-,- قلم کاروان،اسلام آباد(لوح و قلم تیرے ہیں)- ڈاکٹرساجدخاکوانی -,-

منگل 15 ستمبر بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں منتظم خزینۃ الکتب جناب رانااعجاز کامضمون ”قومی لباس؛ہماری پہچان،ہماری شان“ طے تھا۔آج کی نشست کے لیے ”تحریک ترویج قومی لباس،پاکستان“کاخصوصی تعاون حاصل تھا اور اسی تنظیم کے صدرنشین جناب پروفیسرآفتاب حیات نے صدارت کی۔جناب طارق سہیل بھٹی نے تلاوت قرآن مجید،جناب شہزادمنیراحمدنے مطالعہ حدیث نبویﷺاورجناب سبطین رضالودھی نے گزشتہ نشست کی کارروائی پڑھ کرسنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے جناب رانااعجازنے اپنی تحریرپیش کی،تحریر میں لباس کے بارے میں جہاں جملہ معلومات بشمول قبیلہ بنی نوع انسان میں لباس کی تاریخ،لباس کے مختلف نام،لباس کی اہمیت وضرورت پیش کی گئی تھیں وہاں بابائے قوم بانی اسلامی جمہوریہ پاکستان قائداعظمؒ کے بارے میں بتایاگیاتھاکہ یکم جولائی 1948ء کو بنک دولت پاکستان کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے قومی لباس کااعلان کیااورتادم مرگ ہمیشہ صرف قومی لباس ہی زیب تن کیے رکھا۔مقالہ پیش ہو چکنے کے بعد جناب عبدالرازق عاقل اور جناب شہزاد منیراحمد نے سوالات بھی کیے جن کا تسلی بخش جواب دے دیاگیا۔تحریرپرتبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرساجد خاکوانی نے کہاکہ مسلمانوں نے ایک ہزارسال کل دنیاپرحکومت کی لیکن کسی قوم کو اپناتہذیبی غلام نہیں بنایالیکن سیکولرازم نے دنیاکو”عالمی گاؤں“بناکر کل انسانیت پر عالمی غلامی مسلط کردی ہے جس میں یورپی لباس بھی ایک غلامانہ شعائر ہے۔جناب سیدمظہرمسعودنے کہاکہ سرکاری دفاتر،تعلیمی اداروں اور تقریبات میں قومی لباس پہننے کارواج ہونا چاہیے تاکہ قوم کو دورغلامی کے احساس کمتری سے نکالاجاسکے۔جناب عبدالرازق عاقل نے کہا کہ سلوار قمیص صرف پاکستان کاہی نہیں پورے برصغیرکامقامی لباس ہے۔جناب شہزادمنیراحمدنے کہاکہ قرآن مجیدنے تقوی کو بھی لباس قراردیاہے،انہوں نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ قومی اسمبلی میں اور کرنسی نوٹوں پرقائداعظم ؒکی بدیسی لباس والی تصاویرلگائی گئی ہیں۔جناب مرزاضیاء الاسلام نے کہاکہ صدر جنرل ضیاء الحق نے قومی لباس کے رواج کوفروغ دیاتھا۔تبصروں کے بعد جناب آغانورمحمدنے قراردادپیش کی جس میں حکومت سے مطالبہ کیاگیاتھاکہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے قومی لباس کی شرط رکھی جائے،شرکاء نے اتفاق رائے سے اس قراردادکومنظورکیا۔معمول کے سلسلوں میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپناحاصل مطالعہ پیش کیا اور جناب عبدالرازق عاقل اورجناب سیدمظہرمسعود نے اپنا اپنا منظوم کلام بھی پیش کیااور شرکاء سے داد وصول کی۔آخرمیں صدر مجلس جناب پروفیسرآفتاب حیات نے پیش کردہ تحریر کی تعریف کی اورصاحب تحریرکے طرز تحقیق کو عمدہ گرانا،انہوں نے کہاکہ انگریز حکمران یہاں کے مقامی لوگوں سے بے حدنفرت کرتے تھے چنانچہ انہوں نے معاشرے کے نچلے طبقوں اورخدمت گارافراد کو یہاں کے مقامی شرفاء واکابرین کا لباس فاخرہ پہنا کرمقامی رسوم و رواج کی توہین کی ہے،انہوں نے کہاکہ آج بھی بڑے بڑے ہوٹلوں پر دروازہ کھولنے والے اور کھانا پیش کرنے والوں نے پگڑی،کلاہ اور شیروانی پہنی ہوتی ہے جو کہ ہتک آمیز ہے،انہوں نے کہا کہ معاشرے کے اعلی و برتر طبقات جب قومی لباس شوق سے پہنیں گے تو بقیہ پوری قوم ان کی اقتدامیں قومی لباس پہننے پر فخر محسوس کرے گی،انہوں نے قلم کاروان کے ساتھ اپناتنظیمی تعاون جاری رکھنے کااعلان بھی کیا۔صدارتی خطبہ کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیر ہو گئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے