۔،،۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے اہم ایشوزپر صحافیوں کو بریفنگ دی۔،۔
ماسکو(شاہد گھمن سے) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے اپنی ہفتہ وار اور بریفنگ کے دوران کاراباخ، افغانستان، مشرق وسطی، کوروناوئرس اور دیگر اہم ایشوزپر صحافیوں کو بریفنگ دی انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں کابل اور افغان طالبان اتفاق رائے پر آئیں گے اور تشدد کے خاتمے اور قومی مفاہمت کے حصول کے لئے ٹھوس مذاکرات کا آغاز کریں گے۔روسی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ میں پاکستانی صحافی شاہد گھمن کے مسئلہ کشمیر سے متعلقہ سوال کا جواب دیتے ہوئے ماریہ زخارووا نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت ہندوستان – پاکستان تنازعات کے حل کے بارے میں ہمارا موقف مستقل اور یکساں ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے 1972 کے شملہ معاہدے اور 1999 کے لاہور اعلامیے کی دفعات کے مطابق باہمی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ روس اس تنازعہ کو پرامن طور پر حل کرنے کی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے، جس کا دہائیوں سے نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان نہ صرف ریاست بلکہ مجموعی طور پر خطے کی صورتحال پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ ہم جنوبی ایشیا کی دو بڑی ریاستوں کے مابین اچھے اور دوستانہ تعلقات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سے علاقائی استحکام اور سلامتی، باہمی فائدہ مند تجارتی اور معاشی روابط کی ترقی میں براہ راست مدد ملے گی۔پاکستانی صحافی کی جانب سے ایک اورسوال کیا کہ روس کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے باوجود آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین مسلح تصادم جاری ہے۔ فریقین جنگ بندی کے لئے اقدامات کیوں نہیں کررہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ماریہ زخارووانے کہاکہ 9-10 اکتوبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کی دعوت پر ماسکو میں روس، آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کی ایک اہم اجلاس میں بات چیت ہوئی۔ جو لگ بھگ 11 گھنٹے جاری رہی۔ دوسری چیزوں کے علاوہ، انہوں نے جنگ بندی پر قابو پانے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا اور اجلاس کے بعد طے پانے والے معاہدے کا اعلان کیا گیا جبکہ مذاکرات کے بعد باکو اور یریوان میں روسی قیادت اور شراکت داروں کے درمیان صدور، وزرائے خارجہ، وزارت دفاع، کی سطح پر متعدد ٹیلیفون رابطے بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی پیغام یہ ہے کہ فوری طور پر اجلاس کا انعقاد کرنا اور جنگ بندی کی نگرانی کے طریقہ کار پر اتفاق کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک سیاسی تصفیے کے امکانات ہیں، ہم اس حقیقت سے آگے بڑھ رہے ہیں کہ یہ ممکن اور ضروری ہے۔ او ایس سی ای منسک گروپ کے شریک کاروں نے جو تجاویز پیش کی ہیں ان پر عمل جاری ہے وہ مذاکرات کا حصہ ہیں۔ یہ ایک مرحلہ وار، متعلقہ خطوں کی بتدریج آزادی ہے جبکہ سیکیورٹی کی ضمانتوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے اور اس کی آخری حیثیت طے ہونے سے قبل آرمینیا اور کراباخ کے مابین قابل اعتماد مواصلت کو یقینی بنانا ہے۔ماریہ زخارووا نے کہا کہ تنازعہ کاراباخ کے دوران ہر طرف سے بڑی تعداد میں بیانات دیئے گئے تھے۔ ان میں سے بہت سے جذباتی ہیں۔ آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن آپ کو سمجھنا چاہیئے کہ وہ کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جارہے ہیں۔ میں ایک بار پھر زور دینا چاہتی ہوں کہ اس وقت خونریزی کے مکمل خاتمہ کیلئے،جنگ بندی اور مذاکراتی عمل بہت ضروری ہے۔

Shahid Ghumman Maria Zakharoava Russia

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے