم حاکانی کے ساتھ اور دوسری طرف افغان معاشرے کے مختلف نمائندوں، بشمول پارلیمنٹ ممبران،یونیورسٹی کے پروفیسرز اور صدر غنی کی کابینہ کے انفرادی ممبران کے۔ طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔ دوحہ کی روانگی سے قبل قومی مفاہمت کے اعلی کونسل کے چیئر مین عبد اللہ عبد اللہ نے کہا تھا کہ اس امید کے ساتھ بات چیت میں دونوں فریق حصّہ لے رہے ہیں کہ دونوں فریقوں کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ کوئی فوجی حل نہیں ہے، افغان وفد کے سربراہ نے کہا کہ افغان افغان عوام کی بھلائی کے لئے اس موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے جبکہ تقریباََ روزانہ تشدد سے مذاکرات مشکل ہوتے جا رہے ہیں حال ہی میں نائب صدر امر اللہ صالح قاتلانہ حملے سے بال بال بچ گئے تھے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں خواتین اور اقلیتوں کے مستقبل کے حقوق کو بھی واضح کرنا ہو گا جبکہ طالبان اسلامی جمہوریہ افغانستان کے موجودہ آئین کی بجائے شریعت کے ساتھ ایک بار پھر اسلامی امارات کا قیام چاہتے ہیں، افغان وفد کی چار خواتین میں سے ایک فوزیہ کوفی دوحہ میں بات چیت کے دوران خواتین کے حقوق کے لئے خصوصی طور پر بات کریں گی ان کا کہنا ہے کہ آج کی افغان خواتین وہ خواتین نہیں ہیں جو 20 سال پہلے تھیں اب خواتین پر اعتماد ہیں اس سے قطع نظر کہ وہ افغانستان میں جہاں بھی رہتی ہیں انہیں سیکھنے اور کام کرنے کا حق حاصل ہے وہ اپنے انسانی حقوق کا دعوی کر سکتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان کا احترام کرنا چاہیئے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے