-,-افواج پاکستان سے لا زوال محبت-سید علی جیلانی-,-


نیپولین نے کہا تھا”اسلحہ میرا ہو اور فوج اسلامی ریاست کی ہو تو میں پوری دنیا پر حکومت قائم کر سکتا ہوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پاک فوج کی حیثیت کشتی کے اُس ملاح کی سی ہے جو طوفانی لہروں میں اپنی حکمت عملی ثابت قدمی فرض شناسی اور بہادری سے کشتی کو صحیح سلامت کنارے لگاتا ہے طوفانی لہروں اور بھنور میں پھنسی کشتی اور اس کے مسافروں کو خیر و عافیت سے منزل مقصود تک لاتا اگر طوفانی لہروں اور بھنور میں ملاح گھبرا جائے اور اپنا حوصلہ طاقت کھود ے تو یقینا کشتی بے رحم لہروں کی نظر ہو کر ڈوب جائے گی اور کئی قیمتی جانیں ہمیشہ کے لیے دم توڑ دیں گی پاک فوج کے جوان اس کشتی کو تھامے موسم کی سختیوں کا مقابلہ کرتے اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں اگر کوئی معاشرہ سلطنت زندہ و سلامت رہ سکتی ہے تو اس کے پیچھے ایک مضبوط عسکری قوت کا وجود ہے پاک فوج اگر سر فروش نہ ہوتی ملک و قوم کی محافظ نہ ہوتی تو دشمن کب کاپاکستان کو نگل چکا ہوتا عرصہ دراز ہے امریکہ مختلف زاویوں سے ملک پاکستان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کبھی افغانستان کے راستے کبھی ہمسائیہ ملک بھارت کے راستے داخل ہوکر حملہ کرنا چاہتا ہے لیکن یہ پاک فوج کی حکمت عملی اور دانش مندی ہے کہ وہ پاکستان کی جغر افیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی بھی حفاظت کررہی ہے پاک فوج کا ہر جوان اور آفیسر ہر وقت ہر لمحہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جوان دینے کے لیے چوکنا کھڑا ہے پاک وطن اگر قائم دائم ہے تو اس کے پیچھے جوانوں کا وہ مقدس لہو ہے جو انہوں نے ہنستے ہنستے ملک و قوم کی حُرمت پر نچھاور کر دیا پاک فوج کا ادارہ پاکستان میں واحد مثال ہے جس کی تنظیم نظم اور صلاحیتوں کی مثالیں دنیابھر میں دی جاتی ہے جب ایک ریکروٹ اس ادارے کا حصہ بننے کے لیے آتا ہے تو تربیت کے ابتدائی مراحل میں ہی اس کے ذہن سے ہر طرح کی تقسیم کا مادہ چاہے وہ زبان کی بنیاد پر ہو یا صوبائیت کی بنیاد پر چاہے وہ مسلک کی بنیاد پر ہو یا نسل کی بنیاد پر ایسے کھرچ کا نکال دیا جاتا ہے کہ وہ صرف خاکی وردی میں پاکستان کا سپاہی بن جاتا ہے تاکہ مسلم اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے تحفظ میں کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے پاکستان مسلح افواج کی پہ جو نشان ہوتا ہے اس پہ تین ہی جملے لکھے ہوتے ہیں ایمان اتحاد تنظیم ان کی ہی تعلیم وہ ساتھ لے کر چلتے ہیں اور ان جملوں کی پاسداری میں زندگی گزار دیتے ہیں پاک فوج کا نصب العین ہے ”ایمان تقویٰ اور ِجہاد فی سبیل اللہ ہے ان کی زندگی میں کوئی میلہ نہیں ہوتا کوئی عرس نہیں ہوتا وہ بچوں کے ساتھ عید نہیں مناتے وہ کنسرٹ نہیں دیکھنے جاتے بس ملک کی حفاظت اور جنگ یہی کچھ انکی زندگی کا میلہ ہوتا ہے اسی پہ جشن سوگ اور شادمانی ہوتی ہے ہم اپنی زندگی کو بھر پور جی سکیں اسلیے وہ اپنی زندگی اشاروں پہ گزار دیتے ہیں مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت پاک فوج بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سول پاور کی امداد کریں گی پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ہم نے اسے بیش بہا قربانیوں سے حاصل کیا ہے اس کی تاریخ کے حاشیوں پر ہمارے آباواجداد کے خون کی رنگینی آج بھی فروزاں ہے پاکستان کے دشمن اسے محض اس لیے ختم کرنا چاھتے ہیں کہ یہ اسلام کا ایک قلعہ ہے ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اللہ کے فضل وکرم پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی قوت بازو سے اس قلعے کو نا قابل تسخیر بنادیں قیام پاکستان سے آج تک ہمیں کتنے انقلاب کا سامنا کرنا پڑا 1947 ء کی خون آشامیاں 1965 ء کی جان فروشیاں اور 1971 ء کے زخم دلوں اور نگاہوں میں تازہ رہیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود کو اس قدر مضبوط بنالیں کہ ہمارا وطن سیسہ پلائی دیوار بن جائے کہ اس سے ٹکرانے والا پاش پاش ہو جائے مسلح افواج ہماری ریاست کا اہم ستو ن ہے اسے سیاسی مخالفتوں میں اپنی انا کی بھینٹ مت چڑھائیں ملک دشمن عناصر کو پنپنے نہ دیں چاہے وہ سرحد پار کا ہو یا آپ کے گلی محلے کا اگروہ ہمارے ملک وقوم کا دشمن ہے تو آپ کا ہمارا دوست کیسے ہوسکتا ہے ہمیں پاکستان مخالف نظریئے کے خلاف اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے اگر دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں اضافہ ہورہا ہے تو اس میں ہماری مسلح افواج کا نمایاں کردار ہے بیشتر سیاسی کرداروں نے ہمیشہ مایوس کیا ہے ان کی کرپشن و لوٹ مار کی داستانیں سن سن کر تھک گئے ہیں جو بھی حکومت میں ہوتا ہے وہ خود کو فرشتہ سمجھتا ہے جب اس کی مخالف جماعت برسر اقتدار میں آتی ہے تو سارے پول پٹی کھل کر سامنے آتے ہیں اس گندے تالاب میں کنول کون ہے اس کا فیصلہ اپنی ضمیر کی عدالت میں کیجئے کسی شخصیت کو ناپسند کرتے ہوں تو اخلاقی دائرے میں رہ کر تعمیری تنقید کیجئے سوشل میڈیا یا واٹس ایپ گروپس میں مسلح افواج پر الزامات لگا کر سمجھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑا بہادر کوئی نہیں ہے ہٹلر کے بارے ایک کہاوت مشہور ہے وہ کہتا تھا”اگر کسی قوم پر کاری ضرب لگانی ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اِس قوم کی فوج کو قوم کی نظروں میں اتنا مشکوک بنا دو کہ وہ اپنے محافظوں کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کر دیں اور یہ ایک مُسلمہ حقیقت ہے جس سے رو گردانی نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاک فوج کے خلاف زہر اُگلا جا رہا ہے تا کہ قوم اپنے محسنوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے لیکن انشاء اللہ جب تک ہمارے جسموں میں خون گردش کر رہا ہے ہمار ا ایک ایک قطرہ پاک فوج کے لیے حاضر ہے ایک اور بات اپنے قارئین کو بتانا چاہوں گا اگر کوئی معاشرہ سلطنت زندہ و سلامت رہ سکتی ہے تو اس کے پیچھے ایک مضبوط عسکری قوت کا وجود ہے پاک فوج اگر سر فروش نہ ہوتی ملک و قوم کی محافظ نہ ہوتی تو دشمن کب کاپاکستان کو نگل چکا ہوتا آفرین ہے اُن والدین بھائی بہنوں پر جو اپنے پیاروں کو موت کی آغوش میں اللہ اور اُس کے رسول ۖ کی محبت میں میدان خارِزار میں بھیجتے ہیں کیا کوئی ان کے درد کو سمجھ سکتا ہے کہ جب ان شہدا کے جسد خاکی اپنوں کے پاس آتے ہیں تو والدین بھائی بہن اور اولاد کے د ل پر کیا گذرتی ہے اگر وہ محسوس نہیں کرتے تو اپنے سب سے پیارے کے جسم کے کسی بھی حصے کو ہلکی سی خراش لگا کر اُس کے رونے پر تالی بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کریں تاریخ گواہ ہے دہشتگردی کی جنگ میں جتنی قربانیاں پاک فوج کے جوانوں افسروں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے دی اس کی شائد ہی نظیر ملتی ہو پاکستان کاہر فرد پاک فوج کا سپاہی ہے اور ہمیں اپنی افواج پر بھروسہ ہے اس میں کوئی شک نہیں ملک میں ایک مفاد پرست ٹولہ ملک و قوم کی شان پاکستان کی آن پاک فوج کے خلاف زہر اُگل کر عوام اور افواج کے درمیان ایک خلیج پیداکرنے کے ناکام کوشش کر رہا ہے یہ ملک اللہ کے فضل سے اور پاک فوج کی انتھک کوششوں قربانیوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے قائم و دائم ہے اور انشاء اللہ قائم ودائم زندہ و سلامت رہے گا ہمارا پاکستان ہماری فوج قابل تحسین ہیں فوج کو عوام کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے ہم دشمن کو بتا دینا چاہتے ہیں یہ 22 کروڑ عوام نہیں بلکہ یہ 22 کروڑ فوجی ہیں جو اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک اپنے ملک و قوم کی خاطر بہا دیں گے لیکن اپنے ملک پر آنچ نہ آنے دیں گے اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی بے مثال محبت قیامت تک قائم رہے گی-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے