۔،۔اَمن یا خونِ عدل۔اے آراشرف۔،۔


ارشاد باری تعالیٰ ہے۔کہ خدا بھی اُسوقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک اُس قوم کو خوداپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔وہ جو کہتے ہیں کہ بات تو سچ ہے،مگرہے رسوائی کی۔جب اپنے ہی بھائی دشمن کی اغوش میں بیٹھ کر اُسکے ہمرکاب بن جائیں تو بڑے سے بڑا مقصد بھی کھٹائی میں پڑ جاتا ہے پھر اُسکا حاصل کرنا مشکل نہیں توکم از کم تاخیر کی نذر ضرور ہو جاتا ہے۔عرب امارات کااسرائیل کو تسلیم کرنے کا حالیہ معاہدہ فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجرگھونپنے کے مُترادف ہے۔ اسرائیل کے بحرین اورعرب امارات کے ساتھ حالیہ معاہدے اور بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ تسلط نے نہ صرف مسلم اُمہ میں بلکہ اقوام عالم میں ایک تہلکہ مچا دیا ہے اور ہر ذی نفس اوربا شعور انسان اس سوچ میں مبتلا ہے کہ جہاں دنیا بھر میں جمہوری اقدار کو فروغ دینے کی تگ و دوجاری ہے وہاں اسی مہذب دنیامیں بھی ابھی تک طاقت کا سر چشمہ عوام نہیں بلکہ وہی فرسودہ قانون نافذ ہے کہ۔جس کی لاٹھی،اُس کی بھینس۔ اور پھربڑی دیدہ دلیری سے۔عدل و انصاف کا خون۔لاٹھی اور گولی کی طاقت کے بل بوتے پر بہایاجا رہا ہے اورپھر اس اندھیر راج میں، اپنے بھائیوں کی بے اعتنائی اور بے حسی کے سبب سب سے زیادہ ظُلم واستحصال کا شکار بھی مسلمان ہی ہیں جبکہ اسرائیل اور بھارت نے لاٹھی گولی کی طاقت کے جبر سے مسلمانوں کی املاک پرزبردستی قبضہ جمایا ہوا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ مظلوم اپنے گھر میں بھی آزاد نہیں قیدی ہیں۔دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی اور بھارت نے کشمیریوں کی سرزمین پر طاقت کے زور پر زبردستی اور دہشتگردانہ اندازسے قبضہ جما رکھا ہے مگر امریکہ کی ہٹ دھرمی،اسرائیل اور بھارت کی بے جا ضد کئی دہائیوں سے ان سنجیدہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے اُنہیں جنگ کی جانب دھکیل رہی ہے کیونکہ جنگ کی صورت میں اصل فائدہ بھی تو امریکہ اور اسرائیل ہی کو پہنچے گا کیونکہ جنگ کی صورت میں ان دونوں ممالک کو مُنہ مانگی قیمت پر اپنے اسلحے کے انبار فروخت کرنے کا موقع ملنے کے علاوہ تیل کے کنوؤں پر قبضہ جمانے میں بھی آسانی ہو جائے گی۔ مگر خدا کی بے آواز لاٹھی جب برستی ہے تو قیصرو کسرٰی جیسی مضبوط حکومتیں بھی ریت کی دیوار کی طرح صف ہستی سے مٹ جاتی ہیں کیونکہ تاریخ انسانی اس بات کی گواہ ہے کہ جس قوم یا فرد نے جب بھی اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے یا پھرخدائی کا دعویٰ کیا ہے اُسکا انجام آخرکارعبرتناک اور خوفناک ہی ہوا ہے۔اللہ کی کتاب میں بھی ثمود اور عاد جیسی مُتکبر قوموں کی داستاں بیان ہوئی ہے پھر نمرود،فرعون،شداد،یزید،زیاد،ہلاکواورچنگیز خاں جیسے ظالموں اور خونخواروں کی ہڈیاں بھی حشرات الارض کی خوراک بن چکی ہیں تو پھر امریکہ،اسرائیل اور بھارت کس باغ کی مولی ہیں البتہ ان کی اس سازش نے دنیا کو دو حئصوں میں تقسیم ضرور کر دیا ہے پاکستان،ایران اور ترکی نے سخت الفاظ میں اس معاہدے کی مذمت کی ہے اور دنیا بھر کی اکثریت اس معاہدہ کو انتہائی ظالمانہ،مظلوموں کی حق تلفی کے علاوہ عدل وانصاف کا خون قرار دے رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ ایک سُپرپاور ہے مگراس بات میں بھی کسی شُبہ کی گنجائش نہیں کے وہ منافقت اورفتنہ برپا کرنے میں بھی اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔اگرچہ امریکہ بہت سارے ممالک سے دوستی کا دعویدار ہے مگرتاریخ کے آئینہ سے دیکھا جائے تو وہ اپنے اور اسرائیل کے مفادات کے علاوہ کسی کا بھی مخلص دوست نہیں پاکستان کو بھی اُسنے روس کا افغانستان میں تسلط ختم کرنے کیلئے جی بھر کے استعمال کیا اور اس غرض کیواسطے دنیا بھر کے بدنام زمانہ دہشتگردوں کواکٹھاکیااوراُنہیں جہادی قرار دیکر اپنے مفادات کے حصول کیلئے بے پناہ ڈالڑوں اور اسلحہ کے عوض خرید کر اپنے مقصدکیلئے استعمال کیا اور جب مطلوبہ مقصدپورا ہو گیا تو اُنکی امداد سے ہاتھ کھینچ لیااور اُنہیں پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں کے کھلی چھٹی دے دی۔ عراق کا ڈکٹیٹر صدام حسین جب تک امریکی مفادات کا تحفظ کرتا رہاامریکہ کا محسن تھا اورجب امریکی مفادات میں حائل ہوا اُسے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ سعودی عرب اوردیگر عرب امارات جو اسے اپنا نجات دھندہ تصور کرتے ہیں اُنہیں جلد۔۔ معلوم ہو جائیگا وہ تب تک اُنکا دوست ہے جب تک وہ اُسکے جائز یا ناجائز مفادات کا تحفظ کرتے رہیں گے۔مولائے کائنات حضرت علی ؑ کا قول ہے کہ اپنے آپ کو جنت سے کم قیمت پر مت فروخت کرو۔یہ معاملہ بھی علیحدہ بحث طلب ہے کہ ہمارے عرب بھائیوں نے کس قیمت پر اپنا آپ امریکہ کو فروخت کیا ہے،یقینا جنت تو نہیں۔مسلم اُمہ کی بھی حالت کچھ ایسی ہے کہ دولت و اقتداراور لہو و لہب کے نشے نے اُنہیں اسقدر مدہوش کر رکھا ہے کہ وہ صحیح اور غلط میں تمیز کرنا ہی بھول چکے ہیں ہمارے عرب بھائیوں کی کفیت بھی کچھ اُس دۂاتی جیسی ہے جسے سزا کا انتحاب دیا گیا تھا کہ چاہو تو سو پیاز کھا لو یا سو جوتے کھا لو تو اُس نے سوچا پیاز کھانا جوتے کھانے سے بہتر رہے گا چار پانچ پیاز کھانے سے اُسے اندازہ ہوا یہ اُسکے لئے مشکل ہو گا تو اس نے کہا نہیں میں جوتے کھاؤنگا اسطرح اُس نے سو جوتے بھی کھا لئے اور سو پیاز بھی مگر سب جانتے ہوئے ہمارے عرب بھائی کھلم کھلا اپنے ازلی دشمن کا آلہ کار بن کرمیر جعفر اور میر صادق جیسا کردار ادا کرنے لگے ہیں۔ساری دنیا جانتی ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر دو ایسے مُتنازعے سنجیدہ اور خطرناک مسائل ہیں یا یوں سمجھیں کہ دو ایسے آتش فشاں ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ کردنیا کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں اور بد قسمتی سے دونوں مُتنازعہ مسائل مسلمانوں کے ہیں اس لئے ہی سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ تو اقوام متحدہ ہی اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے ادا کر رہی ہے اور اقوام عالم کی منافقانہ اور مجرمانہ خاموشی بھی عدل وانصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے