۔،۔ دربار عالیہ حضرت پیر ثنا ء محمد چشتی ؒ اور جشن عید میلاد النبی ﷺ۔صابر مغل۔،۔


ماہ مقدس ربیع الاول کی آمد آمد ہے،آمنہ کے لال،خدا کی محبوب اوردنیا کی عظیم ترین ہستی،وجہ تخلیق کائنات،آمنہ کے لال،سردار الانبیاء،رحمت اللعالمین،ازل سے ابد تک قائم اور آخرت میں نجات کا ذریعہ،جن کی امت ہی باقی تمام امتوں سے بہتر قرار پائی کے حوالے سے ان کی ولادت با سعادت12ربیع الاول کو ہونے پر عاشقان رسول ﷺ کو جشن میلاد مصطفیٰ ﷺ انتہائی محبت،عقیدت اور جذبہ ایمانی کے تحت مناتے ہیں،آپ ﷺ کی ولادت مبارک کے دن کو نہ ہی صرف جشن کا سمان ہوتا ہے بلکہ اسی محبت میں درود و سلام سے لبریز روحانی محافل کا انعقادتواتر سے جاری رہتا ہے،جس طرح حضور ﷺاپنی رحمت ہر وقت جاری فرماتے ہیں اسی طرح محبت کرنے والے دیوانے بھی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حب رسول ﷺ کا مظاہرہ کرتے ہیں،12ربیع الاول کے موقع پر مسلمان قریہ قریہ روشن کر دیتے ہیں،ہر طرف درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں دوسری جانب خدا وند کریم بھی اپنے محبوب کی ولادت کے اس بابرکت دن کے موقع پر زمین و آسمان پر عجب نظارہ فرما دیتے ہیں،کائنات کی ہر مخلوق اس جشن عظیم کا حصہ بن جاتی ہے،ہر عبادت ان کے ذکر کے بغیر نا مکمل، کوئی شخص دائرہ اسلام میں اس وقت تک داخل نہیں جب تک دنیا کی سب سے عظیم اور مقدس ہستی کا نام نہ لے،ان کے آخری نبی ہونے پر شہادت نہ دے دے،دنیا کی سب سے بڑی اور افضل عبادت نماز کی تکمیل بھی اسی وقت ہوتی ہے جب اس میں ذکر مصطفیٰ ﷺ ہو،تب تک ایمان کی تکمیل ہی نہیں ہوتی تب تک اللہ پاک کے ساتھ ساتھ نبی پاک ﷺ کی اطاعت کونہ اپنایا جائے،ختم نبوت پر ایمان ہی در اصل ایک حقیقی مسلمان ہونے کی دلیل ہے جو اس سے منکر ہوا وہ دنیاو آخرت میں ذلیل و رسوا ہوا،بر صغیر میں ہندو اور سکھ ازم کے عرو ج میں اسلام لانے کا سہرا بھی بلا شبہ اولیاء اللہ کے ماتھے کا جھومر ہے،دیگر بزرگان اسلام کی طرح حضرت بابا فرید الدین رحمتہ اللہ نے بھی لاکھوں ہندوؤں اور سکھوں کو بھی دائرہ اسلام میں داخل فرمایا،دربار حضرت بابا فریدالدین گنج شکر الراقم کے آبائی علاقہ سے محض100کلومیٹر دوری پر ہو گااس لئے اکثر وہاں حاضری دینے کا شرف حاصل رہتا ہے جب بھی جاتے ہیں بے پناہ قلبی سکون حاصل کر کے واپس آتے ہیں،سلسلہ چشتیہ کے اس عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فریدالدین ؒ کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے حضرت پیرثناء محمد چشتی رحمتہ اللہ بھی دور جدید کے ایک عظیم ولی اللہ گذرے ہیں ان کا مزار پر انوار ضلع فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالاکے قصبہ گڑھ فتح شاہ سے چند کلومیٹر پہلے فرید پور شریف میں واقع ہے فرید پور شریف چند سال قبل تک انتہائی پسماندہ علاقہ آباد ہواجو بعد میں دریائے راوی پر پل قطب شہانہ بننے والے پر اس وقت مصروف ترین روڈ پر ہے جہان دن کو کوئی نہیں گذرتا تھا اب وہاں 24گھنٹے یہاں ٹریفک کی روانی رہتی ہے، اسے کہتے ہیں بزرگوں کا کمال،پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں ماضی میں اولیا ء اللہ نے اللہ کے حکم سے مختلف مقامات پر خانقاہیں قائم کیں،نہ صرف فیوض و برکات کا سلسلہ جاری رہتا ہے بلکہ ہر سال وہاں عرس مبارک کا بھی کیا جاتا ہے،دربا عالیہ حضرت پیر ثنا محمد ؒ پر بھی سالانہ عرس ہوتا ہے مگر انتہائی محدود پیمانے پر وہاں صرف جشن عید میلاد النبی ﷺ ہی سب کچھ ہے،حضرت پیر ثنا ء محمد چشتی ؒ نے اپنی زندگی مبارک میں خود اور تمام مریدین کو یہ تلقین کر رکھی تھی کہ اصل عرس یہ نہیں ہے بلکہ اصل عرس منانے کا مزہ تو جشن عید میلاد النبی ﷺمیں ہے،تب سے لے کر آج تک حضور پیر صاحب کی رحلت کے بعد بھی یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری و ساری ہے،اس دربار عالیہ پر سب سے بڑی تقریب روحانی محافل کی شکل میں ہر سال جشن عید میلاد النبی ﷺ کے نام سے منعقد کی جاتی ہے جس میں نہ صرف پاکستان بلکہ کئی ممالک سے مریدین اور معتقدین شامل ہونا فخر سمجھتے ہیں،سجادہ نشین دربار عالیہ پیر ثناء محمد چشتی ؒ حضرت پیر سید احمد جمال چشتی نے اپنے والد گرامی کی رحلت کے بعد اوائل جوانی میں ہی اس سلسلہ کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس کومزیدوسعت دی،سجادہ نشین پیر سید احمد جمال چشتی اپنی مثال آپ ہیں،باپ کی مانند عشق مصفطیﷺٰ سے لبریز،اخلاص اور اخلاق کے پیکر،انتہائی شفیق اور مہربان،ان کی ہر بات با معنی با مقصد اور راہ اصل سے متعلقہ ہوتی ہے،ان کے ساتھ ملنے،محفل کرنے کا ایک اپنا ہی مزہ ہے،چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ سجائے ان کی گفتگو روایتی پیران سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہے،ان کی ہر ایک کو یہی بنیادی تلقین ہوتی ہے کہ عشق صطفیٰﷺ کو اپنے ہر فعل پر اولیت دیں کیونکہ اسی میں ایمان،اسی میں شفا،اسی میں خدا کی خوشنودی، اسی میں راہ مستقیم،اسی میں عزت اور یہی باعث نجات ہے، روزانہ کی بنیاد پر وہاں عقیدت مندوں کا جم غفیر اور ہر ایک کے لئے لنگر ہمہ وقت جاری و ساری رہتا ہے،حضرت پیر احمد جمال چشتی اپنے والد گرامی کے پیر ثنا محمد چشتی ؒ کے مریدین کو پیر بھائی کہہ کر پکارتے ہیں ایسا کہنے سے ان کی نہ صرف ان کی تکریم میں اضافہ بلکہ ایسے غیر متکبرانہ فعل سے خدا بھی خوش ہوتا ہے،پیر احمد جمال چشتی کے صاحبزادے نور مصطفیٰ چشتی اورحسن فرید چشتی بھی اپنے آباؤ اجداد کی طرح کم عمری میں ہی سیرت و کردار میں بہت دلآویزی رکھتے ہیں،ہر سال کی طرح آج بھی دو روز سالانہ جشن عید میلاد النبی ﷺ کی بابرکت اور پاک محفل کا آغاز ہو گا،اس جشن کا آغاز آج17اکتوبر کو بعد از نماز عشاء محفل نعت سے ہو گاجس میں نقابت کے فرائض صابر علی ساغر چشتی انجام دین گے،تلاوت قرآن مجید کا شرف کرامت علی نعیمی حاصل کریں جبکہ ملک کے ممتاز نعت خواں الحاج محمدشہباز،اظہر امین فریدی،محسن علی بہادر نذرانہ عقیدت پیش کریں گے جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے حضرت مولانا محمد اقبال چشتی شان رسالت پر خصوصی خطاب فرمائیں اسی رات محفل سماع میں مہر عابد علی فریدی و ہمنوا قولی پیش کریں،دوسرے روز18اکتوبراتوار صبع 9بجے سے 1بجے دوپہر تک پہلے محفل نعت جس میں تلاوت پاک قاری نصر حیات معینی،نعت خواں محمد فاران شاہی،محمد اکرم دردی،غلام مرتضیٰ رضوی گلہائے عقیدت،محفل سماع کا سماع خاور نواز باندھیں گے اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے علامہ مفتی محمد جمال الدین بغدادی خصوصی خطاب کریں گے اور جشن کے اختتام پر پیر حضرت سید احمد جمال چشتی دعا فرمائیں گے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے