۔،۔ سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے ( پہلو۔ صابر مغل ) ۔،۔


پاکستان کو اس وقت اندورونی و بیرونی طور پر بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے ہماری فورسزایسے تمام چیلنجز کے ڈٹ کر کھڑی ہے انتہائی بڑی تعداد میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود نہ ان کا عزم متزلزل ہوا اور نہ دنیا کی کوئی طاقت ایسا کر سکے گی،گذشتہ روز دہشت گردوں نے خیبر پی کے اور بلوچستان میں اپنی بزدلانہ کاروائیوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی،پہلا واقعہ شمالی وزیرستان ضلع کی تحصیل رزمک میں برگوم کے سرحدی گاؤں زیر نرائی کے قریب پیش آیا جہاں بیک وقت دو دھماکے ہوئے جن میں پاک فوج کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول دھماکے (IED)سے نشانہ بنایا گیا دھماکہ سے پاک فوج کی گاڑی مکمل طور پر تباہ اور اس حملہ کے نتیجہ میں کیپٹن عمر فاروق سمیت6اہلکار وں نے جام شہادت حاصل کیا،اسی روز دہشت گرد کے دوسرے واقعہ میں OGDCLکے قافلہ کو نشاہ بنایا گیا جو گوادر سے کراچی جا ررہا تھااس حملہ میں کمپنی کے ذاتی سیکیورٹی گارڈز اورفرنٹیر کور کے 14اہلکار شہید ہو گئے،ایک ہی دن میں 20محافظوں کی شہادت پوری قوم کے لئے بہت بڑا صدمہ ہے،دوسرے روز ضلع کیچ کے علاقہ گورکپ کے پہاڑی سلسلہ میں گھات لگائے دہشت گردوں نے معمول پر گشت کرتی ایف سی اہلکاروں کی گاڑی پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجہ لانس نائیک وسیم شہید جبکہ لانس نائیک عمران،قمر،حوالدار عمر اور سپاہی فریدون اور رحمان شدید زخمی ہو گئے، دہشت گردی کا جہاں پہلا واقعہ پیش آیا جو بنوں اور ڈیرہ اسمعیل خان سے سرحدی علاقہ کی جانب سے،رزمک اور ڈیرہ اسمعیل خان کا فاصلہ 191کلومیٹر طویل جو بذریعہ جنڈولہ ہے اسی روڈ کوجندولہ رود بھی کہتے ہیں،رزمک ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل اور انتہائی خوبصورت علاقہ ہے اس خوبصورتی کی بنا پر اسے Mini Londonبھی کہا جاتا ہے، پاک فوج نے یہاں دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں طویل جنگ لڑنے اور جیتنے کے بعدیہاں تعمیر و ترقی کا آغاز کیا اسی شہر میں کیڈٹ کالج کا قیام بھی عمل میں لایا گیا،یہ چھوٹا سا خوبصورت شہر افغان سرحد کے قریب ہونے پر انتہائی حساس ہے، شمالی وزیرستان کی افغانستان کے ساتھ مجموعی طور پر سرحد4707کلومیٹر طویل ہے جہاں یہ دہشت گردی ہوئی وہاں ایک طرف جنوبی وزیرستان کی تحصیل شکتوئی (یہ تحصیل 20کے قریب دیہات پر مشتمل ہے)اور دوسری جانب افغانستان ہے یہاں جنوبی اور شمالی وزیرستان کو ایک ندی آپس میں جدا کرتی ہے جنوبی وزیرستان میں محسود اور شمالی وزیرستان میں داوڑ اور وزیر قبائل آباد ہیں،ISPRکے مطابق اس حملہ میں 24سالہ کیپٹن عمر فاروق،37سالہ نائب صوبیدار ریاض احمد 44سالہ نائب صوبیدار شکیل احمد،36سالہ حوالداریونس علی،32سالہ لانس نائیک عظمت اللہ اور 32سالہ محمد ندیم شامل ہیں،اس المناک واقعہ کی ذمہ داری کالعدم پاکستان تحریک طالبان نے قبول کر لی ہے،کوسٹل ہائی وے 10۔Nکا شمار پاکستان کی خوبصورت ترین شاہراؤں میں ہوتا ہے 653کلومیٹر طویل اس شاہراہ کے ایک جانب سر سبز پہاڑ اور دوسری جانب سمندر کا نیلگوں پانی ہے یہ شاہراہ گوادر کو کراچی سے ملاتی ہے،یہاں گوادر سے او جی ڈی سی ایل کا قافلہ اپنے سات سیکیورٹی گارڈز اور فرنٹیر کور کے دستے کی حفاظت میں کراچی کے لئے نکلا تو گوادر کی تحصیل اوماڑہ کے قریب سر پٹ جو کہ بری ٹاپ سے8کلومیٹر دور ی پر ہے وہاں گھات لگائے دشمن نے بھاری اور چھوٹے ہتھیاروں سے اچانک حملہ کر دیا،جوابی کاروائی میں دشمن کو بھی بھاری جانی نقصان ہوا تاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا،دہشت گردوں نے سب سے پہلے گاڑیوں کے ٹائر برسٹ کئے،اوماڑہ کراچی سے240اور گوادر سے 280 کلومیڑ دور صوبہ بلوچستان میں واقع ہے جہاں ایک چھوٹی سی بندر گاہ،جناح نیول بیس اور دفاعی ضرورت کے لئے ائیر پورٹ بھی قائم ہے،گذشتہ برس اپریل میں اسی علاقہ میں خون کی ہولی کھیلی گئی تب بھی14افراد ہی شہید ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ پر سوار شہداء میں نیوی،فضائیہ اور کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں کے علاوہ سول افراد بھی شامل تھے،حالیہ یہاں ہونے والی دہشت گردی میں صوبیدار عابد علی (لیہ)،نائیک محمد انور(سبی)،لانس نائیک افتخار احمد DGK،لانس نائیک عبدالطیف (پشین)سپاہی نوید احمد (چکوال)،سپاہی محمد وارث (میانوالی)،وارث خان (ٹانک)،سپاہی عمران خان (لکی مروت)،حوالدارریٹائرڈ سمندر خان (لکی مروت)،محمد فواد (لکی مروت)،کوہاٹ کے رہائشی عبدالنافع اور شاکر اللہ اور بنوں کے عابد حسین شامل ہیں،تاہم سیکیورٹی گارڈز ور فرنٹیر کور کے جوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے انہیں ضرور محفوظ رکھا جن کی حفاظت پر وہ مامور تھے،اس حملہ کی ذمہ داری بلوچستان علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوتی سنگر (براس) نے قبول کی ہے براس کا قیام 2018مین تشکیل پایا جس میں بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF)،بلوچ لبریشن آرمی (BLA)،بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA)اور بلوچ ریپبلکن گارڈ(BRG) پر مشتمل ہے اس ملک دشمن اتحاد نے باقاعدہ Logoبنا رکھا گیا جس کے درمیان میں عقاب کا نشان اس پر اردو میں۔براس۔نیچے انگلش مین جبکہ اوپری حصہ پر Unity For Vicitory لکھا ہوا ہے،ملک دشمن یہ اتحاد اب تک پانچ بڑی کاروائیوں کا اعتراف کر چکا ہے ان کی کاروائیوں کا مجموعی طور پر مرکز اقتصادی راہداری کا علاقہ ہے جو ہمارے ازلی دشمن انڈیا سمیت دیگر تمام دشمنوں کے لئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں کیونکہ سی پیک سے پاکستان کی ترقی کی منازل قریب تر ہیں،آئی ایس پی آر نے اس دہشت گردی پر کہا ہے کہ ملک دشمنوں اور بلوچستان میں امن و استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کی ایسی بزدلانہ کاروائیوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گامادر وطن کے دفاع کے لئے ایسی کاروائیاں اور جانوں کا نذرانہ پاک فوج کے عزائم کو متزلزل نہیں کر سکتا،وزیر اعظم عمران خان نے اس دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کے خاندانوں کے ہمدردی اور شہداء کے درجات کی بلندی کی دعا کی،وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئر (ر)اعجاز شاہ نے دہشت گردی کے واقعات ملک دشمن عناصر کا بزدلانہ عمل ہے ان حملوں میں ملوث ناسوروں کو کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائے گا، وزیر اعلیٰ خیبر پخوتنخواہ محمود خان نے کہا فوجی قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ملک و قوم کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا ایک غیر انسانی فعل ہے ملک و قوم کے لئے پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں،بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کوسٹل ہائی وے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع اس بات کی علامت ہے کہ دشمن بلوچستان اور اس کے عوام کو ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان ضیا ء اللہ لانگو نے دہشت گردی کے ان واقعات پر کہاکہ ہمارا دشمن اور ماسٹر مائند ایک ہی ہے یہ سب دہشت گردانڈیا سے آرگنائزڈ ہو کر آتے ہیں اور ان سب دہشت گرد ہماری فورسز سے بچ نہیں پائیں گے جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی شدید مذمت کی،کوسٹل ہائی وے پر شہید ہونے والے ایف سی اہلکارون اور سیکیورٹی گارڈز کی اجتماعی نمازہ جنازہ آواران ملیشیاء کیمپب حب میں ادا کرنے پر تمام میتیں ان کے آبائی علاقوں مین روانہ کی گئیں،رواں سال 8مئی کو ضلع کیچ کے علاقے بلیدی میں دہشت گردی کے ذریعے میجر سمیت 6سپوت،19مئی کو کچھی اور کیچ میں فورسز پر حملوں میں 7سپوت اور 14جولائی کو ضلع پنجگور میں فورسز کے 3سپوت ماں دھرتی پر جان نچھاور کر گئے جبکہ ان حملوں ایک افسر سمیت 12اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے،ملک دشمنوں نے چند دن پہلے ملک میں فرقہ ورانہ فسادات پھیلانے کے لئے شاہ فیصل کالونی کراچی میں جامعہ فارقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان کو ان کے ڈرائیور سمیت شہید کر دیا،پاکستان مین ایک طرف بیرونی دشمن حملہ آور ہے دوسری جانب ہوس اقتدار میں وطن کے محافظوں کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے،ذرہ تصور کریں پاکستان کا وہ کو ن سا ادارہ ہے جہاں لوٹ مار کا بازار گرم نہیں جن سے تعلق رکھنے والوں یا ان کے صاحبان اقتدار کے بیرونی روابط نہیں اگر یہ ایک ادارہ بھی خدا نخواستہ کسی لالچ میں آ جائے تو پھر ہو گا کیا ویسے تو ہم نے کسی ادارے کا سوا ستیا ناس نہیں اس کے بجٹ پر،اس کی پالیسیوں پر ہمیں بہت اعتراض ہیں اور کہا جاتا ہے ہم لوہے کے چنے ہیں ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے،حیرت ہے۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے