-,-میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع-,-

میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوگئی ہے۔ لوگوں نے فوج کی ملکیت بینکوں سے پیسے نکلوانا شروع کر دیے ہیں۔ ینگون میں گزشتہ روز فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لوگ ملٹری بینک کے باہر جمع ہوئے اور اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانا شروع کر دیے۔ اس بھیڑ کو دیکھ کر بینک انتظامیہ نے رقم نکوالنے کی حد کم سے کم کر دی، جس پر بینک کے باہر لوگوں نے احتجاج کیا۔مظاہرین نے کہا کہ حکام نے زبردستی ان کی رقم بینک میں روک رکھی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے میانمار کی فوج کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جمہوریت کے حق اور فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف کوئی بھی سخت کارروائی کرنے سے باز رہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے سخت نتائج برآمد ہوں گے۔ واضح رہے کہ پیر کے روز میانمار نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کے مرکز ینگون کی سڑکوں پر ٹینک تعینات کر دیے تھے۔ ادھر سنگاپورنے کہا ہے کہ میانمار کی صورتحال خطرناک ہے، لیکن فی الحال پابندیوں کی ضرورت نہیں-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے