۔،۔ پی ایس ایل6 کے شاندار میلے کا وقت آن پہنچا۔ ( پہلو۔صابر مغل ) ۔،۔


پاکستان سپر لیگ کے6ویں سیزن کے شاندار آغاز اور چوکوں چھکوں کی برسات کا وقت آن پہنچا،ایکشن کے منظر شائقین کرکٹ کے انتظار کی گھڑیاں ختم آج دوست ملک ترکی اور پاکستان کے شہر کوئٹہ کے علاقہ میں ریکارڈنگ شدہ افتتاحی تقریب سے روشنیوں کے شہر کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں یہ میلہ شروع ہو جائے گا تمام ٹیموں کے کپتان بلند عزائم کے ساتھ برتری کی جنگ میں حصہ لیتے ہوئے چمچماتی ٹرافی حاصل کرنے کا سنہری سہنانا خواب سجا رکھا ہے،افتتاحی تقریب 6.45پر ہو گی جس میں ریکارڈنگ نشر کیا جائے گا،بعد میں رات 8بجے دفاعی چیمپئین کراچی کنگز اور 2019کی فاتح کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان سنسی خیز مقابلے سے پاکستان کے اس تاریخی میگا ایونٹ کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا،لیگز میچز میں آخری میچ روایتی حریفوں ملتان سلطان اور لاہور قلند رکے مابین کھیلا جائے گا،21کو لاہور قلندر اور پشاور زلمی،22کو اسلام آباد یونائٹیڈ اور ملتان سلطان کے درمیان پہلے میچ کھیلے جائیں گے،جنوبی افریقہ کے دورہ پاکستان اورتاریخی جیت کے بعدپی ایس ایل کا ہنگامہ جس کا نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ دنیا بھر میں شائقین کرکٹ کو شدت سے رہتا ہے انتہائی بے تاب اور لمحہ لمحہ بے صبری سے محو انتظار ہے،پاکستان سپر لیگ اپنی مثال ہے جس کے باعث نہ صرف پاکستان کو یہ بآور کرانے میں کامیاب ہوا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کچل دیا اور اب یہاں کسی کو کوئی خطرہ نہیں یہاں امن کا دور دورہ ہے عالمی سطع پر محض پروپیگنڈہ کی فضا پاکستان مخالف قوتوں نے قائم کر رکھی ہے، انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی ہوئی،کئی نئے اسٹارز قومی ٹیم کو ملے،نئے ٹیلنٹ کو موقع ملا،شائقین کرکٹ کی امنگیں بر آئیں اس کے علاوہ پی ایس ایل نے محدود ترین وقت میں دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھا دی،کئی پرانی کرکٹ لیگز گذشتہ کئی سال سے جاری ہے مگر جو پذیرائی پی ایس ایل کو ملی وہ انتہائی قابل فخر بات ہے،پی ایس ایل کا یہ میگا ایونٹ اب چھٹے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار کراچی،لاہور،ملتان،راولپنڈی کے علاوہ فیصل آباد، پشاور،کوئٹہ اور حیدر آباد میں بھی منعقد کرانے کا پروگرام تھامگرکورونا وائرس کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا،تاہم مستقبل میں کرکٹ کا یہ بہت بڑا میلہ اور ہنگامہ پاکستان کے کئی دوسرے شہروں تک ضرور پھیل جائے گا،اس یہ میلہ کراچی اور لاہور تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جس کا پہلا مرحلہ کراچی میں اور فائنل تک دوسرا مرحلہ قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا،ایونٹ کے دن کو ہونے والے میچزدو بجے اور جمعہ کے روز تین بجے شروع ہوا کریں گے جبکہ رات کے میچ اسی طرح سات بجے اور جمعہ کو رات 8بجے شروع ہوا کریں گے،پاکستان میں کرکٹ کے اس سب سے بڑے میلے میں اسلام آباد یونائٹیڈ کپتان شاداب خان کی قیادت میں ایلکس ہیلزس،فہیم اشرف،حسین طلعت،آصف علی،موسیٰ خان،ظفر گوہر،حسن علی،لیوس گریگوری،فل سالٹ،روحیل نذیر،افتخار احمد،رسی ینالی،محمد وسیم،احمد سیفی عبداللہ اور عاکف جاوید،کراچی کنگز عماد وسیم کی قیادت میں بابراعظم،محمد عامر،کولن انگرام،عامر یامین،شرجیل خان،وقاص مقصود،ارشد اقبال،محمد نبی،ڈین کرسچن،چیڈوک والٹن،کلارک،دانش عزیز،محمد الیاس،ذیشان ملک،قاسم اکرم، نور احمداور عباس آفریدی،لاہور قلندرسہیل اختر کی کپتانی میں محمد حفیظ،شاہین شاہ آ فریدی،فخر زمان،ڈیوڈ وئیس،حارث رؤف،بین ڈونک،دلبر حسین،ارشد خان،سمت پٹیل،ٹام ایپل،ذیشان،آغا سلمان،محمد فیضان،معاذ خان،جوڈینلی اور احمد دانیال،ملتان سلطان کے کپتا ن،محمد رضوان،شان مسعود،شاہد آ فریدی،ریلی روسو،سہیل تنویر،عمران طاہر،خوشدل خان،جیمز ولسن،عثمان قادر،کرس لین،سہیل خان،محمد رضوان،صہیب مقصود،ایم لیتھ،محمد عمر،محمد عرفان اور کارلوس بریتھویٹ،پشاور زلمی وہاب ریاض کی قیادت میں شعیب ملک،کامران اکمل،،حیدر علی،ڈیوڈ ملر،مجیب الرحمان،ریئر فور،عماد بٹ،عمید آصف،ثاقب محمود،امام الحق،محمد عمران،محمد عرفان،ابرار احمد،محمد عارف خان اورسروی بوپارا،جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرزقومی ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کی قیادت میں بین کٹنگ،محمد حسنین،محمد نواز،اعظم خان،نسیم شاہ،زاہد محمود،انور علی،کرس گیل،ٹوم بائنٹس،عثمان شنواری،کیمرونڈیلپورٹ،قیس احمد،عبدالناصر،صائم یوسف،عریش علی خان،ڈیل اسٹین اور عثمان خان پر مشتل اسکوادذ کے ساتھ کرکٹ کی اس جنگ کو جیتنے کے لئے میدان میں اتریں گے،ٹیموں نے متبادل کے طور پر فاف ڈیوپلیسی،فواد احمد،پال اسٹرنگ،علی خان(امریکا) اور ٹام کوہلر کو شامل کیا ہے،لیگ میچزمیں ہر ٹیم 10۔ 10میچز کھیلے گی،غیر ملکی اسٹارز چند دن قبل تک پہنچ چکے تھے تاہم سب سے پہلے پہنچنے والے غیر ملکی کھلاڑی میں چیڈوک والٹن رہے،اس بار کے ہوم  گراؤنڈزان ٹیموں کو حاصل ہوئے ہیں جنہوں نے حیران کن طور پر گذشتہ سیزن میں فائنل میں جگہ بنائی حالانکہ دیکھا جائے تو ماضی میں انہی دونوں ٹیموں کی اس ایونٹ میں سب سے زیادہ کاکردگی مایوس کن رہی، جیسے پی ایس ایل پاکستان داخل ہوئی ان دوٹیموں نے عروج پکڑ لیا،کراچی کنگز نے چار سیزن میں بہت مایوس کیااور صرف پلے آف تک محدود رہی،اس کی شروعات لاہور قلندر کے بعد سب سے مایوس کن رہی کراچی کنگزنے 2017میں سے 2019تک 33میچز کھیل کر ہر سیزن میں 5۔5میچ جیتے،اور گذشتہ سال12میں سے صرف4 میچ جیت کر ٹائٹل لے اڑی،اس نوعیت کا کوئی بھی اپ سیٹ اس بار بھی ممکن ہے دفاعی چیمپئین اس بار بھی زیادہ تر سابق کھلاڑیوں پر ہی مشتمل ہے،وسیم اکرم بطور باؤلنگ کوچ ہمیشہ کی طرح ساتھ جبکہ جنوبی افریقہ کے سابق بلے بازہرشل گبزکو ہیڈ کوچ رکھا گیا ہے،گذشتہ سیزن کے فائنل میں مین آف دی میچ اور مین آف دی ٹورنامنٹ بابر اعظم جو اس وقت بطور کپتان جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کو بھی ذلت آمیز مات دے چکے ہیں کراچی کنگز کا سرمایہ ہے جن کی سابق مسلسل پانچ اننگز میں چار بار ففٹی اور ایک سینچری سکور شامل ہے،اسلام آباد یونائٹیڈ کی ٹیم جو پی ایس ایل کی کامیاب ترین ٹیم سمجھا جاتا ہے اس نے مصباالحق کی جگہ اس بار جنوبی افریقہ کے جوہان بوتھا کوہیڈ کوچ مقرر کیا ہے اس ٹیم کے پہلے چار سیزن میں ڈین جونز جبکہ پانچویں میں مصباالحق ہیڈ کوچ رہے،ڈین جونز،وسیم اکرم اور مصباالحق کے کمبیشنیشن سے اسلام آباد نے دو بار ٹائٹل جیتاجس کی اصل وجہ اس نے ہر اہم میچ میں خود کو وننگ ٹیم ثابت کیا،دوسرے سیزن میں کراچی کنگز نے اسے126کے مقابلہ میں صرف82رنز تک محدود رکھنے کے بعد فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا تھاجبکہ اگلے سیزن میں اس نے آخری لیگ میچ میں شکست کے باوجودبہترین کھیل کر فہیم اشرف کی بدولت فائنل میں فتح حاصل کی،مصباالحق کے بعد یونائٹیڈ کی کپتانی محمد سمیع کو ملی اب یہ قیادت شاداب خان کے پاس ہے،شاداب خان بیٹنگ باؤلنگ اور فیلڈنگ کے بہترین کھلاڑی ہیں اسلام آباد کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں،انڈر19کے سابق کپتان روحیل نذیراور حسن علی کا بھی ساتھ انہیں حاصل ہے،یہ ٹیم کولن منرو سے محروم ہو گئی،لاہور قلندرواحد ٹیم ہے جو سارا سال متحرک رہتی ہے،اس کے باوجود پہلے چار سیزن میں آخری پوزیشن پر رہی،2020میں پہلے بار ناک آؤٹ مرحلے میں فائنل تک رسائی مگر خلاف توقع شکست اس کا مقدر بنی،لاہور قلندر اور کراچی کنگز پی ایس ایل کی مہنگی ترین ٹیمیں ہیں،لاہور قلندر کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید شروع سے ان کے ساتھ ہیں قلندر نے پانچ کپتان بدلے مگر عاقب جاوید وہیں رہے،البتہ اس سال لاہور قلندر نے کپتان بدلنے کی ریت کو توڑتے ہوئے سہیل اختر کو ہی دوسری بار قیادت سونپی ہے ان سے قبل اظہر علی،کرس گیل،برینڈن میک کولم اور محمد حفیظ کپتان رہے،لاہور قلندر نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جیسی ٹیم کو98پر آؤٹ کیا اورکراچی کنگز،ملتان سلطان اور پشاور زلمی کے خلاف180 رنز سے زائد ہدف کو عبور کیا،پچھلے سیزن میں زیادہ رنز بنانے والوں میں سے چار اور زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والوں میں سے 3کا تعلق لاہور قلندر سے تھا،ملتان سلطان نے پہلے سیزن میں ہی خود کو منوا لیا،ان کے ہوم گراؤنڈ پر ہونے والے میچز اور ان کی جیت نہ قابل فراموش ہے،اس بارمحمد رضوان جو جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ اور T20میں مین آف دی سیریز رہے، شان مسعود،بوم بوم شاہد آفریدی،کارلوس بریتھ،سہیل تنویر، شعیب ملک اور عمران طاہر جیسے کھلاڑی کسی وقت بھی میچ کا پانسہ بدل سکتے ہیں اب نیا کپتان اور نئی امیدیں وابستہ ہو چکی ہیں محمد رضوان کراچی کنگز میں رہے مگر انہیں ایک میچ تک نہ کھیلایا گیاآج وہی رضوان بطور کپتان حریف کراچی کنگز کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،پشاور زلمی ڈیرن سیمی کی قیادت میں بام عروج پر رہی ٹائیٹل بھی اپنے نام کیا،ڈیرن کی پاکستان سے محبت سب سے بڑھ کر ہے انہیں پاکستانی شہریت اورسب سے بڑا سول اعزازنشان پاکستان دیا گیا،اس بار وہ بطور ہیڈ کوچ اسی ٹیم کو جوائن کر چکے ہیں پشاور زلمی کے پاکستان میں بہت فین ہیں،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ماضی میں قسمت کے دھنی سرفراز احمد کی قیادت میں اس میلے کا حصہ ہے،وہ ایک متوازن ٹیم ہے گذشتہ سیزن کے علاوہ اس کی کارکردگی مثالی رہی اس نے پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے زیادہ میچوں میں کامیابی حاصل کی کپتان سرفراز احمد نے کہا وہ وکٹ کیپنگ خود کریں گے اور کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لئے انتہائی پر عزم ہیں،ان کے باؤلر محمد نواز کو وکٹوں کی ففٹی کے لئے صرف ایک وکٹ کی ضرورت ہے، زیادہ رنز بنانے والے شین واٹسن پہلی بار پی ایس ایل کا حصہ نہیں، اس بار ٹیم سے بہت اچھی توقع کی امید ہے جس سے گذشتہ سال کی ناقص کارکردگی دھل جائے،نیشنل سٹیڈیم کی سیکیورٹی اتوار سے ہی سیکیورٹی اداروں نے سنبھال لی تھی سخت سیکیورٹی میں تما م حفاظتی اقدامات کئے جا چکے ہیں،18پچیں تیار ہیں ایک میں تو سنگ مر مر بھی لگایا گیا ہے،آتشبازی منسوخِ،کراچی سٹیڈیم میں مجموعی طور پرہر میچ میں 7500اور قذافی سٹیڈیم میں 5500شائقین کرکٹ سٹیڈیم سے براہ راست کرکٹ کا نظارہ کر سکیں گے،ٹکٹوں کی قیمت 5سو سے5ہزار روپے تک ہے امید ہے یہی نرخ لاہور میں بھی ہوں گے،سول ایوی ایشن نے29برطانوی اور جنوبی افریقن کھلاڑیوں کو کورونا ٹیسٹ سے مستثنیٰ قرار دیا تھا،جو قطر،امارات اور اتحاد ائیر ویز سے پاکستان پہنچے،ICCنے پی ایس لیگ کے لئے اپنے امپائر پینل کے علیم ڈار،رچرڈبلنگ ورتھ اور مائیکل کف سمیت PCBپینل کے سات مقامی امپائرز کو اجازت دی ہے،ان میں آصف یعقوب،احسن رضا،فیصل خان آ فریدی،عمران جاوید،راشد ریاض،شوزب رضااور ضمیر حیدر شامل ہیں جبکہ دیگرمقامی امپائرز میں علی نقوی،محمد جاوید ملک،محمد انیس ٹورنامنٹ کے تمام میچوں میں ریفریز کے فرائض انجام دیں گے،علیم ڈار سب زیادہ بطورفیلڈ امپائر فرائض انجام دیں گے،لیگ میچز کے علاوہ دیگر میچوں کے آ فیشلز کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، سپر لیگ میں نامورملکی اور غیر ملکی کمنٹیٹرز ڈومینک کارک،جے پی ڈومینی،پومی امپینگو،ایلن ولکنز،بازید خان،رمیز راجہ،ثنا میر،عروج ممتازشامل ہیں اس سیزن میں بھی اردو کمنٹری ہو گی، ٹورنامنٹ کے 22میچز رات کو کھیلے جائیں گے جبکہ ایلیمنٹر،سیمی فائنل اور فائنل بھی رات کو ہی ہوں گے،زندہ دلان لاہور پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے اور فائنل کے بے تاب اور بے چین ہیں چند روز قبل گلبرگ کے لبرٹی چوک میں 12فٹ طویل ٹرافی کی ڈمی نصب کر دی گئی جس میں بابر اعظم،شان مسعود،شاہین شاہ آفریدی،سرفراز احمد،شاداب خان اور وہاب ریاض کی تصاویر کے علاوہ مینار پاکستان،باب خیبر،قائد اعظم کا مزار،زیارت ریذیڈنسی کے ماڈلز ہیں اس ڈمی ٹرافی کی رونمائی چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے کی،پی ایس ایل انتظامیہ نے اس سال بھی نجی کمپنی کے ساتھ مل کرہمارے ہیرو مہم کا آغاز کر دیا ہے یہ مہم گذشتہ سال متعارف کروائی گئی تھی جس میں کبڈی کے انعام بٹ،بانی اے سی اینیمل ایکو عائشہ چندریگر،کوہ پیما ں نزیر سلطان سمیت32ہیروز کی خدمات کو سراہا گیا تھا،اس سال تعلیم،ثقافت،صحٹ،آرٹ،موسقی،سماجی خدمات،کھیل،ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی خدمات کو سراہا جائے گا،

ایڈیٹرچیف نذر حسین کی زیر نگرانی آپ کی خدمت میں پیش ہے