۔،۔ پیرس کے قریب چاقو کے حملہ کے بعد انسداد دہشت گردی کی تحقیقات۔ نذر حسین۔،۔

شان پاکستان فرانس پیرس۔ پیرس کے شمال مغرب کے مضافاتی علاقہ میں ایک استاد پر مہلک حملے کے بعد پراسیکیوٹر کے انسداد دہشت گردی کے تفتیش کاروں نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا۔ابتدائی اطلاعت کے مطابق مقتول سینٹ ہونورین پر چاقو سے حملہ کیا گیا ابھی تک عین حالات واضع نہیں ہیں کئی خبروں میں سر قلم کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں جس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ حملہ آور کو تھوڑی ہی دیر بعد پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا، عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اس نے جائے وقوعہ کے مقام پر۔اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ شخص تاریخ کا استاد تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے اسکول میں آزادی اظہار رائے کے موضوع پر کلاس میں لیکچر دیتے ہوئے () کے کارٹون دکھائے تھے۔ قومی اسمبلی کے صدر فیرنڈFerrand نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ تاریخ کے اساتذہ کا قتل آزادی اظہار اور جمہوریہ کے اقدار پر حملہ تھا۔ وزیر داخلہ دارمنینDarmanin کا کہنا تھا کہ فوراََ ایک بحران ٹیم تشکیل دی جائے جبکہ صدر میکرون Macron موقعہ واردات پر گئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق چند ہفتے پہلے ہی پیرس میں طنزیہ رسالہ ٭چارلی ہیبڈوCharlie Hebdo٭ کی سابقہ ادارتی عمارت کے سامنے چاقو سے حملہ ہوا تھا۔ ادارتی ٹیم پر جنوری 2015 میں حملہ ہوا تھا جس میں بارہ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے