۔،۔ کوویڈ COVID-19 کورونا وبائی امراض کی تباہی کی موجودہ صورتحال۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی برلن۔ جرمنی میں کوویڈ COVID-19 کی موجودہ صورتحال کا خلاصہ جرمنی میں آبادی کے مابین ٹرانسمیشن میں فی الحال تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے روبرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ RKIنے فوری طور پر یہ اپیل کی ہے کہ پوری آبادی انفیکشن کے تحفظ کے لئے پرعزم ہو جائے۔7 گذشتہ دنوں کے درمیان جرمنی میں ہر 100.000 باشندے میں 34,1 واقعات تک پہنچ چکے ہیں۔جرمنی کی سات وفاقی ریاستوں۔ برلن، بریمن، ہیسن، نارتھ رائن ویسٹ فالیا میں واضح طور پر متاثرین کی بڑھتی تعداد ظاہر ہوئی ہے جبکہ، سار لینڈ اور بادن وورٹن برگ میں قومی اوسط سے قدرے اوپر ہیں۔ برلن نیو کولن،بٹبرگ ہ سینکٹ ونڈل اور برلن وسط کے اضلاع میں سات روزہ واقعات کی مد میں 100.000 رہائشیوں سے 100 متاثرین کے مقدمات سامنے آئے ہیں رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آغاز سے ہی بوڑھے عمر کے گروپوں کا تناسب ایک بار پھر بڑھ رہا ہے۔ مجموعی طور پر لیبارٹری سے 348,707تصدیق شدہ کوویڈCOVID-19 کیسز رجسٹرڈ کئے گئے ہیں جن میں سے اموات کی تعداد 9,810 شامل ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 281,900 ریکارڈ کی گئی ہے۔فی الحال ایکٹو کیسز کی تعداد 56,997 جن میں سے سیریس کیسس کی تعداد 655 بتائی جات ہے جرمنی کی ٹوٹل آبادی تقریباََ 83,861,634 افراد پر مشتمل ہے جبکہ پچھلے ہفتوں میں مرنے والوں کی تعداد صرف43 رہی ہے۔ پوری دنیا میں فی الحال کوویڈ COVID-19 کی تعداد 39,069,854 تک پہنچ چکی ہے جبکہ صحت مند ہونے والوں کی تعداد 29,278,079 ریکارڈ کی گئی ہے اور مارچ سے ابھی تک مرنے والوں کی تعداد 1,100,666 تک ہو چکی ہے۔ چند دنوں سے حالات پر قابو قانے کے لئے فرانس میں رات کو 21:00 بجے سے صبح 06:00 بجے تک آج سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدام اٹھائے جائیں گے فرینکفرٹ، آفن باخ، مائین ٹاونس کرائسس اور گروس گیراوُ میں بھی سخت اقدام اٹھانے کے آرڈر کر دیئے گئے ہیں، ماسک کا استعمال نہ کرنے والوں پر 250 یورو جرمانہ لگایا جائے گا۔٭اللہ تعالی کا فرمان۔نہیں مر سکتا خواہ کتنے ہی اسباب موت کے جمع ہوں اور ہر ایک کی موت وقت مقدر پر آنی ضرور ہے خواہ بیماری سے ہو یا قتل سے یا کسی اور سبب سے، تو خدا پر توکل کرنے والوں کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔اور نہ کسی بڑے یا چھوٹے کی موت کہ سن کر مایوس و بد دل ہو کر بیٹھ جانا چاہیئے۔ ٭

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے