۔،۔جرمن چانسلر انجیلا میرکل۔اس بات کو یقینی بنائیں کہ وائرس بے قابو ہو کر پھیل نہ جائے۔نذر حسین۔،۔

شان پاکستان جرمنی برلن۔ جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کورونا وائرس عالمی وبائی مرض کے پھیلاوُ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خطاب میں فرمایا۔ہماری گرمیاں آرام و سکون سے گزر گئیں اب ہم جانتے ہیں اسی ہفتہ سے حال ہی میں اب کوویڈ وبائی مرض کے انتہائی سنگین مرحلے میں ہیں، نئے انفیکشن کی تعداد ہر دن حد سے بڑھتی جا رہی ہے وبائی مرض ایک بار پھر تیزی سے خطرناک حد تک پھیلنا شروع ہو گی ہے جس کی ابتداء پچھلے چھ مہینے سے زیادہ ہے آنے والے مہینے ہمارے لئے مشکلات میں اضافہ کریں گے، ہمیں سوچنا چاہیئے موسر سرما کیسے رہے گا، ہماری کرسمس کیسی رہے گی ہر شخض کو اس بات کی ذمہ داری اُٹھانی پڑے گی۔ہمیں اب اس بات کویقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا چاہیئے کہ وائرس بے قابو نہ ہو جائے ہر دن اب گنتی کا دن ہے انفیکشن کا سلسلہ توڑنے کے لئے ہر متاثرہ فرد کو خود مطلع کرنا چاہیئے اگر کسی شہری کو معلوم ہو اس کو رابطہ کر کے بتانا چاہیئے محکمہ صحت اپنی پوری کوششیں کر رہا ہے لیکن انفرادی طور پر آپ بھی اپنا حصّہ ڈالیں جہاں متاثرہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے وہ اب مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ہم میں سے ہر شخص وائرس پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جبکہ وہ مستقل طور پر کم سے کم فاصلہ برقرار رکھے، منہ اور ناک کی حفاظت کرے اور حفظان صحت کے اصولوں پر چلے، ہمیں اب مزید آگے بڑھنا ہو گا سائنس ہمیں واضع طور پر بتاتی ہے کہ وائرس کا پھیلاو براہ راست انحصار اور انکاونٹرس کی تعداد پر منحصر ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو ہے۔اگر اب ہم میں سے ہر ایک اپنے خاندان سے باہر ہمارے میل ملاپ کو تھوڑی دیر کے لئے نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے تو زیادہ سے زیادہ انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے،وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔آج آپ سے میری یہی اپیل ہے باہر یا گھر میں بہت کم لوگوں سے ملیں،کسی بھی ایسے سفر سے گریز کریں جو واقعی ضروری نہیں،کوئی بھی تقریب ہو جو ضروری نہیں اس سے اجتناب کریں اگر ممکن ہو تو زیادہ تر اپنی رہائش گاہ پر رہیں، مجھے معلوم ہے کہ یہ سخت فیصلہ یا کام ہے لیکن یہ کام ہم نے عارضی طور پر کرنا ہے اور یاد رہے یہ ہم حتمی طور پر اپنے لئے کر رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی صحت اور ان سب لوگوں کی صحت جن کو بیماری سے بچایا جا سکتا ہے اس بات کو ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ ہمارا صحت کا نظام مغلوب نہ ہو،ہمارے بچوں کے اسکول اور ڈے کیئر کھلے رہیں ہماری معیشت اور اپنی ملازمتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں یہ قدم اٹھانا ہو گا۔ اس وبائی بیماری کے پہلے چھ مہینوں میں نسبتاََ کیا سیکھا۔ہم ایک ساتھ کھڑے ہوئے ہر ممکن قواعد و ضوابط پر عمل کیا غور و فکر اور عقل سے کام لیتے ہوئے ہم نے وبائی مرض کے خلاف سب سے موثر علاج کیا اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ اس موضی عالمی وباء کا مقابلہ عوام کے تعاون کے بغیر مشکل ہے،یہ بہت ضروری ہے کہ اپنی فیملی ممبر کے علاوہ دوسرے لوگوں سے کم ملیں اگر ہو سکے تو اجتناب کریں۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے