-,-ملالہ پرانی روایت توڑکرجیون ساتھی کا انتخاب خود کرے،ضیاالدین یوسف زئی-,-

نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے والد نے اپنی بیٹی سے صدیوں پرانی روایت کو توڑنے اور اپنے ساتھی کا انتخاب خود کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا تھاکہ ʼوہ مجھ سے بہتر جج ہوں گی۔ ضیاالدین یوسفزئی،جوکہ اپنی بیٹی کی تعلیم سے پیار کی تحریک سے متاثر ہیں، کہا کہ مجھے فخر ہے کہ اس نے پاکستانی کمیونٹی کی رکاوٹوں کو چیلنج کیا جس میں یہ خاندان بڑھا تھا۔ ملالہ، جو 15 سال کی عمر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے مہم چلانے کے دوران طالبان کے ایک بندوق بردار کی گولی سر میں لگنے کے بعد زندہ بچ گئی تھی، خواتین حقوق کے لئے ایک عالمی علامت بن گئی ہے۔میل آن لائن کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے، 51 سالہ مسٹر یوسف زئی نے کہا کہ ان کی بیٹی، جو اب 23 سال کی ہیں، مکمل طور پر آزاد ہیں اور انہیں اپنی زندگی کے فیصلے خودکرنیچاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں، جب کوئی لڑکی 23 سال کی ہو جاتی ہے، تو عام طور پر اس کی شادی ہوجاتی ہے اور اس معاملے میں اس کی رائے بہت کم لی جاتی ہے۔میرے نزدیک قبیلے یا ذات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ زندگی اس نے (ملالہ) گزارنی ہے۔ میں اس قسم کا باپ ہوں جو اپنے بچوں کی تعلیم اور آزادی پر یقین رکھتا ہے۔ اسے اپنا ساتھی منتخب کرنے کا حق ہے یا کسی کو بھی نہیں،-

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے