۔،۔قلم کاروان،اسلام آباد۔ڈاکٹرساجدخاکوانی ۔،۔

منگل 13اکتوبر بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں معروف شاعر،ادیب اوردانشور جناب مظہرمسعودکے اولین شعری مجموعہ”خزاں کے بعد“کی تقریب پزیرائی طے تھی۔جناب قیوم طاہر، سرپرست اعلی ادبی تنظیم”سوچ“ نے صدارت کی جبکہ شہراقبال فورم کے صدرجناب سید ظہیراحمدگیلانی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے۔جناب فہدعلی قریشی نے تلاوت قرآن مجید،جناب طارق محمودنے پہلے سیدمظہرمسعودکی ایک نعت اور پھر ایک اپنی نعت بحضورسرورکونین ﷺ پیش کی،جناب راجہ جاویدعلی بھٹی نے مطالعہ حدیث نبویﷺ، اورجناب عالی شعاربنگش نے گزشتہ نشست کی کارروائی پڑھ کرسنائی۔صدرمجلس کی اجازت سے تقریب پزیرائی کا آغازہوا،سب سے پہلے ڈاکٹرساجدخاکوانی نے صاحب کتاب جناب سیدمظہرمسعودکا شخصیہ پڑھا،اس کے بعد میرافسرامان،ڈاکٹرمرتضی مغل،پروفیسرمظہراقبال،پروفیسرناصرمنگل،راجہ جاویدعلی بھٹی اورعالی شعاربنگش نے شعری مجموعہ”خزاں کے بعد“کے ادبی و فنی محاسن اور کتاب پرتحریری و زبانی نقدوتبصرہ پیش کیا۔تمام مبصرین نے کتاب میں سے اپنی پسندکے چنیدہ اشعاربھی سنائے اور پہلی کتاب کی اشاعت پر صاحب کتاب کو مبارک بادبھی پیش کی۔تبصروں کے بعد جناب مبشرسلیم بشرنے صاحب کتاب کے کومنظوم خراج عقیدت پیش کیااور شرکاء سے بے حددادوصول کی۔جناب طارق محمود نے ”خزاں کے بعد“کتاب سے ایک منتخب غزل ترنم کے ساتھ اپنی خوبصورت آواز میں سنائی جس کی لے بھی انہوں نے خود مرتب کی تھی۔نشست میں موجود ایک نعت خوان خاتون میمونہ مشتاق نے اپنی خوبصورت آواز میں نعت سنائی جس سے محفل پرنورہوئی اورسامعین کاایمان تازہ ہوگیا۔صاحب کتاب جناب سیدمظہرمسعودنے بھی شرکاء نسشت سے خطاب کیااور اپنی لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر سنائی۔انہوں نے تمام شرکاء کا عمومی طورپراورتبصرہ کرنے والے احباب کا خصوصی طورپر شکریہ اداکیا۔انہوں نے قلم کاروان کے ذمہ داران کے لیے بھی اتنی شاندار محفل کے انعقاد پرحرف تشکراداکیااوردعاکی کہ اللہ تعالی ان کی ادبی مساعی جمیلہ کوخیروبرکت کاباعث بنائے،اپنے خطاب کے آخرمیں انہوں نے ”خزاں کے بعد“کے بعد زیرطبع کتاب میں سے دو غزلیات نذرسامعین کیں،جنہیں بہت پسندکیاگیا۔نشست کے مہمان خصوصی جناب سیدظہیرگیلانی نے کتاب”خزاں کے بعدپر اپناطویل تحریری تبصرہ پیش کیا،تبصرہ کئی حصوں میں منقسم تھا اور مہمان خصوصی نے مطالعہ کتاب کے دوران کتاب کے مختلف حصوں پراپنی فنی رائے دی تھی،انہوں نے کہا صاحب کتاب نے بڑی خوبصورتی سے فطری تبویب کااہتمام کیاہے کہ پہلے حمد،پھرنعت،پھر منقبت کی نظمیں،بعد میں وطن عزیزکے لیے منظوم اظہارجذبات اورپھر غزلیات۔مہمان خصوصی کامحنت سے لکھاگیامقالہ ایک طرح کا تقابلی مطالعہ تھا جس میں زیرنظرکتاب کی غزلیات کااردوادب کے قدیم وجدیداساتذہ کے کلام کے ساتھ مقارنہ پیش کیاگیاتھا،انہوں نے اپنے موقف کے حق میں ”خزاں کے بعد“سے لیے گئے اشعاربھی جابجاپیش کیے۔آخرمیں صدرمجلس جناب قیوم طاہرنے اپنے صدارتی خطبے میں ”خزاں کے بعد“کاحاصل مطالعہ پیش کیا،ان کا خطاب تحریری و تقریری،دونوں شکلوں میں تھاانہوں کتاب کے اسلوب کی تعریف کی اور امیدظاہر کی صاحب کتاب کے ہاں تدوین کتب کا سلسلہ جاری رہے گا۔صدر مجلس نے پڑھے گئے مقالات اور نقدوتبصرہ کے معیارکی تعریف کی اورشرکاء نشست اور قلم کاروان کا بھی شکریہ اداکیا۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیر ہو گئی۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے