-,-سوئس ریفرنڈم، یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ نقل و حرکت کا معاہدہ برقرار-,-

سوئس رائے دہندگان نے یورپی یونین کے ساتھ لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے والے معاہدہ کو ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ریفرنڈم میں تمام ووٹوں کی گنتی میں، تقریبا 62 فیصد نے کہا ہے کہ وہ آزادانہ نقل و حمل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ 38 فیصد اس کے خلاف ہیں۔سوئٹزرلینڈ یورپی یونین کا ممبر نہیں ہے لیکن اس کے برسلز کے ساتھ ایک دوسرے پر منحصر معاہدوں کا سلسلہ ہے جو اسے یورپ کے آزاد تجارتی علاقے تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔یورپ سے امیگریشن پر لگام لگانے کے اس ریفرنڈم کو سوئس پیپلز پارٹی (ایس وی پی) نے تجویز کیا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے اس کی مخالفت کی تھی۔یورپی یونین سے سوئٹزرلینڈ جانے والے تارکین وطن کے بارے میں کوٹہ متعارف کروانے کے لئے اسی طرح کا اقدام 2014 کے ریفرنڈم میں منظور کیا گیا، جس سے سوئس-ای یو تعلقات کو نقصان پہنچا۔سوئس لوگوں کو براہ راست جمہوریت کے ملکی نظام کے تحت اپنے معاملات میں براہ راست ملوث کیا جاتا ہے۔ انہیں باقاعدگی سے قومی یا علاقائی ریفرنڈم میں مختلف امور پر رائے دہندگی کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔تحریک آزادی کے اس ریفرنڈم کے منصوبے کے حامیوں کا کہنا تھا کہ وہ سوئٹزرلینڈ کو اپنی سرحدوں پر قابو پانے اور صرف تارکین وطن کا انتخاب کرنے کی اجازت دے گا۔مخالفین کا کہنا تھا کہ یہ غیر یقینی وقت پر صحت مند معیشت کو کساد بازاری کی لپیٹ میں لے جاۓ گا اور سوئس شہریوں کو پورے یورپ میں رہنے اور کام کرنے کی آزادی سے محروم کردے گی۔اور سوئٹزرلینڈ کے اپنے اہم ساتھی یورپ کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈال دے گااے ایل سی پی معاہدہ سوئس شہریوں کو بھی آزادانہ طور پر یورپی یونین کے اندر منتقل ہونے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس کے تحت 450،000 سے زیادہ سوئس شہری یورپ کے مختف ممالک میں رہتے اور کام کرتے ہیں اس سال جون کے آخر میں حاصل کیے گۓ اعداد و شمار کے مطابق، یورپی یونین اور انگلینڈ کے 1،455،231 شہری سوئزرلینڈ میں مقیم تھے۔یوروپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے ٹویٹر پر کہا کہ اس کا نتیجہ “یوروپی یونین اور سوئٹزرلینڈ کے مابین تعلقات کے لئے ایک بہترین دن ہے۔ ہم مقبول ووٹوں کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اپنے قریبی تعاون کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں۔ سوئس لوگوں نے بات کی ہے اور ایک پیغام بھیجا ہے۔ ایک ساتھ مل کر ہمارے سامنے ایک بہت اچھا مستقبل ہے۔ “

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے