۔،۔گُستاخِ ختم ِالرسلﷺ۔اے آراشرف۔،۔


اقوام عالم کی تاریخ ہو یا اسلام کی۔ظُلم و بربریت اور خونی داستانوں سے تاریخ کے اوراق رنگین نظرآتے ہیں۔چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے۔انبیااکرام علیہم السلام اور اولیا اللہ کو کن کن اذیت ناک طریقوں سے شہید کیا گیا اس تصورہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کسی کو آڑے سے چیرا گیا کوئی سولی پر چڑھایا گیا کسی کو بیہودہ الزام لگا کر شہید کیا گیااورکوئی زہر کی نظر ہوا۔مگرہر پیغمبرؑ نے توحید کے پرچم کو اپنے سینے پر سجا کر بھی بلند ہی رکھا ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان اور عزت وتکریم کا اندازہ خدائے متعال کی نظر میں اس امرسے بخوبی لگایا جا سکتاہے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی اپنے حبیب سے مخاطب ہواآپ ﷺکو۔یٰسین،مُزمل،مدثریاپیارے رسول جیسے پاکیزہ القاب سے ہی پکارا ہمارے آقاﷺ کو کفار مکہ کے علاوہ ابولہب اور اسکی زوجہ جو ابوسفیان کی بہن امیر معاویہ کی پھوپھی تھی سے ایسی ایسی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا کہ خدائے متعال کو کہنا پڑا کے ائے ابولہب تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں۔ وہ جو کہتے ہیں۔بات تو سچ ہے مگر ہے رسوائی کی۔ افسوسناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ دنیا کے نقشے پر ۶۵ سے زائداسلامی ممالک موجود ہیں اور دنیا بھر میں آباد مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے مگر افسوس صدافسوس کہ اربابِ اقتدار و اختیار اپنے اقتدار کے نشے اور لہوو لہب میں اسقدر گم ہیں کہ وہ صیحح اور غلط کی پہچان ہی بھول چکے ہیں ان۶۵ ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنے دین وایمان کی کوئی خاص فکر ہے اور نہ ہی اُنہیں دین اسلام پر ہونے والے خود کش حملوں کی کوئی فکرہے اگر اُنہیں فکر ہے تو اس بات کی کہ کس طرح اپنے مغربی آقاؤں کو خوش رکھنا ہے اور کس طرح کھٹ پتلی بن کراُنکے احکام کی تعمیل کر کے اپنے اقتدارکا دفاع کرنا ہے۔دوسری جانب ڈیڑھ ارب مسلمان اپنے فقہی اور مسالکی مسائل میں اسقدر اُلجھے ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے جاری کر رہے ہیں حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بعض لوگ سوشل میڈیا پریزید جیسے لعنتی کو رحمت اللہ اور اُس کے مقابل نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسین علیہ السلام نوجوانان جنت کے سردار کو غلطی پر ثابت کرنے کی جاہلانہ کوشش میں مصروف ہیں گویا کافرکو مسلمان بنانے کی بجائے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کافر بنانے پراپنی انرجی خرچ کر رہے ہیں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔۔منفعت ایک ہے اس قوم کی،نقصان بھی ایک۔۔ ایک ہی سب کا نبیؑ،دین بھی،ایمان بھی ایک۔۔حرمِ پاک بھی،اللہ بھی،قرآن بھی ایک۔۔کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک۔۔فرقہ بندی ہے کہیں اورکہیں ذاتیں ہیں۔۔کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟ اس میں کسی بحث کی گنجائش نہیں کہ ازل سے ہی جب یہ دنیا معرض وجود میں آئی ہے تب ہی سے انسانیت اورشیطانیت کے دو نظریات نے جنم لیا تھا جب خداوند متعال نے فرشتوں کو آگاہ کیا کہ وہ جلد ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضیح کر دیا کہ جب میں آدمؑ میں اپنی روح پھونک دوں توتمہیں چاہیے کہ اُس کو سجدہ کروربِ ذوالجلال نے آدمؑ کا جسم ایک خاص مٹی سے بنایا اور اُس میں اپنی روح پھونکی تووہ ایک بے نقص اوربے عیب انسان بن گیا تب خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدمؑ کو سجدہ کریں تو تمام فرشتوں نے نہایت عاجزی سے خدائے متعال کے حکم کی تعمیل میں حضرت آدمؑ کی تعظیم کی اور اُنکے سامنے اپنے چہرے خاک پر رکھ دیے مگر شیطان نے اپنے رب کی حکم عدولی کی اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے راندہِ درگاہ اور لعنتی قرار پایا۔ فرانس کے اخبار Charlie Habdo میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے رشدی ملعون توہین رسالت کا مرتکب ہوااوراسطرح وقناََ فوقتاََ ایسے یہ بدطینت لعین۔ توہین رسالت کے مرتکب ہوتے رہے ہیں مگر ہمارے نااہل حکمرانوں کی کمزوری اور سرد مہری کی بنا پر ہم ایسے فتنہ بازوں کے مُنہ میں لگام ڈالنے میں ناکام رہے ہیں اس بار پھرفرانس کے اخبار نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کرکے دنیا بھر کے مسلمان میں غم وغصہ کی ایسی آگ بھڑکائی ہے جس کی لپیٹ میں نہ صرف یورپ بلکہ جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں اس گھناؤنی سازش اور گھٹیا سوچ کے خلاف جگہ جگہ اختجاجی ریلیاں اور جلسے منعقد کئے جارہے ہیں اور عاشقان رسولﷺ اپنے غم و غصے اورآقاﷺ سے اپنی بے پناہ محبت اورتجدیدوفا اور ہر قسم کی قربانی کیلئے سرشارنظر آتے ہیں۔دوسرے ممالک کی طرح جرمنی کے تجارتی حب فرانکفرت میں بھی۶۲ ستمبر کو فرانس کے قونصلر جنرل کے سامنے پاکستان جرمن پریس کلب، پاسبان ختم نبوت،پاکستان ایسوسی ایشن جرمنی،پاکستان کلچرایسوسی ایشن جرمنی،پاک حیدری ایسوسی ایشن جر منی ور بہت ساری دیگرمذہبی اور سماجی تنظموں نے اس عظیم ایشان اختجاج کا اہتمام کیا ہے۔یہ ایک حققت ہے کہ جہاں کہیں بھی بندگان خدا کوراہ راست پر لانے کیلئے رحمانیت کا ذِکر ہو گا شیطان اپنی پوری قوت سے نسل آدم کو گمراہ کرنے کا فرئیضہ ادا کرتا رہے گا یہ شیطانی ٹولے ہر دوسرے روز مختلف حیلوں بہانوں سے فتنہ و فساد برپا کرنے کی راہیں تلاش کرتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کا موجب بنتے ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے ایسی بیہودہ حرکات عاشقان رسول کبھی برداشت نہیں کرئینگے حسدو نفرت ایسی بیماریاں ہیں جو کوئی بھی ان مہلک بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے یہ اُسے واصل جہنم کرکے ہی دم لیتی ہیں خالق کائنات نے جب خلقت آدم اور اس کے فرزندوں کوپیدا کرکے زمین پر سکونت اختیار کرنے کے ارادے سے اپنی نوری مخلوق فرشتوں کو آگاہ کیا توفرشتے جہنیں رب العزت نے اپنی پرستش کے منتحب کرکے اُن پر اپنی نعمتیں تمام کر کے اپنی اطاعت کی جانب راہنمائی کی ہے اُن پر یہ بات گراں گزری اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ ایک کم چوبیس ہزارنبیوں اور رسولوں کے بعدجس پاک وپاکیزہ اور ارفع واعلیٰ ہستی کو خُتم رُسل ﷺ کا اعزاز بخشا وہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کی ذات گرامی قدر ہے جو پوری انسانیت کیلئے رحمت بن کر آئے اور جہالت اور باطل کے بتوں کو توڑ کردنیا میں عدل وانصاف کی حکومت قائم کر دی۔ یوں لگتا ہے ہمارے حکمرانوں کی غیرت ایمانی اور ضمیر مُردہ ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے دین اور ایمان کا تحفظ کرنے میں بھی بے بس اور کمزور نظر آتے ہیں یا پھر دولت اور اقتدار کے نشے نے اُنہیں آندھا کر دیا ہے کہ اُس پاک وپاکیزہ اور طاہر و مطاہر ہستی جو نہ صرف مسلمانوں کے ہی رسول ہیں بلکہ اقوام عالم اورپوری انسانیت کیلئے بھی رحمت ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ۶۵ اسلامی ممالک کے حکمران اقوام متحدہ میں ایسی سزا کاقانون پاس کرائیں کے پھر کوئی بھی توہین رسالت کی جرات نہ کر سکے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے