۔،۔ دفاع اورعہدوفا۔محمد ناصر اقبال خان۔،۔


اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل سے مادروطن پاکستان جغرافیائی اورنظریاتی اعتبار سے دنیا میں منفرداور ممتاز حیثیت رکھتا ہے اوراِن شاء اللہ آنیوالے دنوں میں اس کی سیاسی،تجارتی،سفارتی اوردفاعی اہمیت مزید بڑھ جائے گی لیکن ہمارے ملک اورمقدرمیں یہ مثبت تبدیلی یقینا تبدیلی سرکار کے بعد آئے گی۔اسلامیت،روحانیت اورانسانیت کی طرح” پاکستانیت “بھی” لاثانی” اور”لافانی” ہے۔دنیاکی کوئی طاقت پاکستان سے اس کاروشن مستقبل نہیں چھین سکتی۔کسی ریاست کیلئے “قرض” سے بڑا کوئی” مرض” نہیں،وہ دن دورنہیں جب مقروض پاکستان کوبیرونی قرض اورنااہل سیاسی قیادت سے نجات مل جائے گی اوریہ ایٹمی طاقت کی طرح معاشی طاقت بنے گا۔اگرماضی میں ناقص مالیاتی اور تعمیراتی ترجیحات بلکہ آئی ایم ایف اورورلڈ بنک سے” سودخور” اداروں اور”سورخور”ماہرمعاشیات کی ڈکٹیشن پر ایک منظم سازش کے تحت پاکستان کو مسلسل مقروض نہ کیا جاتا توآج یہ معاشی طورپر مفلوج نہ ہوتا،اس کے باوجود میں وثوق سے کہتاہوں ہمارا ملک ٹیک آف اور ثالثی کرتے ہوئے دنیا کے اہم فیصلے کرے گا۔پاک فوج کی کمٹمنٹ کے طفیل سی پیک کا پایہ تکمیل تک پہنچنا نوشتہ دیوار ہے،بھارت کا سی پیک سے حسد اسے خس وخاشاک کردے گا۔ مودی جو وسائل مفلس بھارتی عوام کی خوشحالی پرصرف کرسکتا تھا انہیں سی پیک کی نابودی کیلئے جھونک دیاگیا لیکن بھارت کا فسادی مودی اوراس کے اتحادی” زر”اور”زور” سے ” سی پیک” کو”پیک اپ” نہیں کرسکتے۔ سی پیک کی تعمیر اورتکمیل کاخواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بعد بھی دنیا میں پاکستان کے اثرورسوخ بارے میں جو”نادان” انتہائی بدگمان اورمادروطن کے مستقبل سے مایوس یاناامیدہیں ان میں سے کوئی بھی اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔سی پیک کی تکمیل سے پاکستان کی کایا پلٹ جائے گی۔دنیا کے بیسیوں مقتدر ملکوں کاپاکستان اورافواج پاکستان کیخلاف گٹھ جوڑ کوئی راز نہیں رہا لیکن بدقسمتی سے ہمارے کچھ اپنے کوتاہ اندیش ہمارے دفاعی اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت وطاقت کوانڈراسٹیمیٹ اوران پرمنافقانہ حملے کرتے ہیں۔ان گمراہ عناصر کوجواب دینا پاک فوج کے شایان شان نہیں،ورلڈ کالمسٹ کلب کے کالم نگار اورتجزیہ کارہیں ناں۔ پاکستان اورپاک فوج کے بیرونی دشمن تواپنی فطرت سے مجبور ہیں لیکن ہمارے کچھ اپنوں کا پاک فوج سے عداوت رکھنا ناقابل فہم ہے۔میراایمان ہے پاک فوج کا بدخواہ پاکستان کا محب نہیں ہوسکتا۔بدعنوان سیاسی قیادت کے بوجھ تلے دباہمارا ملک ابھی معاشی “خودانحصاری” کے مقام پرنہیں پہنچا لیکن ہم نے بحیثیت قوم تہتر برسوں میں اپنی “خودمختاری” اور” خودداری” پر آنچ نہیں آنے دی کیونکہ حضرت محمداقبال ؒ نے اہل اِسلام کو”خودی” کادرس دیاتھااوربیشک خودی میں بلندی کارازپنہاں ہے۔حضرت محمداقبال ؒ نے اپنے بیش قیمت اشعار کی وساطت سے جس باوقار، شانداراورخوددار” شاہین “کاتصور دیا پاک فوج کے فرض شناس اورسرفروش جوان اس کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ ہمارے اپنے” تنخواہ” پانے نہیں بلکہ مادروطن کے ساتھ” وفا”نبھانے کیلئے پاک فوج،رینجرز اورپولیس سمیت دوسری سکیورٹی فورسز سے وابستہ ہوتے ہیں۔انہیں شہادت کاشوق اوراشتیاق پاک فوج،رینجرز،پولیس اوردوسری سکیورٹی فورسز کی طرف کھینچتا ہے۔صرف صادق جذبوں والے جوان مادروطن پرجان نچھاورکرتے ہیں،جس کی نیت میں ” کھوٹ” ہووہ پاک فوج،رینجرز اورپولیس کے اداروں کو”سوٹ “نہیں کرتاکیونکہ شجاعت اورشہادت کانیت کے ساتھ بہت گہراتعلق ہے۔جومادروطن کا”دفاع” کرتے اور”عہدوفا”نبھاتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں،تاریخ اپنے مقدس اوراق میں ان کرداروں اورجانبازوں کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ جومٹھی بھر لوگ اپنے نجی مفادات کوخطرے میں دیکھتے ہوئے پاک فوج کامیڈیاٹرائل اوردوسروں کوگمراہ کرتے ہیں وہ جواب دیں سیاسی قیادت کی بدنامی اورنام نہاد جمہوریت کی ناکامی میں کس کاہاتھ ہے۔ سیاستدانوں میں سے فوجی آمروں کا ہراول دستہ کون لوگ تھے۔اگرپاکستان میں چارفوجی آمر اقتدارمیں آئے توعوام نے سول آمروں کو بھی باربارآزمایا ہے،تبدیلی سرکار کاحشر بھی عوام دیکھ رہے ہیں،”ووٹ بنک” کادعویٰ کرنیوالے ہماری قومی معیشت میں نقب لگاتے اور بیرون ملک “بنک “بھرتے رہے۔ہاں ووٹ سے چند چہرے ضروربدلے لیکن عام آدمی کی حالت زارنہیں بدلی۔آج جوسیاستدان کپتان کے ٹیم ممبرز ہیں وہ ماضی میں بینظیر بھٹو، نوازشریف،پرویزمشرف اور آصف زرداری کے معتمدخاص رہے۔سیاسی قیادت کی نااہلی اورناکامی کوریاست کی ناکامی کہنا درست نہیں۔اسٹیل ملز،پی آئی اے اورپولیس سمیت متعدد اداروں کی بربادی کے ڈانڈے بھی سیاسی قیادت سے جاملتے ہیں لیکن الحمدللہ پاک فوج سیاستدانوں کی مداخلت اورمنافقت سے پوری طرح “پاک” ہے۔پاک فوج نے وقت کے ساتھ ساتھ خود کو مزید منظم اور جدیدتقاضوں وہتھیاروں سے آراستہ کیا۔یہ1965ء نہیں 2021ء ہے،اب روایتی جنگ کادورنہیں رہا۔ پاک فوج کی ہردفاعی شعبہ میں جدت، پیشہ ورانہ مہارت اورطاقت کاکریڈٹ اس کی بیدار اوردوراندیش فوجی قیادت کوجاتا ہے۔افواج پاکستان کے شیردل سپہ سالار جنرل “قمر”جاویدباجوہ کوجس روز پاک فوج کی کمانڈ ملی انہوں نے اسی دن مادروطن کے بیسیوں دشمنوں کاناطقہ بندکرنے کیلئے”کمر” کس لی تھی۔جنرل قمرجاویدباجوہ پاک فوج کی قیادت کاحق اداکرنے میں کامیاب رہے۔پاک فوج بیرونی جارحیت کی صورت میں مادروطن کے بھرپوردفاع کیلئے پوری طرح مستعد ہے۔پاکستان اپنے کسی ہمسایہ ملک کیلئے جارحانہ عزائم نہیں رکھتا لیکن پاکستان متعدد ملکوں کی آنکھوں میں کھٹکتا اورچبھتا ہے اسلئے ان دشمنوں کی ممکنہ جارحیت کیخلاف کامیابی سے مزاحمت اور ملکی سا لمیت کی حفاظت کیلئے پاک فوج کوہر ناگزیر قدم اٹھاناپڑتا ہے۔آج محض بندوق اوربارود سے دشمن کوڈھیر نہیں کیا جاسکتاکیونکہ یہ ایٹمی اورمیزائل ٹیکنالوجی کادورہے۔ آپ کو پاک فوج کی سرپرستی میں مختلف میزائل کے کامیاب تجربات کی جو اطلاعات سننے کوملتی ہیں ان کی تیاری پر خطیرسرمایہ صرف ہوتا ہے۔جس طرح چینی دوستی پاکستان کی خوش قسمتی اس طرح بھارتی دشمنی مادروطن کی بدقسمتی ہے،دشمنی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں لیکن بھارت کی بزدلی اوربے اصولی سے بھرپوردشمنی کامقابلہ کرنے کیلئے پاک فوج کے جوان تہتربرسوں سے حالت جنگ میں ہیں اوریہ جنگ بیک وقت کئی محاذوں پرکامیابی سے جاری ہے،ان میں سے کچھ نادیدہ محاذوں پرسربکف آئی ایس آئی کے گمنام شہداء اوروہاں استعمال ہونیوالے فنڈزکے اعدادوشمار منظرعام پرنہیں آتے۔ پاک فوج کے جرنیل سے جوان تک ہمارے سرفروش محافظ اپنے عزم واستقلال سے قوم کی ایک ایک پائی حلا ل کرتے ہیں،ایساکوئی سیاستدان ہے جو بارڈر پردشمن کی بندوق کا سامنا کرے۔پاک فضائیہ کے شاہینوں نے 27فروری 2019ء کوجس طرح بھارت سمیت اپنے منافق دشمنوں کوسرپرائزدیا اسے فراموش نہیں کیاجاسکتا۔پاک فوج نے ہردورمیں اپنے بجٹ اورحجم سے بہت زیادہ ڈیلیورکیا ہے۔دفاعی اداروں پرانگلی اٹھانیوالے منفی کرداروں کی بدزبانی اور بدعنوانی سے ہرکوئی آگاہ ہے۔ سرمایہ دارسیاستدانوں کی “پھرتیوں ” اورسیاسی “بھرتیوں “کے بوجھ سے جہاں پی آئی اے “گراؤنڈ” ہوگیا وہاں پاک فوج کادم غنیمت اوراس کی بلندپروازہمارا بیش قیمت اعزاز ہے۔ پاکستان اپنے ہمسایوں سمیت دنیا بھرمیں ہرملک کے ساتھ برابری کی بنیادپرتعلقات کا حامی اورخواہاں ہے۔ بھارت کوبار بار مذاکرات کی دعوت دی گئی، دشمن ملک پیس ڈائیلاگ شروع کرنے کے بعدبار بارراہِ فراراختیار بلکہ الٹا جموں وکشمیرمیں بدترین ظلم وستم کابازارگرم کرتارہا۔پاک فوج کی بدولت ہمارا وطن ماضی میں کسی دنیاوی طاقت سے مرعوب ہوا نہ آئندہ کسی کی تھانیداری یااجارہ داری قبول کرے گا۔پاکستان کیخلاف صرف بھارت نہیں بلکہ متعددملک سازشوں کے جال بچھا رہے ہیں اور جس طرح ہرشرسے کوئی نہ کوئی خیرضروربرآمدہوتی ہے اس طرح ان ملکوں کی بیجا دشمنی نے جہاں ہماری ریاست کوایٹمی طاقت بنایاوہاں پاک فوج کودنیا کی بہترین افواج کی صف میں کھڑا کردیا۔ مادروطن نے اپنے قیام سے استحکام کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے قدم قدم پر چیلنجز کاسامناکیا ہے اوراس میں پاک فوج کے کلیدی کردارسے انکار نہیں کیا جاسکتا۔پاک فوج کے ناپاک دشمن اپنے مذموم ارادوں میں ہرگزکامیاب نہیں ہوں گے۔پاکستان اورافواج پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت ہماری فطرت بلکہ ہماری رگ رگ میں خون بن کردوڑتی ہے۔نشان حیدر کے مستحق قرارپانیوالے شہداء کی شجاعت اورشہادت کے روح پرورواقعات ہمارے تعلیمی نصاب کاروشن باب ہیں۔ جب ہم بچے تھے توان دنوں پاک فوج کے کسی بھی آفیسر،جوان یاکارواں کودیکھتے تو بے اختیارہماراہاتھ سلیوٹ کیلئے اٹھ جایا کرتا تھا،اب بھی پاک فوج کے کسی وردی پوش جانباز کو دیکھیں توہماراجوش قابل دید ہوتا ہے۔ جو مخصوص بلکہ منحوس طبقہ پاک فوج کوایک بوجھ سمجھتا ہے وہ دشمن کی جارحیت کیخلاف اس ادارے کی مزاحمت سمیت زمینی وآسمانی آفات کے دوران ہمارے جانبازوں کی گرانقدراورانتھک خدمات کیوں بھول جاتا ہے۔سومنات کے مندرمیں بت پاش پاش کرنیوالے سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے فرمایا تھا،”اگر کسی قوم کواس کی بنیادوں سے اْکھاڑ پھینکنا ہو تواْس کے اور فوج میں نفرت اورنفاق کی دیوار تعمیر کردو وہ قوم خودبخود تباہ وبرباد ہو جائے گی۔جوبھی پاک فوج کیخلاف زہراگلتا ہے،نوجوانوں کواس کا”پھن “کچلناہوگا۔جس طرح پاک فوج کے جرنیل اورجوان سردھڑ کی بازی لگاتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں پردشمن کے جارحانہ حملے ناکام بناتے ہیں ا س طرح ہمارے محب وطن نوجوان بھی سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کیخلاف اندرونی وبیرونی منافقانہ جارحیت کیخلاف منظم مزاحمت کرتے ہوئے پاکستانیت کاپرچم اور اپنے محافظوں کامورال بلندرکھیں گے۔میں پھرکہتاہوں بلکہ کہتارہوں گا،”ہماری موج ہماری فوج سے ہے”۔

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے