۔،۔ اس مسخرے سے بات کرنا مشکل ہے،معذرت چاہتا ہوں اس شخص سے۔جو بائیڈن۔،۔

شان پاکستان امریکا واشنگٹن۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدارتی انتخابات سے قبل ہونے والے پہلے ٹیلی وثرن مباحثے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کی لفظی جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی جبجوبائیڈن نے چین کے ساتھ ٹرمپ کے تجارتی اعاہدے پر تنقید کی جس پر فوراََ ٹرمپ نے جو بائیڈن کی بات کاٹتے ہوئے جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن پر چین سے غیر قانونی طور پر کروڑوں ڈالر منافع حاصل کرنے کے الزامات دہرانے شروع کر دیئے۔ مباحثے کے میزبان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے کی کوشش کی جس میں انہیں کامیابی نہ حاصل ہو سکی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بار بار بات کاٹنے اور الزامات کی رٹ لگانے پر مجبوراََ جوبائیڈن سے نہ رہا گیا اور ٹی۔وی۔ مباحثے کے دوران کہہ ڈالا ٭ اس مسخرے سے بات کرنا مشکل نظر آ رہا ہے میں س شخص سے معذرت چاہتا ہو٭واضح رہے ریاستہائے متحدہ میں دو صدارتی امیدواروں کے درمیان پہلی بحث ٹیلی ویثرن کے ایجاد ہونے سے بہت پہلے سن 1858 میں ہوئی تھی۔ ایلی نوائے Illinois سے تعلق رکھنے والے ریاستہائے متحدہ امریکا کے سینیٹ کے امیدوار وں ٭ابراہم لنکنAbraham Lincoln اور اسٹیفن اے ڈگلس Stephen A. Douglas٭ نے ایک ہی معاملہ پر سات بار بحث کی تھی۔ریاستہائے متحدہ امریکا میں غلامی کا مستقبل٭60 منٹ کی تقریر کے بعد 90 منٹ کا جواب اور 30 منٹ کا خلاصہ۔۔ اس مباحثہ کی شکل نے امیدواروں کو کافی حد تک اپنی پوزیشن پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ بعد ازاں ریڈیو پر نشر ہونے والی پہلی انتخابی مہم کی بحث 1948 میں ہوئی۔ 1956 میں ٹیلی ویثرن نے پہلے انتخابی مباحثے کو نشر کیا جو ڈیمو کریٹک کے دو امیدواروں ایڈلائی اسٹیونسنAdlai Stevenson اور ایسٹس کیفور Estes Kefauver نے ایک دوسرے کا سامنا کیا۔ستمبر 1960 کو شکاگو Chicago کے سی۔بی۔ایس اسٹوڈیو CBS-Studio میں نکسنNixon اور جے۔ایف۔ کینیڈی John F. Kennedy کے مابین پہلی صدارتی بحث چار گھنٹے تک جاری رہی۔ کینیڈی نے کیمرے میں نگاہ ڈالی اور ٹیلی ویثرن کے سامنے سامعین سے براہ راست گفگو کی۔نکسن بعد میں الیکشن ہار گئے تھے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے